قومی زبان

زمانہ کچھ بھی کہے تیری آرزو کر لوں

زمانہ کچھ بھی کہے تیری آرزو کر لوں شب سیاہ میں سورج کی جستجو کر لوں مرے خدا مجھے توفیق سرکشی دیدے خزاں ہے سامنے کچھ ذکر رنگ و بو کر لوں اگر ہو مجھ کو میسر کہیں سے کوئی کرن تو شب دریدہ ہے جو کچھ اسے رفو کر لوں جو آنکھ کھول دوں سن کر ضمیر کی دستک تو خود کو اپنی نظر میں میں سرخ رو کر ...

مزید پڑھیے

سمندر سے کسی لمحے بھی طغیانی نہیں جاتی

سمندر سے کسی لمحے بھی طغیانی نہیں جاتی مگر ساحل کو غم ہے خشک دامانی نہیں جاتی غنیمت ہے مری آنکھوں کی یہ سیال آتش بھی اسی سے میرے ذہن و دل کی تابانی نہیں جاتی سوا نیزے پہ سورج دیر تک رکنے نہیں پاتا مگر کیا ہے کہ تیری شعلہ افشانی نہیں جاتی صدائے خامشی دیتی ہے اب دستک در دل پر نہ ...

مزید پڑھیے

اے دل ترے طفیل جو مجھ پر ستم ہوئے

اے دل ترے طفیل جو مجھ پر ستم ہوئے پوچھے جو مجھ سے کوئی تو کہہ دوں کہ کم ہوئے میرے چراغ ذہن کو وہ گل نہ کر سکے حالانکہ سب اندھیرے مرے دل میں ضم ہوئے حرف غضب سے بھی ہمیں محروم کر دیا یوں بے نیاز ہم سے ہمارے صنم ہوئے ان کی زمین دل کا تو قصہ ہی اور ہے ورنہ ان آنسوؤں سے تو صحرا بھی نم ...

مزید پڑھیے

مجھے وہ کھیل تماشا دکھائی دیتا ہے

مجھے وہ کھیل تماشا دکھائی دیتا ہے کہیں بھی کوئی جو ہنستا دکھائی دیتا ہے کبھی چہکتی تھیں صدیاں یہاں مگر اب تو اک ایک لمحہ سسکتا دکھائی دیتا ہے ہر ایک قطرۂ شبنم کو اگتے سورج کی کرن کرن میں اندھیرا دکھائی دیتا ہے بجز ہمارے مداوا کوئی نہیں اس کا وہ ایک دشت جو تنہا دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

کبھی جو اس کی تمنا ذرا بپھر جائے

کبھی جو اس کی تمنا ذرا بپھر جائے نشہ پھر اس کی انا کا اتر اتر جائے چراغ شب میں تو جلنے کا حوصلہ ہی نہیں وہ چاہتا ہے کہ تہمت ہوا کے سر جائے زمیں پہ غلبۂ شیطاں فلک برائے ملک بشر غریب پریشاں کہ وہ کدھر جائے مری حیات کا سورج ہے سوئے غرب مگر محال ہے کہ مرا ذوق و شوق مر جائے چراغ ذہن ...

مزید پڑھیے

درد کی ساکت ندی پھر سے رواں ہونے کو ہے

درد کی ساکت ندی پھر سے رواں ہونے کو ہے موج حیرت کا تماشا اب کہاں ہونے کو ہے جو گراں بار سماعت تھا کبھی سب کے لیے اب وہی کلمہ یہاں حسن بیاں ہونے کو ہے کیوں کریں وہ اپنی قسمت کے ستارے کی تلاش دسترس میں جن کے سارا آسماں ہونے کو ہے مجھ کو اس منزل سے گزرے کتنی مدت ہو گئی وقت میری ...

مزید پڑھیے

کچھ تو مل جائے کہیں دیدۂ پر نم کے سوا

کچھ تو مل جائے کہیں دیدۂ پر نم کے سوا آنکھ سے ٹپکے وہی گریۂ ماتم کے سوا گلشن زیست میں موسم کا بدلنا کیا ہے کاش رک جائے کوئی درد کے موسم کے سوا صبح کا وقت ہے کرنوں کو بتا دے کوئی خوش ہیں گلشن میں سبھی قطرۂ شبنم کے سوا وہ زمانے کا تغیر ہو کہ موسم کا مزاج بے ضرر دونوں ہیں نیرنگی آدم ...

مزید پڑھیے

تلاطم ہے نہ جاں لیوا بھنور ہے

تلاطم ہے نہ جاں لیوا بھنور ہے کہ بہر مصلحت اب مستقر ہے در صیاد پر برپا ہے ماتم قفس میں جب سے ذکر بال و پر ہے تکلم کا کرشمہ اب دکھا دو تمہاری خامشی میں شور و شر ہے کروں کیا آرزوئے سرفرازی کہ جب نیزے پہ ہر پل میرا سر ہے ملی مہلت تو دل میں جھانک لوں گا ابھی تو ذہن پر میری نظر ...

مزید پڑھیے

گرچہ ظاہر میں ہیں احوال منور سارے

گرچہ ظاہر میں ہیں احوال منور سارے رقص کرتے ہیں اندھیرے مرے اندر سارے موجۂ درد بنا دے گا انہیں مثل صبا وہ جو پھرتے ہیں یہاں صورت صرصر سارے داغ دل میرے فروزاں ہیں زمیں پر ایسے چھپتے پھرتے ہیں فلک پر مہ و اختر سارے مرے دریائے سخن سے ہے علاقہ کیسا وہ تو پایاب ندی کے ہیں شناور ...

مزید پڑھیے

سچ کی خاطر سب کچھ کھویا کون لکھے گا

سچ کی خاطر سب کچھ کھویا کون لکھے گا میرا یہ بے کیف سا قصہ کون لکھے گا یوں تو ہر کاندھے پر اک چہرہ ہے لیکن کس کے پاس ہے اپنا چہرہ کون لکھے گا برف پگھل کر دریا تو طغیانی لائے کیوں چڑھتا ہے وقت کا دریا کون لکھے گا دشت نوردی کا قصہ تو سب لکھتے ہیں کس گھر میں ہے کتنا صحرا کون لکھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5048 سے 6203