دل ان کا ہے کچھ اور تو ہے ان کی زباں اور
دل ان کا ہے کچھ اور تو ہے ان کی زباں اور کرتا ہوں یقیں جتنا میں بڑھتا ہے گماں اور منزل کا جنوں ہے تو ہر اک گام ہے منزل مٹتا ہے نشاں اور کا تو ملتا ہے نشاں اور پروانے کے ماتم میں بجھی شمع یہ کہہ کر تیرے لیے حاضر ہے یہ تھوڑا سا دھواں اور پر درد جو دل میں انہیں روکو نہ فغاں سے ہوتے ...