قومی زبان

دل ان کا ہے کچھ اور تو ہے ان کی زباں اور

دل ان کا ہے کچھ اور تو ہے ان کی زباں اور کرتا ہوں یقیں جتنا میں بڑھتا ہے گماں اور منزل کا جنوں ہے تو ہر اک گام ہے منزل مٹتا ہے نشاں اور کا تو ملتا ہے نشاں اور پروانے کے ماتم میں بجھی شمع یہ کہہ کر تیرے لیے حاضر ہے یہ تھوڑا سا دھواں اور پر درد جو دل میں انہیں روکو نہ فغاں سے ہوتے ...

مزید پڑھیے

رہ گزر رہ گزر سے پوچھ لیا

رہ گزر رہ گزر سے پوچھ لیا تیرا گھر سب کے گھر سے پوچھ لیا جو زباں سے نہ کر سکے وہ بیاں ہم نے ان کی نظر سے پوچھ لیا گمرہی اور بڑھ گئی اپنی راستہ راہبر سے پوچھ لیا جب زمیں نے دیا نہ تیرا پتا ہم نے شمس و قمر سے پوچھ لیا تم نہ آؤ نہ آئے گی رونق ہم نے دیوار و در سے پوچھ لیا میری چپ کو وہ ...

مزید پڑھیے

بستر مرگ پر زندگی کی طلب

بستر مرگ پر زندگی کی طلب جیسے ظلمت میں ہو روشنی کی طلب کل تلک کمتری جن کی تقدیر تھی آج ان کو ہوئی برتری کی طلب عمر بھر اپنی پوجا کراتا رہا اب ہوئی اس کو بھی بندگی کی طلب چیختے تھے بہت ہم ہر اک بات پر ہو گئی اب مگر خامشی کی طلب پیاس دنیا کی جس نے بجھائی سدا اس سمندر کو ہے تشنگی کی ...

مزید پڑھیے

راہیں دھواں دھواں ہیں سفر گرد گرد ہے

راہیں دھواں دھواں ہیں سفر گرد گرد ہے یہ منزل مراد تو بس درد درد ہے اپنے پڑوسیوں کو بھی پہچانتا نہیں محصور اپنے خول میں اب فرد فرد ہے اس موسم بہار میں اے باغباں بتا چہرہ ہر ایک پھول کا کیوں زرد زرد ہے لفاظیوں کا گرم ہے بازار کس قدر دست عمل ہمارا مگر سرد سرد ہے کیسا تضاد شاخ ...

مزید پڑھیے

سینوں میں اگر ہوتی کچھ پیار کی گنجائش

سینوں میں اگر ہوتی کچھ پیار کی گنجائش ہاتھوں میں نکلتی کیوں تلوار کی گنجائش پچھڑے ہوئے گاؤں کا شاید ہے وہ باشندہ جو شہر میں ڈھونڈے ہے ایثار کی گنجائش نفرت کی تعصب کی یوں رکھی گئیں اینٹیں پیدا ہوئی ذہنوں میں دیوار کی گنجائش پاکیزگی روحوں کی نیلام ہوئی جب سے جسموں میں نکل آئی ...

مزید پڑھیے

سوچ کر مل ذرا توقف کر

سوچ کر مل ذرا توقف کر یوں نہ ہر ایک سے تعارف کر زندگی خرچ کرنے والے سن موت پر بھی تو کچھ تصرف کر دین انسانیت کے جوہر سے اے خدا ہم کو بھی مشرف کر حد میں رہ کر ہی بے تکلف ہو ہو نہ محسوس یوں تکلف کر جھوٹ گو کامران ہوتا ہے اپنے سچ پر نہ اب تأسف کر چھپ کے جو بیچتے ہیں ملت کو ایسے ...

مزید پڑھیے

جس میں ہو دوزخ کا ڈر کیا لطف اس جینے میں ہے

جس میں ہو دوزخ کا ڈر کیا لطف اس جینے میں ہے توبہ کرنے میں کہاں وہ جو مزا پینے میں ہے خشک باتوں میں کہاں اے شیخ کیف زندگی وہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے میں تری تحقیر کر سکتا نہیں اے ضبط شوق میرے سینے میں رہے گا راز جو سینے میں ہے عرشؔ پر دیکھا جو تو نے اے نگاہ دور بیں آ ...

مزید پڑھیے

مجھ سے اتنا نہ انحراف کرو

مجھ سے اتنا نہ انحراف کرو جو خطا ہو گئی معاف کرو میں خطاؤں کو مان لیتا ہوں تم محبت کا اعتراف کرو یہ کدورت نہیں تمہیں زیبا دل کو میری طرف سے صاف کرو فیصلہ تم پہ اب تو چھوڑ دیا میرے حق میں کرو خلاف کرو میری ہر بات میں ہے مجبوری میری ہر بات کو معاف کرو صاف ہے میرے دل کا آئینہ مجھ ...

مزید پڑھیے

تو اگر دل میں ایک بار آئے

تو اگر دل میں ایک بار آئے عمر بھر کے لئے قرار آئے آشیانہ ہی گلستاں میں نہیں اب خزاں آئے یا بہار آئے وہ نہ آئیں تو اے دم آخر لب پہ نام ان کا بار بار آئے موت نے آسرا دیا بھی تو کب جب مصیبت کے دن گزار آئے یاس کہتی ہے کچھ تمنا کچھ کس کی باتوں پہ اعتبار آئے یہ تو کچھ تلخ تھی مرے ...

مزید پڑھیے

کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو نہ کسی کے دل میں غبار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو یہ چلی ہے کیسی ہوا کہ اب نہیں کھلتے پھول ملاپ کے کبھی دور فصل بہار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو تھیں بہم نشاط کی محفلیں تھیں قدم میں لطف کی منزلیں بڑا زندگی پہ نکھار تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5031 سے 6203