خودی کا راز داں ہو کر خودی کی داستاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو کر خودی کی داستاں ہو جا جہاں سے کیا غرض تجھ کو تو آپ اپنا جہاں ہو جا بیان پایمالی شکوۂ برق تپاں ہو جا گلستان جہاں کے پتے پتے کی زباں ہو جا شریک کارواں ہونے کی گو طاقت نہیں تجھ میں مگر اتنی تو ہمت کر کہ گرد کارواں ہو جا تزلزل سے بری ہو تیرا استقلال الفت میں یقین ...