کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہے
کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہے رس بھری نرم سی لے جو تری آواز میں ہے گوش مشتاق کی خود ساختہ تفریق ہے یہ ورنہ جو ساز ہے باہر ہے وہی ساز میں ہے لے نہ ڈوبے کہیں خوش فہمیٔ ادراک تجھے نا خدائی تری پوشیدہ اسی راز میں ہے آپ ہی زندہ کریں مردہ تمناؤں کو قم بہ اذنی کا اثر آپ کی ...