قومی زبان

یہاں تو روز نیا اک کمال ہوتا ہے

یہاں تو روز نیا اک کمال ہوتا ہے جواب جس کا نہیں وہ سوال ہوتا ہے کچھ اپنے آپ میں خوش ہیں کچھ اپنے آپ میں گم ملال یہ ہے کہ ہم کو ملال ہوتا ہے تمہاری بات سے سب متفق ہوں نا ممکن ہر ایک شخص کا اپنا خیال ہوتا ہے امیر شہر کو اب تک یہی ہے خوش فہمی غریب شہر کا ماضی نہ حال ہوتا ہے اثر ...

مزید پڑھیے

ہم اپنے آپ پہ قابو جو پا گئے ہوتے

ہم اپنے آپ پہ قابو جو پا گئے ہوتے جو پل رہی ہے وہ نفرت مٹا گئے ہوتے بڑے سلیقے سے بانٹا ہے ہم فقیہوں کو ہم ایک ہوتے تو دنیا پہ چھا گئے ہوتے یہ بھوک پیاس ہمارے گھروں کی رونق تھی جو یاد رکھتے تو ہم گھر میں آ گئے ہوتے کسی کی تلخ کلامی معاف کر دیتے لگی ہے آگ جو گھر میں بجھا گئے ...

مزید پڑھیے

کوئی چہرہ نگاہوں میں نہیں ہے

کوئی چہرہ نگاہوں میں نہیں ہے کہوں کیسے وہ آہوں میں نہیں ہے مری قسمت میں یہ کیسا سفر ہے کوئی سایہ بھی راہوں میں نہیں ہے اگر کردار اب تک ہے سلامت کشش کیوں خانقاہوں میں نہیں ہے غریبوں کو سر آنکھوں پہ بٹھائیں یہ جذبہ عالی جاہوں میں نہیں ہے اثرؔ تم بات جس کی کر رہے ہو تمہارے خیر ...

مزید پڑھیے

بزرگوں نے جو تہذیبی اثاثہ گھر پہ رکھا ہے

بزرگوں نے جو تہذیبی اثاثہ گھر پہ رکھا ہے لگایا ہے اسے آنکھوں سے میں نے سر پہ رکھا ہے یہاں کا عہدہ‌ و منصب تو مال و زر پہ رکھا ہے مگر انصاف ہم نے عرصۂ محشر پہ رکھا ہے تمہارے راستے میں تیرگی مائل نہیں ہوگی چلے آؤ دیا ہم نے جلا کے در پہ رکھا ہے مجھے احساس تنہائی نہیں مانا کہ تنہا ...

مزید پڑھیے

دل عشق کی مے سے چھلک رہا ہے

دل عشق کی مے سے چھلک رہا ہے اک پھول ہے جو مہک رہا ہے آنکھیں کب کی برس چکی ہیں کوندا اب تک لپک رہا ہے اب آئے بہار یا نہ آئے آنکھوں سے لہو ٹپک رہا ہے ہے دور بہت زمان وعدہ اور دل ابھی سے دھڑک رہا ہے کس نے وحشی اثرؔ کو چھیڑا دیوار سے سر پٹک رہا ہے

مزید پڑھیے

حجاب رنگ و بو ہے اور میں ہوں

حجاب رنگ و بو ہے اور میں ہوں یہ دھوکا تھا کہ تو ہے اور میں ہوں مقام بے نیازی آ گیا ہے وہ جان آرزو ہے اور میں ہوں فریب شوق سے اکثر یہ سمجھا کہ وہ بیگانہ خو ہے اور میں ہوں کبھی سودا تھا تیری جستجو کا اب اپنی جستجو ہے اور میں ہوں کبھی دیکھا تھا اک خواب محبت اب اس کی آرزو ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

جب تک وہ شعلہ رو مرے پیش نظر نہ تھا

جب تک وہ شعلہ رو مرے پیش نظر نہ تھا میں آشنائے لذت سوز جگر نہ تھا اعزاز رنگ و بو سے نوازا گیا اسے جس گل کے سر پہ سایۂ شاخ شجر نہ تھا افسوس آپ سے نہ ہوا عزم التفات ورنہ مرا پہاڑ کی چوٹی پہ گھر نہ تھا جو آسماں کی جھیل میں چمکا تمام رات وہ تیرا عکس نقش قدم تھا قمر نہ تھا شبنم سے تر ...

مزید پڑھیے

ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں

ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں کہ اعتبار کے قابل تو زندگی بھی نہیں کروں میں خون تمنا کا کس لیے ماتم مرے لیے یہ مصیبت کوئی نئی بھی نہیں میں پھر بھی شام و سحر بے قرار رہتا ہوں اگرچہ گھر میں کسی چیز کی کمی بھی نہیں مجھے خبر ہے کہ انجام وصل کیا ہوگا اسی لیے ترے ملنے کی کچھ خوشی ...

مزید پڑھیے

جو بزم دہر میں کل تک تھے خود سروں کی طرح

جو بزم دہر میں کل تک تھے خود سروں کی طرح بکھر گئے ہیں وہ ٹوٹے ہوئے پروں کی طرح شکستہ روح ہے جسموں کے گنبدوں میں اسیر ہیں میرے دور کے انسان مقبروں کی طرح ڈرو تم ان سے کہ وہ راز دار طوفاں ہیں جو ایک عمر سے چپ ہیں سمندروں کی طرح پڑا جو وقت تو وہ پھر نظر نہیں آئے یقیں کریں کہ جو ملتے ...

مزید پڑھیے

کوئی دل جوئی نہیں تھی کوئی شنوائی نہ تھی

کوئی دل جوئی نہیں تھی کوئی شنوائی نہ تھی جیسے اہل شہر سے میری شناسائی نہ تھی مجھ کو اک چپ چاپ سے چہرے نے زخمی کر دیا میں نے ایسی چوٹ ساری زندگی کھائی نہ تھی غور سے دیکھیں تو ہے یادوں کے رنگوں کا کمال اس قدر دل کش کبھی تصویر تنہائی نہ تھی کر دیا جس نے مجھے پھر زندگی سے ہمکنار تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5014 سے 6203