قومی زبان

آہ سے جب دل میں ڈوبے تیر ابھارے جائیں گے

آہ سے جب دل میں ڈوبے تیر ابھارے جائیں گے دیکھ لینا دور تک اڑ کر شرارے جائیں گے موج طوفاں کو جنہوں نے چیرنا سیکھا نہیں اس کنارے سے بھلا کیا اس کنارے جائیں گے اتنی ہی رنگین ہوتی جائے گی اپنی نظر جس قدر تیرے تصور کو سنوارے جائیں گے کچھ نہ کچھ ہو ہی رہے گا درد مندی کا مآل جان کے ...

مزید پڑھیے

نگہ شوق کو یوں آئنہ سامانی دے

نگہ شوق کو یوں آئنہ سامانی دے عشق کو حسن بنا حسن کو حیرانی دے دل نوازی میں بھی ایذا ہے محبت کی قسم تجھ کو فرصت جو کبھی شغل ستم رانی دے کچھ تری چشم سخن ساز کا ایما نہ کھلا لب مے نوش کو تکلیف گل افشانی دے پھول وہ ہے جو میسر چڑھے یہ سنتا تھا اب کھلا دل کی رہ عشق میں قربانی دے آئنہ ...

مزید پڑھیے

نوید وصل یار آئے نہ آئے

نوید وصل یار آئے نہ آئے برابر ہے بہار آئے نہ آئے تجھے کرنا ہے جو کچھ آج کر لے کہ پھر یہ روزگار آئے نہ آئے کئے جا درد دل اے نامرادی کسی کو اعتبار آئے نہ آئے کوئی پرساں نہ ہو جب حال بد کا تمنا سوگوار آئے نہ آئے جو وہ بالفرض ہو پرسش پہ مائل دل بسمل قرار آئے نہ آئے ستم سے جب تلافی ...

مزید پڑھیے

صحرا سے چلے ہیں سوئے گلشن

صحرا سے چلے ہیں سوئے گلشن خونیں جگران چاک دامن پیغام بہار دے رہی ہے داغوں کی جھلک دلوں کی الجھن رقصاں ہے نسیم برگ گل پر شبنم میں ہے گھنگھروؤں کی چھن چھن غنچوں کے بدن میں سنسنی ہے مستی میں چھوا صبا نے دامن دل کش نہ ہو کیوں کلام اثرؔ کا سیکھا ہے یہ اس نے میرؔ سے فن

مزید پڑھیے

جھپکی ذرا جو آنکھ جوانی گزر گئی

جھپکی ذرا جو آنکھ جوانی گزر گئی بدلی کی چھاؤں تھی ادھر آئی ادھر گئی مشاطۂ بہار عجب گل کتر گئی منہ بند جو کلی تھی کھلی اور سنور گئی پیش جمال یار کرن آفتاب کی شرما کے چاہتی تھی کہ پلٹے بکھر گئی مل کے بھبھوت چہرے پہ تاروں کی چھاؤں کا دھونی رمائے در پہ یہ کس کے سحر گئی کیا جانے ...

مزید پڑھیے

تقدیر ہو خراب تو تدبیر کیا کرے

تقدیر ہو خراب تو تدبیر کیا کرے ہاتھوں میں دم اگر نہیں شمشیر کیا کرے مجھ کو اندھیروں میں ہی بھٹکنا ہے عمر بھر جب آنکھ ہی نہیں ہے تو تنویر کیا کرے آزاد ہو گیا ہے وہ دنیا کی قید سے اس کا بلاوا آیا تو زنجیر کیا کرے دولت ہے میرے ہاتھ میں دل کو سکوں نہیں چین اور قرار کے لئے جاگیر کیا ...

مزید پڑھیے

دل کی بازی لگا کے دیکھ لیا

دل کی بازی لگا کے دیکھ لیا زندگی کو لٹا کے دیکھ لیا بے وفائی کا درد کیسا ہے ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا راہ آساں نہیں ہے الفت کی پاؤں ہم نے بڑھا کے دیکھ لیا ہے کسک کتنی دل لگانے میں دل کی دنیا بسا کے دیکھ لیا کیا حقیقت ہے زندگی کی ارونؔ ناز ان کے اٹھا کے دیکھ لیا

مزید پڑھیے

آنکھ ان سے مری ملی تھی کبھی

آنکھ ان سے مری ملی تھی کبھی دل میں اک آگ سی لگی تھی کبھی یاد ہے رات وہ حسیں اپنی آنکھوں آنکھوں میں جو ڈھلی تھی کبھی بارہا میرا آنا جانا تھا یہ مرے یار کی گلی تھی کبھی دل کے اس باغ میں گلاب کی وہ ایک تازہ کلی کھلی تھی کبھی اس کو اک دن تو گر ہی جانا تھا کچی دیوار جو بنی تھی ...

مزید پڑھیے

چوٹ دل پر لگے اور آہ زباں سے نکلے

چوٹ دل پر لگے اور آہ زباں سے نکلے درد اٹھے ہے کہاں اور کہاں سے نکلے پیار ہے اس کو اگر مجھ سے تو انجام یہ ہو گھر جلے میرا دھواں اس کے مکاں سے نکلے سی لیا ہم نے تو الفت میں لبوں کو اپنے اب کسی درد کی آواز کہاں سے نکلے مجھ کو مرنے کا نہیں خوف تمنا یہ ہے روح محبوب کی بانہوں میں یہاں سے ...

مزید پڑھیے

جو بجھ گئے تھے چراغ پھر سے جلا رہا ہے

جو بجھ گئے تھے چراغ پھر سے جلا رہا ہے یہ کون دل کے کواڑ پھر کھٹکھٹا رہا ہے مہیب قحط الرجال میں بھی خیال تیرا نئے مناظر نئے شگوفے کھلا رہا ہے وہ گیت جس میں تری کہانی سمٹ گئی تھی اسے نئی طرز میں کوئی گنگنا رہا ہے میں وسعتوں سے بچھڑ کے تنہا نہ جی سکوں گا مجھے نہ روکو مجھے سمندر بلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5013 سے 6203