نہ وہ خوشبو ہے گلوں میں نہ خلش خاروں میں
نہ وہ خوشبو ہے گلوں میں نہ خلش خاروں میں اک ترے آتے ہی خاک اڑ گئی گلزاروں میں چشم و ابرو و مژہ یار کی ہیں درپئے جاں ایک دل گھر گیا ہے اتنے دل آزاروں میں مرض ہجر سے بچتا نہیں بے داروئے وصل ہے یہ آزار بڑا عشق کے آزاروں میں تجھ کو زیبندہ ہے کیا سادگی اور رنگینی ایک طرحدار ہے تو لاکھ ...