قومی زبان

نہ وہ خوشبو ہے گلوں میں نہ خلش خاروں میں

نہ وہ خوشبو ہے گلوں میں نہ خلش خاروں میں اک ترے آتے ہی خاک اڑ گئی گلزاروں میں چشم و ابرو و مژہ یار کی ہیں درپئے جاں ایک دل گھر گیا ہے اتنے دل آزاروں میں مرض ہجر سے بچتا نہیں بے داروئے وصل ہے یہ آزار بڑا عشق کے آزاروں میں تجھ کو زیبندہ ہے کیا سادگی اور رنگینی ایک طرحدار ہے تو لاکھ ...

مزید پڑھیے

پرتو پڑا جو عارض گلگون یار کا

پرتو پڑا جو عارض گلگون یار کا اٹھا تنور لالہ سے طوفاں بہار کا ہم چشم لالہ ہے جو دل داغدار کا نرگس کو ہم سا عارضہ ہے انتظار کا لکھتا ہے وصف شعلۂ رخسار یار کا جائے ورق ہو ہاتھ میں پتا چنار کا بیمار عشق ہوں لب و دندان یار کا نسخے میں میرے چاہئے شربت انار کا رشتے کی طرح سے در ...

مزید پڑھیے

مدعا کچھ بھی ہو لیکن مدعا رکھا کرو

مدعا کچھ بھی ہو لیکن مدعا رکھا کرو جذبۂ تعمیر سے بھی واسطہ رکھا کرو زندگی کے راستے میں ہیں ہزاروں ٹھوکریں آبلہ پائی سلامت جو صلہ رکھا کرو مل ہی جاتے ہیں یہ اکثر زندگی کی موڑ پر اجنبی چہروں سے خود کو آشنا رکھا کرو دیکھنا شعلہ بیانی بھی ادا بن جائے گی تلخیٔ اظہار میں حسن ادا ...

مزید پڑھیے

اب کوئی بات بڑھانے کی ضرورت نہ رہی

اب کوئی بات بڑھانے کی ضرورت نہ رہی حال دل ان کو سنانے کی ضرورت نہ رہی مسئلے ہو گئے بے رخ ہی سیاست کے شکار کوئی آواز اٹھانے کی ضرورت نہ رہی قافلے درد کے خود دل سے گزر جاتے ہیں راستے ان کو دکھانے کی ضرورت نہ رہی وقت وہ ہے کہ ہوئے دونوں انا سے سرشار زندگی ساتھ نبھانے کی ضرورت نہ ...

مزید پڑھیے

یہ مانا حوادث کے دھارے بہت ہیں

یہ مانا حوادث کے دھارے بہت ہیں اگر حوصلہ ہے کنارے بہت ہیں رہ زندگی میں چلو تم سنبھل کر سمے کے طمانچے کرارے بہت ہیں تلاطم میں خود کھو گئے تم ہی ورنہ کنارے تو تم کو پکارے بہت ہیں نکل کر اندھیروں کے ملبوس سے دیکھو یہاں روشنی کے منارے بہت ہیں کہیں یہ جلا دیں نہ چلمن کو تیری مری ...

مزید پڑھیے

لگی ہے گشت کرنے یہ خبر آہستہ آہستہ

لگی ہے گشت کرنے یہ خبر آہستہ آہستہ کمر کسنے لگا ہے فتنہ گر آہستہ آہستہ کتر ڈالو اسے جتنا بھی تم سونے کی قینچی سے پرندے کا نکل آتا ہے پر آہستہ آہستہ ڈبو کر منچلی کشتی کو موجوں نے کہا ہنس کر کیا جاتا ہے پانی میں سفر آہستہ آہستہ طلسمی بانسری نادان بچوں کو نہ دینا تم اجڑ جائے گا ...

مزید پڑھیے

نظام جہاں بھی عجب ہے نرالا

نظام جہاں بھی عجب ہے نرالا اندھیروں سے ڈرنے لگا ہے اجالا وہ فٹ پاتھ پر اپنا فن بیچتا تھا ستم گر جہاں نے اسے روند ڈالا انا سے کہاں کس کو مکتی ملی ہے ہے مضبوط کتنا یہ مکڑی کا جالا یہی وہ غریبی کی گلیاں ہیں یارو جہاں روز بکتا ہے عزت کا پیالہ یہ فرقہ پرستی کا منحوس بندر اثرؔ توڑ ...

مزید پڑھیے

سوجھی تدبیر نہ کچھ رنج و بلا سے پہلے

سوجھی تدبیر نہ کچھ رنج و بلا سے پہلے زندگی چھوڑ گئی ساتھ قضا سے پہلے یہ سلگتا ہوا افلاس کا چڑھتا سورج مار ڈالے نہ کہیں گرم ہوا سے پہلے آسماں پر بھی پہنچنا کوئی دشوار نہیں چاہیے دل میں تڑپ حرف دعا سے پہلے راکھ کے ڈھیر تمہیں اس کی گواہی دیں گے مجھ کو اپنوں نے جلایا چتا سے ...

مزید پڑھیے

اپنی نظریں در و دیوار پر اکثر رکھنا

اپنی نظریں در و دیوار پر اکثر رکھنا اجنبی گھر میں قدم سوچ سمجھ کر رکھنا کہیں پھٹ جائے کلیجہ نہ وفور غم سے اپنی پلکوں میں چھپا کر نہ سمندر رکھنا اتنا آسان نہیں ان کو بھلانا دل سے سوچ کر اپنے کلیجے پہ یہ پتھر رکھنا یاد آتا ہے وہ منظر ترے افسانے کا اپنے محبوب کو دشمن کے برابر ...

مزید پڑھیے

گر دل میں کر کے سیر دل داغدار دیکھ

گر دل میں کر کے سیر دل داغدار دیکھ اے جان خانہ باغ کی آ کر بہار دیکھ پچھتائے گا جو ہاتھ سے تو کھوئے گا ہمیں ہم تجھ سے صاف کہتے ہیں او بد شعار دیکھ میں کیا وہاں پہ گور تجھے دے ابھی جواب تربت پہ میری آ کے ذرا تو پکار دیکھ باہر ہوں اپنے جامے سے گل بلبلیں تو کیا گلشن میں امتحان کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4999 سے 6203