قومی زبان

گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں

گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں دیکھ کے جن کو نیند آ جائے وہ متوالی آنکھیں ہیں منہ سے پلا کیا سرکانا اس بادل میں بجلی ہے سوجھتی ہے ایسی ہی نہیں جو پھوٹنے والی آنکھیں ہیں چاہ نے اندھا کر رکھا ہے اور نہیں تو دیکھنے میں آنکھیں آنکھیں سب ہیں برابر کون نرالی آنکھیں ...

مزید پڑھیے

آئیں گے وہ تو آپ میں ہرگز نہ آئیں گے

آئیں گے وہ تو آپ میں ہرگز نہ آئیں گے ہم اپنی بے خودی کے تماشے دکھائیں گے ہم نقد دل جو سینے میں اپنے نہ پائیں گے دزد نگاہ یار کو چوری لگائیں گے اے بے خودی جو آپ میں ہم اب کی آئیں گے پھر دل لگی سے بھی نہیں دل کو لگائیں گے جب سوئے دشت آپ کے دیوانے جائیں گے فرہاد و قیس دور تلک لینے ...

مزید پڑھیے

رگ و پے میں بھرا ہے میرے شور اس کی محبت کا

رگ و پے میں بھرا ہے میرے شور اس کی محبت کا نمک پرور وہ ہوں میں یار کے حسن و ملاحت کا بنانے سے مرے بگڑا یہ رنگ ان کی طبیعت کا مجھی سے ہے پری زادوں کو دعوے آدمیت کا خریداریٔ جنس حسن پر رغبت دلاتا ہے بنا ہے شوق دل دلال بازار محبت کا صدائے آہ ہے مضراب غم کی چھیڑ سے پیدا دل نالاں نیا ...

مزید پڑھیے

بھری ہوئی ہے دل زار میں ہوائے قفس

بھری ہوئی ہے دل زار میں ہوائے قفس چمن میں جی نہ لگے گا کہیں سوائے قفس ترے اسیر ستم ہیں یہ مبتلائے قفس کبھی نہ دیکھیں سوئے آشیاں سوائے قفس گیا نہ خار اسیری کا دل سے تا دم مرگ ہزار پھولوں کے صیاد نے بنائے قفس اسیر ہو کے چھٹے فکر آب و دانہ سے زیادہ کیوں نہ گلستاں سے ہم کو بھائے ...

مزید پڑھیے

عارض میں تمہارے کیا صفا ہے

عارض میں تمہارے کیا صفا ہے منہ آئنہ اپنا دیکھتا ہے دنبالہ جو سرمے کا بنا ہے یہ تیغ نگہ کا پر تلا ہے بیمار جو تیری چشم کا ہے نرگس پہ کب آنکھ ڈالتا ہے دو لاکھ فریب حضرت عشق بندہ نہ کہے گا بت خدا ہے سب کہتے ہیں جس کو ماہ کامل نقشہ کف پائے یار کا ہے گردش میں ہے چشم زیر ابرو کیا ...

مزید پڑھیے

پنہاں تھا خوش نگاہوں کی دیدار کا مرض

پنہاں تھا خوش نگاہوں کی دیدار کا مرض بند آنکھ جب ہوئی تو ہمارا کھلا مرض بے دار و وصال نہ یہ جائے گا مرض سچ ہے فراق یار کا ہے جاں گزا مرض کیا بد بلا ہے عشق کہن سال کا مرض ہوتا ہے نوجوان کو یہ بارہا مرض مہلک تھا کیسا ان کی ملاقات کا مرض بڑھتے ہی ان سے ربط مرا گھٹ گیا مرض کیا جانیں ...

مزید پڑھیے

وعدہ خلاف کتنے ہیں اے رشک ماہ آپ

وعدہ خلاف کتنے ہیں اے رشک ماہ آپ سچ تو یہ ہے کہ جھوٹوں کے ہیں بادشاہ آپ دفتر سیاہ کرتے ہیں کیوں کاتب عمل ہوں مغرب گناہوں کا میں رو سیاہ آپ ہم سے تو دل میں آپ کے اب تک نہ گھر ہوا کر لیتے ہیں دلوں میں یہ کس طرح راہ آپ یہ گہہ بھی کفش خانہ ہے آخر حضور کا تشریف یاں بھی لایا کریں گاہ گاہ ...

مزید پڑھیے

عاشق گیسو و قد تیرے گنہ گار ہیں سب

عاشق گیسو و قد تیرے گنہ گار ہیں سب مستحق دار کے پھانسی کے سزاوار ہیں سب پاس اطبا کو ہے مایوس پرستار ہیں سب تیرے بیمار محبت کے بد آثار ہیں سب دل دہی کے بھی نہیں طرز سے واقف اصلا یہ حسینان جہاں نام کو دل دار ہیں سب اب یہ صورت ہے محبت میں تمہاری اے جان اپنے بیگانے مری شکل سے بیزار ...

مزید پڑھیے

بے زبانوں کو بھی گویائی سکھانا چاہئے

بے زبانوں کو بھی گویائی سکھانا چاہئے کلمہ انگشت شہادت کو پڑھانا چاہئے خال رخسار منور کا دکھانا چاہئے چاند میں اے مہروش دھبا لگانا چاہئے تیل میری آنکھ کے تل کا لگانا چاہئے گیسوؤں میں پنجۂ مژگاں کا شانہ چاہئے بہر زینت دامن شمشیر میں او جنگجو میری گردن کا تجھے پٹھا لگانا ...

مزید پڑھیے

بت پرستی نے کیا عاشق یزداں مجھ کو

بت پرستی نے کیا عاشق یزداں مجھ کو پردۂ کفر میں حاصل ہوا ایماں مجھ کو جب تلک زلف رخ یار کا دیوانہ رہا پیر سمجھا کئے ہندو و مسلماں مجھ کو چاہئے پیرہن دامن تیغ او قاتل تیرے خنجر کا ہے درکار گریباں مجھ کو اب درندازی اغیار نہیں چل سکتی خوب پہچانتے ہیں یار کے درباں مجھ کو شرم ایذا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4998 سے 6203