جنوں برسائے پتھر آسماں نے مزرع جاں پر
جنوں برسائے پتھر آسماں نے مزرع جاں پر جفائے پیر سبقت لے گئی بیداد طفلاں پر لگایا عطر جب ہم نے لب رنگین جاناں پر تو گویا تیل چھڑکا آتش لعل بدخشاں پر نہیں یہ معجزہ موقوف کچھ موسیٔ عمراں پر پیالے ہیں ید بیضا کف پر نور مستاں پر کبھی چلتی نہیں باد بہاری اپنے گلشن میں وہ بلبل ہوں کہ ...