قومی زبان

جنوں برسائے پتھر آسماں نے مزرع جاں پر

جنوں برسائے پتھر آسماں نے مزرع جاں پر جفائے پیر سبقت لے گئی بیداد طفلاں پر لگایا عطر جب ہم نے لب رنگین جاناں پر تو گویا تیل چھڑکا آتش لعل بدخشاں پر نہیں یہ معجزہ موقوف کچھ موسیٔ عمراں پر پیالے ہیں ید بیضا کف پر نور مستاں پر کبھی چلتی نہیں باد بہاری اپنے گلشن میں وہ بلبل ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

جو ساقیا تو نے پی کے ہم کو دیا ہے جام شراب آدھا

جو ساقیا تو نے پی کے ہم کو دیا ہے جام شراب آدھا تو اپنے دانتوں سے کاٹ کر دے ہمارے منہ میں کباب آدھا وہ پر گنہ ہوں کہ رہ گئے سب اسی میں دن کٹ گیا وہ سارا ہنوز محشر کے محکمے میں ہوا تھا میرا حساب آدھا کہاں گئی اب وہ لن ترانی نہ تاب جلوے کی لائے عاشق ہنوز کھولا تھا بہر دیدار اس نے بند ...

مزید پڑھیے

بت پرستی نے کیا عاشق یزداں مجھ کو

بت پرستی نے کیا عاشق یزداں مجھ کو پردۂ کفر میں حاصل ہوا ایماں مجھ کو اب در اندازیٔ اغیار نہیں چل سکتی خوب پہچانتے ہیں یار کے درباں مجھ کو خال رخ خضر رہ کفر نہ ہوتا جو ترا دام میں لا ہی چکے تھے یہ مسلماں مجھ کو جس میں کچھ ہوتی ہے امید وصال معشوق اتنی کھلتی نہیں وو گردش دوراں مجھ ...

مزید پڑھیے

ملتا ہے قید غم میں بھی لطف فضاۓ باغ

ملتا ہے قید غم میں بھی لطف فضاۓ باغ چاک قفس سے آتی ہے فرفر ہوائے باغ روکے زباں نہ بلبل بستاں سراۓ باغ دہرائے پھر مرے سے کہو ماجرائے باغ سنتے ہیں اب کی آئی ہے کس دھوم سے بہار کیا جی پھڑک رہا ہے قفس میں برائے باغ کن چہچہوں میں اپنی بسر ہوتی تھی مدام اے ہم صفیر کیا ہو بیاں ...

مزید پڑھیے

یہ جی میں آتا ہے جل جل کے ہر زماں ناصح

یہ جی میں آتا ہے جل جل کے ہر زماں ناصح کہ آگ لے کے جلا دوں تری زباں ناصح نہ منع عشق مجازی سے کر مجھے ناداں یہی ہے بام حقیقت کی نردباں ناصح میں ترک عشق کمر یک بیک کروں کیوں کر سمجھ کے مجھ کو نصیحت کرو میاں ناصح ذلیل ہوگا تو اک روز پند بے جا سے تجھے خراب کرے گی تری زباں ناصح خدا کے ...

مزید پڑھیے

دل ان کو دیا تھا نہ دل آزار سمجھ کر

دل ان کو دیا تھا نہ دل آزار سمجھ کر ہم پھنس گئے دھوکے میں وفادار سمجھ کر خورشید کرے گا رخ ادھر بہر تماشا محشر کو ترے گرمئ بازار سمجھ کر اے کبک بہت کھا چکے ہیں ٹھوکریں ہر گام چلنا تو مرے یار کی رفتار سمجھ کر تاریکی مرقد سے نہ گھبراتا میں لیکن خوف آ گیا فرقت کی شب تار سمجھ کر وہ ...

مزید پڑھیے

پرتو رخ کا ترے دل میں گزر رہتا ہے

پرتو رخ کا ترے دل میں گزر رہتا ہے ساتھ آئینے کے آئینے کا گھر رہتا ہے آج کل جوش پہ یہ دیدۂ تر رہتا ہے مردم شہر کو طوفان کا ڈر رہتا ہے قتل عشاق انہیں مد نظر رہتا ہے نیمچہ آٹھ پہر زیب کمر رہتا ہے سوز الفت کا ہے پروانہ دل بزم اپنا یہ وہ پنبہ ہے نہاں جس میں شرر رہتا ہے بزم الفت میں ...

مزید پڑھیے

سیر کرتے اسے دیکھا ہے جو بازاروں میں

سیر کرتے اسے دیکھا ہے جو بازاروں میں مشورے ہوتے ہیں یوسف کے خریداروں میں چاہتے ہیں کہ کوئی غیرت یوسف پھنس جائے کس قدر کھوٹے کھرے بنتے ہیں بازاروں میں دو قدم چل کے جو تو چال دکھا دے اپنی ٹھوکریں کھاتے پھریں کبک بھی کہساروں میں خون عشاق سے لازم ہے یہ پرہیز کریں کہ شمار آپ کی ...

مزید پڑھیے

نہیں چمکے یہ ہنسنے میں تمہارے دانت انجم سے

نہیں چمکے یہ ہنسنے میں تمہارے دانت انجم سے نکل آئی تڑپ کر برق آغوش تبسم سے کرو تم مجھ سے باتیں اور میں باتیں کروں تم سے کلیم اللہ ہو جاؤں میں اعجاز تکلم سے صدائے لن ترانی آتی ہے ان کے تکلم سے گرا دیں طور دل پر صاعقہ برق تبسم سے فلک کو وجد ہوگا اے پری تیرے تبسم سے اتر آئے گی زہرہ ...

مزید پڑھیے

بولے گا کون عاشق نادار کی طرف

بولے گا کون عاشق نادار کی طرف سارا زمانہ آج تو ہے یار کی طرف جن آنکھ سے لیا تھا دل اب وہ رہی نہ آنکھ حیرت سے دیکھتا ہوں رخ یار کی طرف درباں کبھی جو روکے وہ نازک مزاج ہیں منہ کر کے سوئیں ہم نہ در یار کی طرف ہارے ہوئے ہو بوسوں کا کر لو ابھی حساب فاضل ہے کچھ ہمارا ہی سرکار کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5000 سے 6203