قومی زبان

ہماری آنکھ میں پانی نہیں ہے

ہماری آنکھ میں پانی نہیں ہے یہ صحرائی ہے بارانی نہیں ہے یہاں جینا ذرا دشوار ہوگا یہاں مرنے کی آسانی نہیں ہے اگر اس کا کوئی ثانی نہیں ہے تو پھر یہ کم پریشانی نہیں ہے ہمیں آرام آتا بھی تو کیسے ہماری چوٹ جسمانی نہیں ہے نہیں ممکن مرا آباد ہونا کہ ویرانی سی ویرانی نہیں ہے تجھے سن ...

مزید پڑھیے

میں بڑھاتا جا رہا تھا اس لیے دفتر کی بات

میں بڑھاتا جا رہا تھا اس لیے دفتر کی بات بیچ چوراہے میں لائی جا رہی تھی گھر کی بات اب تو اپنی گفتگو ہوتی ہے اس سے اس طرح جیسے اک ماتحت سے ہوتی ہے اک افسر کی بات عالم موجود سے باہر نکل کے سوچیے گنبد بے در کی باتیں اور پس منظر کی بات شاعری نے بات کہنے کی سہولت دی مجھے ورنہ میں باہر ...

مزید پڑھیے

مقام ذات کیا ہے لن ترانی کس کو کہتے ہیں

مقام ذات کیا ہے لن ترانی کس کو کہتے ہیں خدا ہی جانتا ہے دید بانی کس کو کہتے ہیں بنا جب میں ثنا خوان محمد تو کھلا مجھ پر کرم شفقت عنایت مہربانی کس کو کہتے حسین ابن علی نے اہل مکتب کو بتایا ہے سناں کی نوک پر قرآن خوانی کس کو کہتے ہیں اگر دریا سے ہی اس کی وضاحت ہو نہیں پائی تو پیاسا ...

مزید پڑھیے

تمہاری بستی میں کارخانہ لگا ہوا ہے

تمہاری بستی میں کارخانہ لگا ہوا ہے ہمارے جیسوں کا آب و دانہ لگا ہوا ہے یہاں کوئی چیز بھی نہیں ہو رہی ہے تعمیر یہ سب عبث توڑنا بنانا لگا ہوا ہے مری روش تو زمانے سے تھوڑی مختلف ہے مرے تعاقب میں کیوں زمانہ لگا ہوا ہے اک ایسے گھوڑے کی باگ ہاتھوں میں دی گئی ہے جسے مقدر کا تازیانہ ...

مزید پڑھیے

دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا

دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا آسان کام آپ نے مشکل بنا دیا ہر سانس ایک شعلہ ہے ہر شعلہ ایک برق کیا تو نے مجھ کو اے تپش دل بنا دیا اس حسن ظن پہ ہم سفروں کے ہوں پا بہ گل مجھ بے خبر کو رہبر منزل بنا دیا اندھا ہے شوق پھر نظر امکان پر ہو کیوں کام اپنا دل نے آپ ہی مشکل بنا دیا دوڑا ...

مزید پڑھیے

جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں

جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں دروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں آشوب جدائی کیا کہیے ان ہونی باتیں ہوتی ہیں آنکھوں میں اندھیرا چھاتا ہے جب اجالی راتیں ہوتی ہیں جب وہ نہیں ہوتے پہلو میں اور لمبی راتیں ہوتی ہیں یاد آ کے ستاتی رہتی ہے اور ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا

نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا نہ کوئی حسن تھا نہ کوئی عشق تھا نہ یہی نام تھا نہ وہی نام تھا نہ کوئی تھا مکیں نہ کوئی تھا مکاں نہ کوئی تھی زمیں نہ کوئی تھا زماں نہ کوئی شرق تھا نہ کوئی غرب تھا نہ دم صبح تھا نہ سر شام تھا ازل لایزل ابد بے بدل جو بنے آج کل ...

مزید پڑھیے

قومی گیت

اے ماں اے ماں تجھ کو سلام بھارت ماتا کو پرنام تو تو کیسی پیاری ماں ہے سب ماؤں سے اچھی ماں ہے لاڈ اٹھانے والی ماں ہے اپنی ماں ہے اپنی ماں ہے ماتا کو پرنام اے ماں اے ماں تجھ کو سلام تیری مانگ میں گنگا جل ہے بھرا پرا تیرا آنچل ہے ہریالی ہے پھول ہے پھل ہے تیری گود سکھ منڈل ہے ماتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4991 سے 6203