اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے
اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے سوتی قسمت کو کر کے بیدار گئے اتنے ہوئے تھک کے شل کہ پھر اٹھ نہ سکے ہمت نہیں ہاری جان تک ہار گئے
اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے سوتی قسمت کو کر کے بیدار گئے اتنے ہوئے تھک کے شل کہ پھر اٹھ نہ سکے ہمت نہیں ہاری جان تک ہار گئے
تو نے اے انقلاب کیا خلق کیا الٹا ہوا جو نکتہ نیا خلق کیا جب کہتا تھا بندوں کا خدا خالق ہے اب کہتا ہے بندوں نے خدا خلق کیا
تو کہتا ہے خالق شر و خیر نہیں میں کہتا ہوں خالی حرم و دیر نہیں سچ ہے ترا کہنا تو مجھے کچھ نہیں خوف سچ ہے مرا کہنا تو تری خیر نہیں
تمہارے جمپروں پر ساڑھیوں پر اور غراروں پر لٹے جاتے ہیں دل والے کئی سلمیٰ ستاروں پر الیکشن اب بھلا کیسے لڑیں گے ہم رقیبوں سے کمائی تو اڑا ڈالی ہے ساری اشتہاروں پر پھسل کر رہ گئے ہیں ناگہاں کیلے کے چھلکے سے کمندیں ڈالنے گھر سے چلے تھے چاند تاروں پر برا انگریز کو کہتا ہوں پٹتا ...
میں خاک چھانتا ہوں آفتاب دیکھتا ہوں حریم دشت میں خوشبو کے خواب دیکھتا ہوں حصار غیر میں رہتا ہے یہ مکان وجود میں خلوتوں میں بھی اکثر عذاب دیکھتا ہوں یہ کیا کہ عہد بہاراں میں ہر شجر بے برگ یہ کیا کہ فصل خزاں میں گلاب دیکھتا ہوں مرے خیال میں کھلنے لگے ہیں زخم فراق تمہارے لطف و ...
نئے موسم کی بشارت ہیں ہم بزم امکان کی زینت ہیں ہم ہم سے کیا آنکھ ملائیں مہ و مہر ذرۂ خاک کی عظمت ہیں ہم ہم سے سیراب ہوا قریۂ حسن چشم بے تاب کی فطرت ہیں ہم اپنا کیا ہے کہ رہے یا نہ رہے ہاں مگر تیری ضرورت ہیں ہم دسترس میں ہے جہان صحرا اہل دل اہل محبت ہیں ہم دھیان میں رہتا ہے وہ ...
ہم جنوں پیشہ کہ رہتے تھے تری ذات میں گم ہو گئے سلسلۂ گردش حالات میں گم عرصۂ وصل میں بھی حرف تمنا نہ کھلا حسن الہام رہا پردۂ آیات میں گم عقل انگشت بدنداں ہے نظر حیراں ہے کون سی چیز ہوئی ارض و سماوات میں گم کتنے کنعان ہوئے خواب زلیخا میں اسیر کتنے یعقوب رہے ہجر کے صدمات میں ...
جب زندگی سکون سے محروم ہو گئی ان کی نگاہ اور بھی معصوم ہو گئی حالات نے کسی سے جدا کر دیا مجھے اب زندگی سے زندگی محروم ہو گئی قلب و ضمیر بے حس و بے جان ہو گئے دنیا خلوص و درد سے محروم ہو گئی ان کی نظر کے کوئی اشارے نہ پا سکا میرے جنوں کی چاروں طرف دھوم ہو گئی کچھ اس طرح سے وقت نے ...
کچھ بھی ہو وہ اب دل سے جدا ہو نہیں سکتے ہم مجرم توہین وفا ہو نہیں سکتے اے موج حوادث تجھے معلوم نہیں کیا ہم اہل محبت ہیں فنا ہو نہیں سکتے اتنا تو بتا جاؤ خفا ہونے سے پہلے وہ کیا کریں جو تم سے خفا ہو نہیں سکتے اک آپ کا در ہے مری دنیائے عقیدت یہ سجدے کہیں اور ادا ہو نہیں سکتے احباب ...
گراں گزرنے لگا دور انتظار مجھے ذرا تھپک کے سلا دے خیال یار مجھے نہ آیا غم بھی محبت میں سازگار مجھے وہ خود تڑپ گئے دیکھا جو بیقرار مجھے نگاہ شرمگیں چپکے سے لے اڑی مجھ کو پکارتا ہی رہا کوئی بار بار مجھے نگاہ مست یہ معیار بے خودی کیا ہے زمانے والے سمجھتے ہیں ہوشیار مجھے بجا ہے ...