قومی زبان

تمہارے جمپروں پر ساڑھیوں پر اور غراروں پر

تمہارے جمپروں پر ساڑھیوں پر اور غراروں پر لٹے جاتے ہیں دل والے کئی سلمیٰ ستاروں پر الیکشن اب بھلا کیسے لڑیں گے ہم رقیبوں سے کمائی تو اڑا ڈالی ہے ساری اشتہاروں پر پھسل کر رہ گئے ہیں ناگہاں کیلے کے چھلکے سے کمندیں ڈالنے گھر سے چلے تھے چاند تاروں پر برا انگریز کو کہتا ہوں پٹتا ...

مزید پڑھیے

میں خاک چھانتا ہوں آفتاب دیکھتا ہوں

میں خاک چھانتا ہوں آفتاب دیکھتا ہوں حریم دشت میں خوشبو کے خواب دیکھتا ہوں حصار غیر میں رہتا ہے یہ مکان وجود میں خلوتوں میں بھی اکثر عذاب دیکھتا ہوں یہ کیا کہ عہد بہاراں میں ہر شجر بے برگ یہ کیا کہ فصل خزاں میں گلاب دیکھتا ہوں مرے خیال میں کھلنے لگے ہیں زخم فراق تمہارے لطف و ...

مزید پڑھیے

نئے موسم کی بشارت ہیں ہم

نئے موسم کی بشارت ہیں ہم بزم امکان کی زینت ہیں ہم ہم سے کیا آنکھ ملائیں مہ و مہر ذرۂ خاک کی عظمت ہیں ہم ہم سے سیراب ہوا قریۂ حسن چشم بے تاب کی فطرت ہیں ہم اپنا کیا ہے کہ رہے یا نہ رہے ہاں مگر تیری ضرورت ہیں ہم دسترس میں ہے جہان صحرا اہل دل اہل محبت ہیں ہم دھیان میں رہتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

ہم جنوں پیشہ کہ رہتے تھے تری ذات میں گم

ہم جنوں پیشہ کہ رہتے تھے تری ذات میں گم ہو گئے سلسلۂ گردش حالات میں گم عرصۂ وصل میں بھی حرف تمنا نہ کھلا حسن الہام رہا پردۂ آیات میں گم عقل انگشت بدنداں ہے نظر حیراں ہے کون سی چیز ہوئی ارض و سماوات میں گم کتنے کنعان ہوئے خواب زلیخا میں اسیر کتنے یعقوب رہے ہجر کے صدمات میں ...

مزید پڑھیے

جب زندگی سکون سے محروم ہو گئی

جب زندگی سکون سے محروم ہو گئی ان کی نگاہ اور بھی معصوم ہو گئی حالات نے کسی سے جدا کر دیا مجھے اب زندگی سے زندگی محروم ہو گئی قلب و ضمیر بے حس و بے جان ہو گئے دنیا خلوص و درد سے محروم ہو گئی ان کی نظر کے کوئی اشارے نہ پا سکا میرے جنوں کی چاروں طرف دھوم ہو گئی کچھ اس طرح سے وقت نے ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی ہو وہ اب دل سے جدا ہو نہیں سکتے

کچھ بھی ہو وہ اب دل سے جدا ہو نہیں سکتے ہم مجرم توہین وفا ہو نہیں سکتے اے موج حوادث تجھے معلوم نہیں کیا ہم اہل محبت ہیں فنا ہو نہیں سکتے اتنا تو بتا جاؤ خفا ہونے سے پہلے وہ کیا کریں جو تم سے خفا ہو نہیں سکتے اک آپ کا در ہے مری دنیائے عقیدت یہ سجدے کہیں اور ادا ہو نہیں سکتے احباب ...

مزید پڑھیے

گراں گزرنے لگا دور انتظار مجھے

گراں گزرنے لگا دور انتظار مجھے ذرا تھپک کے سلا دے خیال یار مجھے نہ آیا غم بھی محبت میں سازگار مجھے وہ خود تڑپ گئے دیکھا جو بیقرار مجھے نگاہ شرمگیں چپکے سے لے اڑی مجھ کو پکارتا ہی رہا کوئی بار بار مجھے نگاہ مست یہ معیار بے خودی کیا ہے زمانے والے سمجھتے ہیں ہوشیار مجھے بجا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4992 سے 6203