کام کچھ تو لینا تھا اپنے دیدۂ تر سے
کام کچھ تو لینا تھا اپنے دیدۂ تر سے کاٹ دیں کئی راتیں آنسوؤں کے خنجر سے نیند ہے تھکن سی ہے سلوٹیں ہیں یادیں ہیں کتنے لوگ اٹھیں گے صبح میرے بستر سے جان بوجھ کر ہم نے بادبان کھولے ہیں کس کو اب پلٹنا ہے بے کراں سمندر سے بھیگنا مضر تو تھا پھر بھی کیسی لذت تھی جب گھٹائیں اٹھیں تھیں ...