قومی زبان

کام کچھ تو لینا تھا اپنے دیدۂ تر سے

کام کچھ تو لینا تھا اپنے دیدۂ تر سے کاٹ دیں کئی راتیں آنسوؤں کے خنجر سے نیند ہے تھکن سی ہے سلوٹیں ہیں یادیں ہیں کتنے لوگ اٹھیں گے صبح میرے بستر سے جان بوجھ کر ہم نے بادبان کھولے ہیں کس کو اب پلٹنا ہے بے کراں سمندر سے بھیگنا مضر تو تھا پھر بھی کیسی لذت تھی جب گھٹائیں اٹھیں تھیں ...

مزید پڑھیے

جلا جلا کے دیے پاس پاس رکھتے ہیں

جلا جلا کے دیے پاس پاس رکھتے ہیں ہم اپنے آپ کو اکثر اداس رکھتے ہیں گلوں کا رنگ پھلوں کی مٹھاس رکھتے ہیں کچھ آدمی بھی شجر کا لباس رکھتے ہیں انہیں بھی خالی گلاسوں کا ٹوٹنا ہے پسند ضرور وہ بھی کوئی زخم یاس رکھتے ہیں جو لوگ نیک تھے شبنم سے ہو گئے سیراب وہ کیا کریں جو سمندر کی پیاس ...

مزید پڑھیے

بے نشان قدموں کی کہکشاں پکڑتے ہیں

بے نشان قدموں کی کہکشاں پکڑتے ہیں ہم بھی کیا دوانے ہیں آسماں پکڑتے ہیں کوئی دل کو بھیجے ہے روشنی کی تحریریں روزنوں میں کرنوں کی ڈوریاں پکڑتے ہیں ذہن اس کے پیکر میں ڈوب ڈوب جاتا ہے کھیلتے ہوئے بچے جب دھواں پکڑتے ہیں آپ گہرے پانی کا اک بڑا سمندر ہیں ہم تو ایک مانجھی ہیں مچھلیاں ...

مزید پڑھیے

محبت کر کے شرمندہ نہیں ہوں

محبت کر کے شرمندہ نہیں ہوں میں اس دنیا کا باشندہ نہیں ہوں حساب دلبراں مجھ سے نہ مانگو میں اک شاعر ہوں کارندہ نہیں ہوں میں اک آزاد و خود روشن ستارہ کسی سورج سے تابندہ نہیں ہوں طلسم غم سے پتھر ہو گیا ہوں میں زندہ ہوں مگر زندہ نہیں ہوں یہ میرا عہد مجھ میں جی رہا ہے میں بس اپنا ...

مزید پڑھیے

جو گزرتی ہے کہا کرتا ہوں

جو گزرتی ہے کہا کرتا ہوں دل کے جذبات لکھا کرتا ہوں چن کے جب لاتی ہے الفاظ زباں لب اظہار کو وا کرتا ہوں خیر سے پار لگے کشتیٔ زیست بس یہی ایک دعا کرتا ہوں زندگی تجھ سے وفا کی خاطر دل کی آواز سنا کرتا ہوں غم میں بھی رہتا ہوں میں خوش ساحلؔ ہر نفس ایسے جیا کرتا ہوں

مزید پڑھیے

تو میخانے میں کوئی حیرت دکھا

تو میخانے میں کوئی حیرت دکھا مجھے ساقیا اب نہ جنت دکھا میں ترسا ہوں جس کے لئے عمر بھر اجل کو بھی اب تو یہ نوبت دکھا مجھے بے خودی کی نہیں آرزو کسی جام میں کوئی راحت دکھا یہاں کے نظاروں سے جی بھر گیا نئے جلوؤں کی کوئی صورت دکھا کوئی اس سے کہہ دے یہ ساحلؔ کی بات دعا میں ذرا تو ...

مزید پڑھیے

بس دکھا دے راہ مے خانہ کوئی

بس دکھا دے راہ مے خانہ کوئی لے چلے یا سوئے ویرانہ کوئی کیا ملا فرزانوں میں رہ کر مجھے ان سے تو بہتر ہے دیوانہ کوئی رہ گزار شوق کا ہے یہ کرم ہو گیا اپنا ہی بیگانہ کوئی آج کے حالات پر لکھوں تو کیا گر لکھوں سمجھو گے افسانہ کوئی میں ہوں اور تنہائیوں کا دشت ہے درد کو میرے نہیں جانا ...

مزید پڑھیے

بس دکھا دے راہ مے خانہ کوئی

بس دکھا دے راہ مے خانہ کوئی لے چلے یا سوئے ویرانہ کوئی کیا ملا فرزانوں میں رہ کر مجھے ان سے تو بہتر ہے دیوانہ کوئی رہ‌ گذار شوق کا ہے یہ کرم ہو گیا اپنا ہی بیگانہ کوئی آج کے حالات پر لکھوں تو کیا گر لکھوں سمجھو گے افسانہ کوئی میں ہوں اور تنہائیوں کا دشت ہے درد کو میرے نہیں ...

مزید پڑھیے

اذیت بھری کب مری زندگی ہے

اذیت بھری کب مری زندگی ہے اسی زندگی میں ہی تابندگی ہے کئی بار اس بات کو پرکھا میں نے تکبر میں پوشیدہ شرمندگی ہے مصیبت میں غیروں کے آئے ہیں جو کام عبادت وہی ہے وہی بندگی ہے نہیں ہے کہیں ایک دیپک بھی روشن کہیں روشنی کی ہی رخشندگی ہے ذرا مانگنے کا سلیقہ تو جانو خزانے میں اس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4968 سے 6203