سنو کچھ دیدۂ نم بولتے ہیں
سنو کچھ دیدۂ نم بولتے ہیں جو چپ تھے آج وہ غم بولتے ہیں کہو سانسوں میں ہے آواز کس کی یہ تم کہتے ہو یا ہم بولتے ہیں تمہارے حسن کی خوشبو گلوں میں تمہارا نام موسم بولتے ہیں کسی کی بھی کبھی سنتے نہیں وہ مگر ان سے کہو ہم بولتے ہیں تمہارا راگ گھنگرو کے لبوں پر تمہارے ہونٹ سرگم بولتے ...