قومی زبان

سنو کچھ دیدۂ نم بولتے ہیں

سنو کچھ دیدۂ نم بولتے ہیں جو چپ تھے آج وہ غم بولتے ہیں کہو سانسوں میں ہے آواز کس کی یہ تم کہتے ہو یا ہم بولتے ہیں تمہارے حسن کی خوشبو گلوں میں تمہارا نام موسم بولتے ہیں کسی کی بھی کبھی سنتے نہیں وہ مگر ان سے کہو ہم بولتے ہیں تمہارا راگ گھنگرو کے لبوں پر تمہارے ہونٹ سرگم بولتے ...

مزید پڑھیے

کہنے آئے تھے کچھ کہا ہی نہیں

کہنے آئے تھے کچھ کہا ہی نہیں چل دئے جیسے کچھ سنا ہی نہیں اس قدر ظلم ابن آدم پر جیسے اس کا کوئی خدا ہی نہیں ہم جما کر نگاہ بیٹھے ہیں اپنی قسمت کا در کھلا ہی نہیں فکر آغاز ہی کی ہے سب کو کوئی انجام سوچتا ہی نہیں تیرے مقتل میں آ گئے آخر اور کچھ ہم کو راستہ ہی نہیں وہ ترے نقش پا کو ...

مزید پڑھیے

ایک فتنہ سا اٹھایا ہے چلا جائے گا

ایک فتنہ سا اٹھایا ہے چلا جائے گا وقت بے وقت جو آیا ہے چلا جائے گا شہر کو سارے جلانے کے لئے نکلا تھا اب جو گھر میرا جلایا ہے چلا جائے گا بیٹھنا ہے تو گھنے پیڑ کے نیچے بیٹھو یہ تو دیوار کا سایا ہے چلا جائے گا ہم کو مارے گا کہاں شیش محل میں رہ کر صرف پتھر ہی اٹھایا ہے چلا جائے ...

مزید پڑھیے

کسی کی چاہ میں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے

کسی کی چاہ میں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے تجھے خبر نہیں مفہوم عاشقی کیا ہے تپش میں دھوپ کے ہوتی ہے قدر سائے کی نہ ہو جو موت کا خطرہ تو زندگی کیا ہے نہیں ہے فرق اندھیرے میں اور اجالے میں نظر نہ آئے جہاں تو وہ روشنی کیا ہے ہیں یوں تو سیکڑوں مخلوق بزم ہستی میں نہیں ہے دل میں محبت تو ...

مزید پڑھیے

کوئی چھوٹا یہاں کوئی بڑا ہے

کوئی چھوٹا یہاں کوئی بڑا ہے یہ سارا کھیل ظالم وقت کا ہے وہ سر کرتے ہیں جن کو حوصلہ ہے وگرنہ زندگی اک مرحلہ ہے تجھے معلوم کیا ہے لذت غم ترا دل عشق سے نا آشنا ہے جو خود واقف نہیں منزل سے اپنی خدا بخشے ہمارا رہنما ہے ڈبوئے گا اسے کیا کوئی طوفاں خدا کشتی کا جس کی ناخدا ہے چھپاؤں ...

مزید پڑھیے

بچپن تمام بوڑھے سوالوں میں کٹ گیا

بچپن تمام بوڑھے سوالوں میں کٹ گیا اسکول کی کتابوں سے اب جی اچٹ گیا لکھے ہوئے تھے سارے فرشتوں کے جس پہ نام شاید وہی ورق کسی بچے سے پھٹ گیا تازہ ہوا کی آس میں پردے اٹھا دیے بس یہ ہوا کہ گرد میں سامان اٹ گیا کل کارنس پہ دیکھ کے چڑیوں کا کھیلنا بے وجہ ذہن اس کے خیالوں میں بٹ گیا اک ...

مزید پڑھیے

پھول پتھر کی چٹانوں پہ کھلائیں ہم بھی

پھول پتھر کی چٹانوں پہ کھلائیں ہم بھی آپ کہیے تو کوئی شعر سنائیں ہم بھی ریت پر کھیلتے بچوں کی نظر سے بچ کر آؤ اک خواب کی تصویر بنائیں ہم بھی اب کے موسم کی ہواؤں میں بڑی وحشت ہے زرد پتوں کی طرح ٹوٹ نہ جائیں ہم بھی قافلے اور بھی اس دشت سے گزرے ہوں گے لے کے آئے ہیں فقیروں سے دعائیں ...

مزید پڑھیے

آئے تھے گھر میں آگ لگانے شریر لوگ

آئے تھے گھر میں آگ لگانے شریر لوگ اور ہنس رہے تھے دور کھڑے بے ضمیر لوگ ہمت کہاں ہے مجھ میں کہ سچ بول کر دکھاؤں بیٹھے ہوئے ہیں جوڑے کمانوں میں تیر لوگ ہر آدمی کے لب پہ ہے اک دل شکن سوال آخر کہاں چلے گئے وہ دل پذیر لوگ اک روز کہہ دیا تھا حقیر انکسار میں یہ بات سچ سمجھ گئے سارے حقیر ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ ہوا مجھ کو اڑا لے جائے

اس سے پہلے کہ ہوا مجھ کو اڑا لے جائے اپنی زلفوں میں کوئی آ کے سجا لے جائے جس کو اس عہد میں جینے کا ہنر آتا ہو اس سے کہہ دو کہ مری عمر لگا لے جائے چاندنی کھڑکی سے کمرے میں اتر آتی ہے کوئی تصویر نہ البم سے چرا لے جائے حوصلہ دیو سے لڑنے کا کسی میں بھی نہیں چاہتے سب ہیں پری آ کے جگا لے ...

مزید پڑھیے

جو اس ضمیر فروشی کے ماہرین میں ہے

جو اس ضمیر فروشی کے ماہرین میں ہے وہ آدمی بھی سنا ہے مورخین میں ہے بڑھا رہا ہے مری سمت دوستی کا ہاتھ ضرور بات کوئی اس کی آستین میں ہے زمانہ بیت گیا شہر دشمنی چھوڑے مرا شمار ابھی تک مہاجرین میں ہے وہ مجھ سے کہتا ہے پھولوں سے احتیاط کرو مرا وہ دوست بھی میرے منافقین میں ہے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4967 سے 6203