رنج جو دیدۂ نمناک میں دیکھا گیا ہے
رنج جو دیدۂ نمناک میں دیکھا گیا ہے یہ فقط سینۂ صد چاک میں دیکھا گیا ہے اس سے آگے ہے میاں منتظروں کی بستی اک دیا جلتا ہوا طاق میں دیکھا گیا ہے اے جنوں اس کی کہانی بھی سناؤں گا تجھے یہ جو پیوند مرے چاک میں دیکھا گیا ہے یعنی اک آنکھ ابھی ڈھونڈھتی پھرتی ہے مجھے یعنی اک تیر مری تاک ...