قومی زبان

یہ کشتیٔ حیات یہ طوفان حادثات (ردیف .. ی)

یہ کشتیٔ حیات یہ طوفان حادثات مجھ کو تو کچھ خبر نہ رہی آر پار کی ہے گردش زمانہ میں دو رنگیٔ حیات امید کی سحر ہے تو شب انتظار کی یہ دیر یہ حرم یہ کلیسا یہ سومنات تعریف کیا ہو قدرت پروردگار کی ہے کون جو اٹھا سکے بار غم حیات ہم نے بھی گر قبائے خرد تار تار کی اللہ رے تصادم حالات و ...

مزید پڑھیے

کشمکش میں ہیں تری زلفوں کے زندانی ہنوز

کشمکش میں ہیں تری زلفوں کے زندانی ہنوز تیرگی پیہم ہے خم در خم پریشانی ہنوز رکھتے ہیں ہم مقصد تعمیر نو پیش نظر گرچہ ہیں منجملۂ اسباب ویرانی ہنوز سطح دریا پر سکوں سا ہے مگر اے سطح بیں قعر و دریا میں وہی موجیں ہیں طوفانی ہنوز اب جنوں میں بھی نہیں آتا ہے صحرا کا خیال شہر حکمت میں ...

مزید پڑھیے

عکس کو پھول بنانے میں گزر جاتی ہے

عکس کو پھول بنانے میں گزر جاتی ہے زندگی آئنہ خانے میں گزر جاتی ہے شام ہوتی ہے تو لگتا ہے کوئی روٹھ گیا اور شب اس کو منانے میں گزر جاتی ہے ہر محبت کے لیے دل میں الگ خانہ ہے ہر محبت اسی خانے میں گزر جاتی ہے زندگی بوجھ بتاتا تھا بتانے والا یہ تو بس ایک بہانے میں گزر جاتی ہے تو بتا ...

مزید پڑھیے

یاد رکھے گا مرا کون فسانہ مرے دوست

یاد رکھے گا مرا کون فسانہ مرے دوست میں نہ مجنوں ہوں نہ مجنوں کا زمانہ مرے دوست ہجر انساں کے خد و خال بدل دیتا ہے کبھی فرصت میں مجھے دیکھنے آنا مرے دوست شام ڈھلنے سے فقط شام نہیں ڈھلتی ہے عمر ڈھل جاتی ہے جلدی پلٹ آنا مرے دوست روز کچھ لوگ مرے شہر میں مر جاتے ہیں عین ممکن ہے ٹھہر ...

مزید پڑھیے

یہ لوگ ڈھونڈ رہے ہیں یہاں وہاں مجھ کو

یہ لوگ ڈھونڈ رہے ہیں یہاں وہاں مجھ کو تلاش کرتے نہیں اپنے درمیاں مجھ کو میں اگلے پچھلے زمانوں سے ہو کے آیا ہوں کہیں نظر نہیں آئے ہیں رفتگاں مجھ کو وہ جس میں لوٹ کے آتی تھی ایک شہزادی ابھی تلک نہیں بھولی وہ داستاں مجھ کو یہ کس نے کر دیا صیقل زمیں کا آئینہ تہ زمیں نظر آتا ہے آسماں ...

مزید پڑھیے

دل کسی خواہش کا اکسایا ہوا

دل کسی خواہش کا اکسایا ہوا پھر مچل اٹھا ہے بہلایا ہوا جا تجھے تیرے حوالے کر دیا کھینچ لے یہ ہاتھ پھیلایا ہوا جس طرح ہے خشک پتوں کو ہوا میرے حصے میں ہے تو آیا ہوا یہ بگولے ہیں کہ استقبال قیس پھر رہا ہے دشت گھبرایا ہوا بزم میں بس اک رخ روشن کے فیض جو جہاں موجود تھا سایا ہوا کیا ...

مزید پڑھیے

اگر خوشی میں تجھے گنگناتے لگتے ہیں

اگر خوشی میں تجھے گنگناتے لگتے ہیں تو لوگ شہر سے آنسو بہانے لگتے ہیں نکل کے آنکھ سے لفظوں میں آنے لگتے ہیں ہیں میاں یہ اشک ہیں یونہی ٹھکانے لگتے ہیں گزر چکے ہیں کسی عکس کی معیت میں ہم ایسے لوگ جو آئینہ خانے لگتے ہیں تو کرنے لگتے ہیں غسل تلاش مصرع نو ہم اپنے آپ کو جب بھی پرانے ...

مزید پڑھیے

عجب طرح کے کمال کرنے بھی آ گئے ہیں

عجب طرح کے کمال کرنے بھی آ گئے ہیں بچھڑ کے اب ماہ و سال کرنے بھی آ گئے ہیں جو میری باتوں کو مانتا تھا بلا تأمل سنو اسے اب سوال کرنے بھی آ گئے ہیں سنا ہے لوگوں سے اب وہ ملتا ہے مسکرا کر اسے تعلق بحال کرنے بھی آ گئے ہیں وہ شخص جس کی خوشی کا باعث تھیں میری باتیں اسے اب ان پر ملال ...

مزید پڑھیے

پیلا تھا چاند اور شجر بے لباس تھے

پیلا تھا چاند اور شجر بے لباس تھے تجھ سے بچھڑ کے گاؤں میں سارے اداس تھے سوچا تو تو مگن تھا فقط میری ذات میں دیکھا تو کتنے لوگ ترے آس پاس تھے جب ہم نہ مل سکے تو ہمیں ماننا پڑا بستی کے لوگ کتنے ستارہ شناس تھے دل اس پہ مطمئن تھا کہ ہم ایک ہو گئے لیکن کئی گماں مری سوچوں کے پاس تھے وہ ...

مزید پڑھیے

طائروں کی اڑان میں ہم ہیں

طائروں کی اڑان میں ہم ہیں اس کھلے آسمان میں ہم ہیں آخر کار ہجر ختم ہوا اور پس ماندگان میں ہم ہیں کیوں نہ ہو خوف انہدام دل اسی خستہ مکان میں ہم ہیں ہم فقط تیری گفتگو میں نہیں ہر سخن ہر زبان میں ہم ہیں اور کوئی نظر نہیں آتا اس زمین آسمان میں ہم ہیں کیا دعا کی قبولیت اشفاقؔ سب کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4946 سے 6203