قومی زبان

کیفیت

اے نگاہ مست اپنا سا ہی مستانہ بنا مے بنا دے روح کو اور جاں کو پیمانہ بنا کیف و مستی کا بنا دے جام دست شوق میں لوٹ لے جو میکدہ وہ پیر مے خانہ بنا فیض پر تیرے نگاہ فیض ہے یہ منحصر جس کو چاہے جیسے چاہے اپنا دیوانہ بنا خود سے بیگانہ بنا دے کیف و مستی چھین لے لو میں شمع عشق کی جل جاؤں ...

مزید پڑھیے

حادثات

زندگی حادثات لگتی ہے کتنی چھوٹی سی بات لگتی ہے تنگ سی کائنات لگتی ہے مختصر جب حیات لگتی ہے قید غم اور بندش ہستی قید میں گزری رات لگتی ہے حسرتوں کے ہجوم میں اکثر زندگی ممکنات لگتی ہے وہ بھی اکثر اداس ہوتے ہیں ہر خوشی جن کے ساتھ لگتی ہے اشک باری نہ پوچھئے ہم سے آنکھ ساون کی رات ...

مزید پڑھیے

کیف

یہاں سجدہ وہاں سجدہ نہ کعبہ ہے نہ بت خانہ نہ جانے کر رہا ہے کیا کسی مستی میں مستانہ پلا دے مجھ کو ساقی تو یوں پیمانہ بہ پیمانہ نظر آئے تری دنیا مجھے بس ایک پیمانہ مجھے لگتا ہے اب ساغر بھی جیسے ایک مے خانہ نگاہ خاص ہے جب سے تری اے پیر مے خانہ عجب تو ہے عجب مے ہے عجب سا تیرا مے ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی

کچھ یوں بدل گیا مرا طرز بیاں کبھی کبھی جیسے زبان ہوتی ہے خود بے زباں کبھی کبھی خود سے ہی ہو گیا ہوں میں بیزار ہاں کبھی کبھی گزری یہ زندگی مجھے اتنی گراں کبھی کبھی دے کر غم جہاں مجھے اشکوں پہ میرے بندشیں یوں بھی لیا ہے تو نے مرا امتحاں کبھی کبھی وہ شدت بیاں ہو کہ ہو جرأت بیان ...

مزید پڑھیے

بدل کے دیکھ لیے زاویے اڑانوں کے

بدل کے دیکھ لیے زاویے اڑانوں کے خرد سے طے نہ ہوئے فاصلے زمانوں کے سمندروں کے تموج، نہنگ، وسعتیں، خوف کہاں پہ حوصلے ٹوٹے ہیں بادبانوں کے فلک سے روز اترتے ہیں روشنی کے خطوط مگر نہ چمکے مقدر غریب خانوں کے خزاں کا زہر سرایت ہوا ہے رگ رگ میں گلاب چہرے ہوئے زرد گلستانوں کے طلوع ...

مزید پڑھیے

گل خورشید کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

گل خورشید کھلاؤں گا چلا جاؤں گا صبح سے ہاتھ ملاؤں گا چلا جاؤں گا اب تو چلنا ہے کسی اور ہی رفتار کے ساتھ جسم بستر پہ گراؤں گا چلا جاؤں گا آبلہ پائی ہے رسوائی ہے رات آئی ہے دامن ایک اک سے چھڑاؤں گا چلا جاؤں گا ہجر صدیوں کے تحیر کی گرہ کھولے گا اک زمانے کو رلاؤں گا چلا جاؤں گا بس ...

مزید پڑھیے

بسیط دشت کی حرمت کو بام و در دے دے

بسیط دشت کی حرمت کو بام و در دے دے مرے خدایا مجھے بھی تو ایک گھر دے دے بشارتوں کے صحیفے اتار آنکھوں پر طلسم شب کے کلس توڑ کر سحر دے دے میں تیرا نام لکھوں گا ردائے کعبہ پر قلم نصیب ہے، الفاظ معتبر دے دے رکے ہوئے ہیں کھلے پانیوں پہ برسوں سے ہوائیں کھول دے اور طاقت سفر دے دے ہر ایک ...

مزید پڑھیے

۲۳ مارچ اذان صبح نیاز

وہ کیا نوا تھی کہ جس کی لو سے افق روشنی کے منظر سنور گئے تھے بہار آثار لحن کیا تھا کہ خشک شاخوں کے زرد چہرے گلاب رنگوں سے دھل گئے تھے کلی کلی کے گداز شانوں پر خوشبوؤں کے لطیف پرچم نئے سویروں سے آشنائی کو کھل گئے تھے وہی نوا ڈوبتی شبوں میں اذان صبح نیاز بن کر ہوا کے ہونٹوں پہ ...

مزید پڑھیے

رونق ترے کوچے کی بڑھانے چلے آئے

رونق ترے کوچے کی بڑھانے چلے آئے ارباب جنوں حشر اٹھانے چلے آئے اب اور نمائندگیٔ شب نہ کرو تم ہم پرچم خورشید اڑانے چلے آئے جب گرمیٔ شبنم سے بدن جلنے لگا ہے ہم آگ کے دریا میں نہانے چلے آئے جو لوگ مرا نقش قدم چوم رہے تھے اب وہ بھی مجھے راہ دکھانے چلے آئے جن سے مجھے پھولوں کی تھی ...

مزید پڑھیے

اک شخص اپنے ہاتھ کی تحریر دے گیا

اک شخص اپنے ہاتھ کی تحریر دے گیا جیسے مرا نوشتۂ تقدیر دے گیا اک دوست میرے قلب کی تالیف کے لیے کچھ زہر میں بجھائے ہوئے تیر دے گیا برسوں کے بعد اس سے ملاقات جب ہوئی بیتے دنوں کی چند تصاویر دے گیا گھیرے ہوئے تھی مجھ کو شب غم کی تیرگی وہ مسکرا کے صبح کی تنویر دے گیا چپکے سے رات آ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4948 سے 6203