کیفیت
اے نگاہ مست اپنا سا ہی مستانہ بنا مے بنا دے روح کو اور جاں کو پیمانہ بنا کیف و مستی کا بنا دے جام دست شوق میں لوٹ لے جو میکدہ وہ پیر مے خانہ بنا فیض پر تیرے نگاہ فیض ہے یہ منحصر جس کو چاہے جیسے چاہے اپنا دیوانہ بنا خود سے بیگانہ بنا دے کیف و مستی چھین لے لو میں شمع عشق کی جل جاؤں ...