قومی زبان

دماغ و دل میں ہلچل ہو رہی ہے

دماغ و دل میں ہلچل ہو رہی ہے ندی یادوں کی بے کل ہو رہی ہے تو اپنے فیس کو ڈھنک کر نکلنا نگر میں دھوپ پاگل ہو رہی ہے تمہاری یاد کا ڈاکہ پڑا ہے ہماری زیست چمبل ہو رہی ہے ابھی تو شوق سے پھاڑا ہے دامن ابھی تو بس ریہرسل ہو رہی ہے یاد آنکھوں پہ چشمہ گیر کا ہے مری تصویر اوجھل ہو رہی ہے

مزید پڑھیے

اپنی غزلوں کو رسالوں سے الگ رکھتا ہوں

اپنی غزلوں کو رسالوں سے الگ رکھتا ہوں یعنی یہ پھول کتابوں سے الگ رکھتا ہوں ہاں بزرگوں سے عقیدت تو مجھے ہے لیکن مشکلیں اپنی مزاروں سے الگ رکھتا ہوں منزلیں آ کے میرے پاؤں میں گر جاتی ہیں حوصلہ جب میں تھکانوں سے الگ رکھتا ہوں ان کی آمد کا پتہ دیتی ہے خوشبو ان کی اس گھڑی خود کو ...

مزید پڑھیے

تری نظر کے اشارہ بدل بھی سکتے ہیں

تری نظر کے اشارہ بدل بھی سکتے ہیں میرے نصیب کے تارے بدل بھی سکتے ہیں میں اپنی ناؤ بھنور سے نکال لایہ ہوں مگر یہ ڈر ہے کنارے بدل بھی سکتے ہیں امیر شہر کی تقریر ہونے والی ہے سحر تلک یہ نظارے بدل بھی سکتے ہیں یہ دور وہ ہے کہ غیروں کا کیا کہیں صاحب ہمارے حق میں ہمارے بدل بھی سکتے ...

مزید پڑھیے

خامشی کی زبان

وہ جو ایسے سوال ہوتے ہیں ان کے کیا جواب ہوتے ہیں وہ جو خوشبو میں بستے ہیں اور پھولوں میں ہنستے ہیں جن کا سخن سادہ ہوتا ہے اور حرف تازہ ہوتا ہے اک مانوس سی خامشی میں وہ جو ایسے سوال ہوتے ہیں ان کے کیا جواب ہوتے ہیں کبھی ڈھونڈ لو تو آنا پھر مجھے بھی یہ بتانا وہ جو ایسے سوال ہوتے ...

مزید پڑھیے

حزن

جسے تم حزن کہتے ہو کبھی اس میں ڈوب کر اس کی صحبت اور آشنائیوں سے ہمکنار ہوئے ہو حزن ہمیں خوشیوں سے دور اس دنیا میں لے جاتا ہے جو صرف مسرتوں کے روٹھ جانے سے ملتی ہے وہ مسرتوں کی طرح ارزاں نہیں نہ یہ حزن جگہ جگہ بکھرا ہوا ہے یہ ایک کیفیت ہے جو تیرے میرے دل کے نہاں خانوں میں پوشیدہ ...

مزید پڑھیے

سرد مہری سے تری دل جو تپاں رکھتے ہیں

سرد مہری سے تری دل جو تپاں رکھتے ہیں ہمہ تن برف ہیں آہوں میں دھواں رکھتے ہیں سیل غم آنکھ کے پردے میں نہاں رکھتے ہیں ناتواں بھی ترے کیا تاب و تواں رکھتے ہیں فرش رہ کس کے لئے ہم دل و جاں رکھتے ہیں خوبرو پاؤں زمیں پر ہی کہاں رکھتے ہیں بات میں بات اسی کی ہے سنو تم جس کی یوں تو کہنے کو ...

مزید پڑھیے

محتسب نے جو نکالا ہمیں میخانے سے

محتسب نے جو نکالا ہمیں میخانے سے دور تک آنکھ ملاتے گئے پیمانے سے آج تو خم ہی لگا دے مرے منہ سے ساقی میری نیت نہیں بھرتی ترے پیمانے سے آپ اتنا تو ذرا حضرت ناصح سمجھیں جو نہ سمجھے اسے کیا فائدہ سمجھانے سے میں نے چکھی تھی تو ساقی نے کہا جوڑ کے ہاتھ آپ للہ چلے جائیے میخانے سے تم ...

مزید پڑھیے

میں با وفا ہی رہا رہ کے بے وفاؤں میں

میں با وفا ہی رہا رہ کے بے وفاؤں میں گل بہار کی صورت کھلا خزاؤں میں بھری بہار میں دیکھے جو پھول جلتے ہوئے رکے نہ اشکوں کے دریا مری گھٹاؤں میں ہمارے ہاتھوں سے جب وقت کی گرہ نہ کھلی تو لوگ سمجھے کہ ہم خوش ہیں ابتلاؤں میں ترے حضور رہی قہقہوں پہ پابندی رہا ہے خوف بھی رقصاں مری ...

مزید پڑھیے

اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی

اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی وہ خواب بن کے مجھ سے ملاقات کر گئی دیکھا اسے جو میں نے تو کچھ بھی نہ سن سکا کیا بات کر رہی تھی وہ کیا بات کر گئی نادیدہ منزلوں کے لیے راستوں کی دھول جب کہکشاں بنی تو کرامات کر گئی راتوں سے چھین کر وہ چراغوں کی روشنی جب صبح ہو گئی تو اسے رات کر ...

مزید پڑھیے

ان سے ملا تو پھر میں کسی کا نہیں رہا

ان سے ملا تو پھر میں کسی کا نہیں رہا اور جب بچھڑ گیا تو خود اپنا نہیں رہا دیوار ٹوٹنے کا عجب سلسلہ چلا سایوں کے سر پہ اب کوئی سایہ نہیں رہا ہر اک مکاں سے نام کی تختی اتر گئی دل کی فصیل پہ کوئی پہرہ نہیں رہا رہبر بدل گئے کبھی رہزن بدل گئے اور ہم سفر بھی کوئی پرانا نہیں رہا اب اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4943 سے 6203