قومی زبان

دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں

دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں پھر بھی نہ بن سکا خبر اخبار‌ عشق میں جب مل نہ پایا اس سے مجھے اذن گفتگو میں اک کتاب بن گیا اظہار عشق میں قیمت لگا سکا نہ خریدار پھر بھی میں جنس وفا بنا رہا بازار عشق میں شاید یہی تھی اس کی محبت کی انتہا مجھ کو بھی اس نے چن دیا دیوار عشق میں تہہ ...

مزید پڑھیے

تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا

تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا سر پہ سورج تھا مرے پر سائباں ملتا نہ تھا بے نتیجہ ہی رہی ہے ہر سفر کی جستجو ڈھونڈنے نکلے تھے جس کو وہ جہاں ملتا نہ تھا منزلیں آسان تھیں اور راستے مخدوش تھے کشتیاں موجود تھیں پر بادباں ملتا نہ تھا گھونسلے خالی پڑے ہیں اور وہیں پر آس ...

مزید پڑھیے

پریکرما طواف

میں تو جیسے کھڑا ہوا ہوں اک منزل پر اور لمحے یے وقت کے ٹکڑے یوں اڑتے ہیں چاروں طرف اک تتلی جیسے جس کے پنکھ کبھی تو سنہرے اور کبھی لگتے ہیں سیہ یوں ہی بے معنی بے موقعہ ناچنے لگتی ہے دنیا دل گیت سناتا ہے بنجر دھرتی سے ابلے پڑتے ہیں نور کے چشمے اور اچانک بادل کی چادر سورج کے منہ کو ...

مزید پڑھیے

مہکتی ہوئی تنہائیاں

ایک خوشبو سی بسی رہتی ہے سانسوں میں مرے حسن کا دھیان بھی خود حسن کے مانند حسیں پاس ہو تم تو یہ قدرت ہے محبت جاگے دور ہونے پہ بھی احساس کا رہنا ہے یقیں لمحہ ہر ساتھ میں لاتا ہے ہزاروں دنیا بوند کی کوکھ میں جیوں اندر دھنش رہتا ہے کتنے بھی گہرے اندھیرے ہوں تمہارا جادو روشنی بن کے ہر ...

مزید پڑھیے

یتیم انصاف

ہر ایک کونے میں ہر کن میں ہے لہو کا سراغ ٹپک رہا ہے لہو آستین قاتل سے جھلک رہا ہے ابھی خوف چشم بسمل سے ہیں خاک پہ نئے دھبے ہیں بام پہ نئے داغ ہر ایک کونے میں ہر کن میں ہے لہو کا سراغ ہوئی ہے آدمیت صرف دین شیطاں پر ہوا ہے صرف لہو تشنگیٔ حیواں پر یہ خون خاک نشینی بنا ہے رزق ستم ہوا ہے ...

مزید پڑھیے

میرے احساس میرے وسواس

کہاں سے آئے یہ احساس میرے کہ اب جو بن گئے وشواس میرے مرے جو زاویہ ہیں زندگی کے مرے جو نظریے ہیں آدمی کے مرے احساس سے پیدا ہوئے ہیں مرے وشواس سے پیدا ہوئے ہیں مگر شاید ہے سچ کچھ بات یہ بھی مری قدریں مرے احساس میرے نظریے بھی میرے اپنے نہیں ہے میرے جو بھی یقیں ہیں وہ میرا گھر نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

جانے کیوں

جب میں تم سے ملتا ہوں بعد ایک مدت کے تم کو اپنا کہنے میں تم سے بات کرنے میں جانے کیوں جھجھکتا ہوں اور سوچتا ہوں میں وقت کے تقاضوں سے تم بدل بھی سکتی ہو ہر دفعہ مگر تم میں وہ ہی اپنا پن پایا وہ ہی سادگی پائی بے تکلفی پائی یہ یقین ہو آیا تم بدل نہیں سکتیں پھر بھی ایسا ہوتا ہے جب میں ...

مزید پڑھیے

آئینے میں خم آیا

دفعتاً یونہی اک دن آئینے میں خم آیا اس طرح وہ بورایا میری خوش نما صورت خوں سے ہو گئی لت پت پینے کانچ کے ٹکڑے ہر طرف چھٹکنے لگے ایک ٹکڑا آوارہ جانے کیسے جا پہنچا یاد کی سواری پر بھولے بسرے ماضی پر بجلی کی طرح چمکا جب وہ جا کے ٹکرایا گمشدہ اک پتھر سے اٹھ گئے بونڈر سے ایک دم یہ یاد ...

مزید پڑھیے

وراثت

جب اندھیرے سے میں ڈر جاتا ہوں اب بھی اکثر تیری انگلی کو پکڑنے کا خیال آتا ہے مسکراہٹ ہو یا آہیں یا خوشی کے آنسو ہر اک احساس کی لذت میں سمایا ہے تو جب ابھرتی ہے رسوئی سے رسیلی خوشبو جب کسی پھول کے چہرہ پہ جمال آتا ہے تیری انگلی کو پکڑنے کا خیال آتا ہے میری آواز زباں اور مرا انداز ...

مزید پڑھیے

گھر واپسی

ٹوپی جنیوو ٹیکہ مالا چھاپ تلک کی جھوٹی ہالا ہیں یہ سب بازار کی چیزیں نقلی اور بے کار کی چیزیں تن من میں گر کوڑھ ہوا ہے کب اوس کو ریشم نے ڈھکا ہے پھیکا ہے ہر ایک لباس دل میں اگر نہیں وشواس کالی سفید اگر ہیں نذریں جیون پہ لگتی ہیں قیدیں پھیکے پھیکے چاند ستارہ اندر دھنش کے رنگ بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4944 سے 6203