اوجھل ہوئی نظر سے بے بال و پر گئی ہے
اوجھل ہوئی نظر سے بے بال و پر گئی ہے لفظوں کی بیکرانی بستوں میں بھر گئی ہے دیوار دل پہ اب تک ہم دیکھتے رہے ہیں تصویر کس کی لٹکی کس کی اتر گئی ہے اس کی گلی میں ہم پر پتھر برس پڑے تھے جیسا گزر ہوا تھا ویسی گزر گئی ہے جب ڈھونڈتے رہے تھے اتنی خبر نہیں تھی ہم میں کدھر سے آئی دنیا کدھر ...