قومی زبان

ہمارے بیچ غضب کا مکالمہ ہوا تھا

ہمارے بیچ غضب کا مکالمہ ہوا تھا پھر اس کے بعد یہ سوچا گیا کہ کیا ہوا تھا نہ صرف تلخ بہت تھا وہ نیلگوں بھی تھا مجھے تو شک ہے سمندر میں کچھ ملا ہوا تھا وہ خط جو پڑھنے سے پہلے ہی میں نے پھاڑ دیا اگرچہ نام تھا میرے مگر کھلا ہوا تھا مجھے کہانی میں کردار کچھ ملا ایسا تھے جس کے ہاتھ تو ...

مزید پڑھیے

دریافت کر لیا ہے بسایا نہیں مجھے

دریافت کر لیا ہے بسایا نہیں مجھے سامان رکھ دیا ہے سجایا نہیں مجھے کیسا عجیب شخص ہے اٹھ کر چلا گیا برباد ہو گیا تو بتایا نہیں مجھے وہ میرے خواب لے کے سرہانے کھڑا رہا میں سو رہی تھی اس نے جگایا نہیں مجھے بازی تو اس کے ہاتھ تھی پھر بھی نہ جانے کیوں مہرہ سمجھ کے اس نے بڑھایا نہیں ...

مزید پڑھیے

کیا ضروری ہے شاعری کی جائے

کیا ضروری ہے شاعری کی جائے دل جلا کر ہی روشنی کی جائے بعض چہرے بہت حسین سہی پھر بھی کتنوں سے دوستی کی جائے اک مسلسل شکست کا احساس ایسی خواہش نہ پھر کبھی کی جائے یہ محبت کے جو تقاضے ہیں ان تقاضوں میں کچھ کمی کی جائے اب بھی کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں زہر پی کر ہی خود کشی کی جائے میں ...

مزید پڑھیے

کیا بتاؤں کہ کس گمان میں ہوں

کیا بتاؤں کہ کس گمان میں ہوں مستقل ایک امتحان میں ہوں آبلہ پا ہوں اور سفر میں ہوں پر بریدہ ہوں اور اڑان میں ہوں خود سری رکھ کے شاہزادی سی کچھ کنیزوں کے درمیان میں ہوں تو کہ طوفاں مجھے سمجھ بیٹھا غور سے دیکھ بادبان میں ہوں آپ نے خط نہیں لکھا ورنہ میں تو اب بھی اسی مکان میں ...

مزید پڑھیے

ہمیں تعبیر پہلے دی گئی پھر خواب اترے

ہمیں تعبیر پہلے دی گئی پھر خواب اترے کتاب زندگی کے اس طرح کچھ باب اترے مری آنکھوں سے لے لے روشنی اور نور کر دے کسی قیمت پہ مالک منظر شب تاب اترے کھلے برتن اٹھا کر رکھ دئے جو بارشوں میں یہاں وہ رہ گئے خالی وہاں سیلاب اترے تحائف کی جنہیں امید تھی وہ منتظر ہیں مسافر آ چکا ہے اب ذرا ...

مزید پڑھیے

تعارف

میں ایک کورا کاغذ جس پر ہر دو نسلوں نے اپنی کہانی لکھی یا ایک درخت جس کے سایہ میں بیٹھے لوگوں نے اس کے پتوں کو نوچا کبھی نہ سوچا سایہ دینے والے کو بھی سایہ اچھا لگتا ہوگا میں ایک کوئل جو آواز کا جادو بانٹے یا پھر بادل جو بنا تفریق کئے برس جائے یا پھر پاگل جو کچھ نہ سمجھے جس کے ذہن ...

مزید پڑھیے

نمو کی خاک سے اٹھے گا پھر لہو میرا

نمو کی خاک سے اٹھے گا پھر لہو میرا عقب سے وار کرے چاہے جنگ جو میرا لکیر کھینچ کے مجھ پہ وہ پھر مجھے دیکھے نگار و نقش میں چہرہ ہے ہو بہ ہو میرا رقیب تشنہ تو جی بھر کے خاک چاٹے گا چٹخ کے ٹوٹ گیا ہاتھ میں سبو میرا میں اپنی روح کی تاریکیوں میں جھانک چکا نکل سکا نہ کمیں گاہ سے عدو ...

مزید پڑھیے

بارش کیسی جادوگر ہے

بارش کیسی جادوگر ہے قطرہ قطرہ نور نظر ہے آس کا پنچھی ڈھونڈ کے لاؤ جس کی نشانی ٹوٹا پر ہے اس میں آنکھیں جڑ جاؤں گا جس دیوار میں اندھا در ہے ٹوٹی کھاٹ پہ سو جاتا ہوں اپنا گھر پھر اپنا گھر ہے رستے کی انجان خوشی ہے منزل کا انجانا ڈر ہے

مزید پڑھیے

اپنے بھائی سے یہ غم خواری مثالی ہے مری

اپنے بھائی سے یہ غم خواری مثالی ہے مری اپنے حق سے دست برداری مثالی ہے مری اپنی بربادی کے کاغذ پر کئے ہیں دستخط سب قبیلے میں زیاں کاری مثالی ہے مری دشمنی کے قاعدوں سے نابلد ہوں میں مگر یہ سمجھ لیں آپ بھی یاری مثالی ہے مری چیتھڑوں کے روزنوں سے سرخیوں کی جھلکیاں سادگی میں ایسی ...

مزید پڑھیے

بزم سخن کو آپ کی دلگیر چل پڑے

بزم سخن کو آپ کی دلگیر چل پڑے غالبؔ کئی چلے ہیں کئی میرؔ چل پڑے جنت کی کیا بساط کہ وہ چل کے آئے گی میری طرف تو وادئ کشمیر چل پڑے حرکت میں آ گئے ہیں سبھی رنگ خال و خط ان کی نظر کے سحر سے تصویر چل پڑے دیکھا جو مجھ کو آپ کی پلکیں جھپک گئیں اک جسم ناتواں پہ کئی تیر چل پڑے قیدی رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4918 سے 6203