قومی زبان

مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں

مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں جو مستعار نہیں ہے وہ زاویہ ہے کہاں اگر نہیں ترے جیسا تو فرق کیسا ہے اگر میں عکس ہوں تیرا تو آئنہ ہے کہاں ہوئی ہے جس میں وضاحت ہمارے ہونے کی تری کتاب میں آخر وہ حاشیہ ہے کہاں یہ ہم سفر تو سبھی اجنبی سے لگتے ہیں میں جس کے ساتھ چلا تھا وہ قافلہ ہے ...

مزید پڑھیے

تم انتظار کے لمحے شمار مت کرنا

تم انتظار کے لمحے شمار مت کرنا دیئے جلائے نہ رکھنا سنگار مت کرنا مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا کرن سے بھی ہے زیادہ ذرا مری رفتار نہیں ہے آنکھ سے ممکن شکار مت کرنا تمہیں خبر ہے کہ طاقت مرا وسیلہ ہے تم اپنے آپ کو بے اختیار مت کرنا تمہارے ساتھ ...

مزید پڑھیے

سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے

سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے اس کہانی میں اضافی تذکرہ میرا بھی ہے بے سبب آوارگی مصروف رکھتی ہے مجھے رات دن بیکار پھرنا مشغلہ میرا بھی ہے بات کر فرہاد سے بھی انتہائے عشق پر مشورہ مجھ سے بھی کر کچھ تجربہ میرا بھی ہے کیا ضروری ہے اندھیرے میں ترا تنہا سفر جس پہ چلنا ہے ...

مزید پڑھیے

کہاں تلاش میں جاؤں کہ جستجو تو ہے

کہاں تلاش میں جاؤں کہ جستجو تو ہے کہیں نہیں ہے یہاں اور چار سو تو ہے محاذ جنگ پہ کھلتے نہیں ہیں ہاتھ مرے میں کیا کروں کہ مقابل مرا عدو تو ہے بدل گیا ہے زمانہ بدل گئی دنیا نہ اب وہ میں ہوں مری جاں نہ اب وہ تو تو ہے کسی نے اٹھ کے یہاں سے کہیں نہیں جانا سجی ہے بزم کہ موضوع گفتگو تو ...

مزید پڑھیے

اگر چبھتی ہوئی باتوں سے ڈرنا پڑ گیا تو

اگر چبھتی ہوئی باتوں سے ڈرنا پڑ گیا تو محبت سے کبھی تم کو مکرنا پڑ گیا تو تری بکھری ہوئی دنیا سمیٹے جا رہا ہوں اگر مجھ کو کسی دن خود بکھرنا پڑ گیا تو ذخیرہ پشت پر باندھا نہیں تم نے ہوا کا کہیں گہرے سمندر میں اترنا پڑ گیا تو وہ مجھ سے دور ہوتا جا رہا ہے رفتہ رفتہ اگر اس کو کبھی ...

مزید پڑھیے

دیر تک چند مختصر باتیں

دیر تک چند مختصر باتیں اس سے کیں میں نے آنکھ بھر باتیں تو مرے پاس جب نہیں ہوتا تجھ سے کرتا ہوں کس قدر باتیں کیسی بیچارگی سے کرتے ہیں بے اثر لوگ با اثر باتیں دیکھ بچوں سے گفتگو کر کے کیسی ہوتیں ہیں بے ضرر باتیں سن کبھی بے خودی میں کرتے ہیں بے خبر لوگ با خبر باتیں اس کی عادت ہے ...

مزید پڑھیے

بنائی ہے تری تصویر میں نے ڈرتے ہوئے

بنائی ہے تری تصویر میں نے ڈرتے ہوئے لرز رہا تھا مرا ہاتھ رنگ بھرتے ہوئے میں انہماک میں یہ کس مقام تک پہنچا تجھے ہی بھول گیا تجھ کو یاد کرتے ہوئے نظام کن کے سبب انتشار ہے مربوط یہ کائنات سمٹتی بھی ہے بکھرتے ہوئے کہیں کہیں تو زمیں آسماں سے اونچی ہے یہ راز مجھ پہ کھلا سیڑھیاں ...

مزید پڑھیے

مصر فرعون کی تحویل میں آیا ہوا ہے

مصر فرعون کی تحویل میں آیا ہوا ہے خون پانی کی جگہ نیل میں آیا ہوا ہے وقت بے وقت جھلکتا ہے مری صورت سے کون چہرہ مری تشکیل میں آیا ہوا ہے پیش بینی ہے یہ الہام کے آئینے کی عکس قرآن کا انجیل میں آیا ہوا ہے کوئی لمحہ مجھے تبدیل کئے جاتا ہے کیا تغیر مری تکمیل میں آیا ہوا ہے سرگزشت دل ...

مزید پڑھیے

وقت بے وقت یہ پوشاک مری تاک میں ہے

وقت بے وقت یہ پوشاک مری تاک میں ہے جانتا ہوں کہ مری خاک مری تاک میں ہے مجھ کو دنیا کے عذابوں سے ڈرانے والو ایک عالم پس افلاک مری تاک میں ہے سانپ ہر دشت میں کرتا ہے تعاقب میرا بحر بے آب کا تیراک مری تاک میں ہے جمع کرتا ہے شواہد مرے ہونے کے خلاف در حقیقت مرا ادراک مری تاک میں ...

مزید پڑھیے

اپنا گھر بازار میں کیوں رکھ دیا

اپنا گھر بازار میں کیوں رکھ دیا واقعہ اخبار میں کیوں رکھ دیا خواب کی اپنی بھی اک توقیر ہے دیدۂ بے دار میں کیوں رکھ دیا کھیل میں خانہ بدلنے کے لئے اپنا مہرہ ہار میں کیوں رکھ دیا سر بچانے تک تو شاید ٹھیک ہو خوف یہ دستار میں کیوں رکھ دیا نیند نہ آنا یہ راتوں کو نشاطؔ دل کو اس آزار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4917 سے 6203