مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں
مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں جو مستعار نہیں ہے وہ زاویہ ہے کہاں اگر نہیں ترے جیسا تو فرق کیسا ہے اگر میں عکس ہوں تیرا تو آئنہ ہے کہاں ہوئی ہے جس میں وضاحت ہمارے ہونے کی تری کتاب میں آخر وہ حاشیہ ہے کہاں یہ ہم سفر تو سبھی اجنبی سے لگتے ہیں میں جس کے ساتھ چلا تھا وہ قافلہ ہے ...