قومی زبان

دل اور طرح آج تو گھبرایا ہوا ہے

دل اور طرح آج تو گھبرایا ہوا ہے اے بے خبری چونک کوئی آیا ہوا ہے سلگے ہوئے بوسے یہ ہوا کے ہیں فنا کے دل خوف سے ہر پھول کا تھرایا ہوا ہے تاکہ نہ نگاہوں کو اندھیرے نظر آئیں آئینہ اجالوں نے یہ چمکایا ہوا ہے اے رات نہ فاخر ہو ستاروں کی چمک پر وہ چاند بھی تیرا ہے جو گہنایا ہوا ہے

مزید پڑھیے

ساحل انتظار میں تنہا (ردیف .. ے)

ساحل انتظار میں تنہا یاد وہ لہر لہر آئے مجھے دشت دیوانگی کے ٹیلوں پر رقص کرتی ہوا بلائے مجھے اجنبی مجھ سے آ گلے مل لے آج اک دوست یاد آئے مجھے بھول بیٹھا ہوں میں زمانے کو اب زمانہ بھی بھول جائے مجھے اک گھروندا ہوں ریت کا پیہم کوئی ڈھائے مجھے بنائے مجھے ایک حرف غلط ہوں ہستی ...

مزید پڑھیے

دل گرفتہ ہوں جہاں شاد ہوں میں

دل گرفتہ ہوں جہاں شاد ہوں میں ایک مجموعۂ اضداد ہوں میں تیرا میرا ہے گماں کا رشتہ تو ہے میری تری ایجاد ہوں میں تجھ کو یہ غم کہ گرفتار ہے تو مجھ کو یہ رنج کے آزاد ہوں میں کوئی رستہ ہے نہ کوئی منزل گرد ہوں اور سر باد ہوں میں تن تنہا کا ہوں اپنے ناصر خود کو پہنچی ہوئی امداد ہوں ...

مزید پڑھیے

کدورت سے غبار آلودہ آئینہ نہیں رہتا

کدورت سے غبار آلودہ آئینہ نہیں رہتا مرے چہرے پہ کوئی دوسرا چہرہ نہیں رہتا غموں کی دھوپ سے چہرے وہاں مرجھائے رہتے ہیں تری زلف معنبر کا جہاں سایہ نہیں رہتا کوئی منظر بھی ہو افسردہ افسردہ سا لگتا ہے تصور میں کسی کا جب رخ زیبا نہیں رہتا در و دیوار سے یہ کیسی ویرانی ٹپکتی ہے تری ...

مزید پڑھیے

زمانہ صورت دیوار کیوں ہے

زمانہ صورت دیوار کیوں ہے یہ خاموشی سر بازار کیوں ہے ادھر کچھ روز سے ہاتھوں میں اپنے بجائے شاخ گل تلوار کیوں ہے یہاں ہر راستہ ہے صاف سیدھا مگر ہر شخص کج رفتار کیوں ہے جو بستی چین سے سوتی تھی شب بھر وہ بستی خوف سے دو چار کیوں ہے بتاؤ بک گئے تم بھی نظرؔ کیا مقفل اب لب اظہار کیوں ...

مزید پڑھیے

ایک آنسو میں ترے غم کا احاطہ کرتے

ایک آنسو میں ترے غم کا احاطہ کرتے عمر لگ جائے گی اس بوند کو دریا کرتے عشق میں جاں سے گزرنا بھی کہاں ہے مشکل جان دینی ہو تو عاشق نہیں سوچا کرتے ایک تو ہی نظر آتا ہے جدھر دیکھتا ہوں اور آنکھیں نہیں تھکتی ہیں تماشا کرتے زندگی نے ہمیں فرصت ہی نہیں دی ورنہ سامنے تجھ کو بٹھا بیٹھ کے ...

مزید پڑھیے

ہر طرف حد نظر تک سلسلہ پانی کا ہے

ہر طرف حد نظر تک سلسلہ پانی کا ہے کیا کہیں ساحل سے کوئی رابطہ پانی کا ہے خشک رت میں اس جگہ ہم نے بنایا تھا مکان یہ نہیں معلوم تھا یہ راستہ پانی کا ہے آگ سی گرمی اگر تیرے بدن میں ہے تو ہو دیکھ میرے خون میں بھی ولولہ پانی کا ہے ایک سوہنی ہی نہیں ڈوبی مری بستی میں تو ہر محبت کا مقدر ...

مزید پڑھیے

تم بھٹک جاؤ تو کچھ ذوق سفر آ جائے گا

تم بھٹک جاؤ تو کچھ ذوق سفر آ جائے گا مختلف رستوں پہ چلنے کا ہنر آ جائے گا میں خلا میں دیکھتا رہتا ہوں اس امید پر ایک دن مجھ کو اچانک تو نظر آ جائے گا تیز اتنا ہی اگر چلنا ہے تنہا جاؤ تم بات پوری بھی نہ ہوگی اور گھر آ جائے گا یہ مکاں گرتا ہوا جب چھوڑ جائیں گے مکیں اک پرندہ ...

مزید پڑھیے

ہے نیند ابھی آنکھ میں پل بھر میں نہیں ہے

ہے نیند ابھی آنکھ میں پل بھر میں نہیں ہے کروٹ کوئی آرام کی بستر میں نہیں ہے ساحل پہ جلا دے جو پلٹنے کا وسیلہ اب ایسا جیالا مرے لشکر میں نہیں ہے پھیلاؤ ہوا ہے مرے ادراک سے پیدا وسعت مرے اندر ہے سمندر میں نہیں ہے سیکھا نہ دعاؤں میں قناعت کا سلیقہ وہ مانگ رہا ہوں جو مقدر میں نہیں ...

مزید پڑھیے

گزر چکا ہے جو لمحہ وہ ارتقا میں ہے

گزر چکا ہے جو لمحہ وہ ارتقا میں ہے مری بقا کا سبب تو مری فنا میں ہے نہیں ہے شہر میں چہرہ کوئی تر و تازہ عجیب طرح کی آلودگی ہوا میں ہے ہر ایک جسم کسی زاویے سے عریاں ہے ہے ایک چاک جو موجود ہر قبا میں ہے غلط روی کو تری میں غلط سمجھتا ہوں یہ بے وفائی بھی شامل مری وفا میں ہے مرے گناہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4916 سے 6203