قومی زبان

وحشت میں سوئے دشت جو یہ آہ لے گئی

وحشت میں سوئے دشت جو یہ آہ لے گئی کیا کیا کنوئیں جھکانے تری چاہ لے گئی آئے کبھی نہ راہ پہ کیا جانیے ہمیں کیدھر کو یہ طبیعت گمراہ لے گئی کعبے میں بھی گئے تو ہمیں تیری یاد آہ پھر سوئے دیر اے بت دل خواہ لے گئی اس نے کہاں بلایا تھا یہ اس کے گھر ہمیں ناحق زبان خلق کی افواہ لے ...

مزید پڑھیے

قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا

قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا پر ڈرتے ہوئے لے جو وہاں نام ہمارا کیا تاب ہے جو سامنے ٹھہرے کوئی اس کے آفت ہے غضب ہے وہ دل آرام ہمارا آغاز نے تو عشق کے یہ حال دکھایا اب دیکھیے کیا ہووے گا انجام ہمارا اے چرخ اسی طرح تو گردش میں رہے گا پر تجھ سے نہ نکلے گا کبھو کام ہمارا اے پیر ...

مزید پڑھیے

دل دیا جی دیا خفا نہ کیا

دل دیا جی دیا خفا نہ کیا بے وفا تجھ سے سے میں نے کیا نہ کیا غم دوری کو تیری دیکھ کے یار آج تک جان سے جدا نہ کیا فائدہ کیا ہے اب بگڑنے کا کون تھا جس سے تو ملا نہ کیا یہ ہمیں تھے کہ ان جفاؤں پر پھر کبھی تجھ ستی گلا نہ کیا کون سی شب تھی ہجر کی آصفؔ کہ یہ دل شمع ساں جلا نہ کیا

مزید پڑھیے

ہم نے قصہ بہت کہا دل کا

ہم نے قصہ بہت کہا دل کا نہ سنا تم نے ماجرا دل کا اپنے مطلب کی سب ہی کہتے ہیں ہے نہیں کوئی آشنا دل کا عشق میں ایسی کھینچی رسوائی ہو گیا شور جا بجا دل کا اس قدر بے حواس رہتا ہے جیسے کچھ کوئی لے گیا دل کا ایک بوسے پہ بیچتے تھے ہم تو نے سودا نہ کچھ کیا دل کا تیرے ملنے سے فائدہ کیا ...

مزید پڑھیے

مر گیا غم میں ترے ہائے میں روتا روتا

مر گیا غم میں ترے ہائے میں روتا روتا جیب و دامن کے تئیں اشک سے دھوتا دھوتا غیر از خار ستم کچھ نہ اگا اور کہیں کشت الفت میں پھرا اشک میں بوتا بوتا رفتہ رفتہ ہوا آخر کے تئیں کو مفلس نقد کو عمر کی میں ہجر میں کھوتا کھوتا گرچہ فرہاد تھا اور قیس جنوں میں مشہور ایک دن میں بھی پہنچ ...

مزید پڑھیے

جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیں

جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیں ہر گام پہ دہشت سے بے جان نکلتے ہیں یہ آن ہے اے یارو یا نوک ہے برچھی کی یا سینے سے تیروں کے پیکان نکلتے ہیں رندوں نے کہیں ان کی خدمت میں بے ادبی کی جو شیخ جی مجلس سے سرسان نکلتے ہیں یہ طفل سرشک اپنے ایسا ہو میاں بہکیں بے طرح یہ اب گھر سے نادان ...

مزید پڑھیے

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے ہم نے جانا کہ دو جہاں سے گئے تیرے کوچے میں نقش پا کی طرح ایسے بیٹھے کہ پھر نہ واں سے گئے شمع کی طرح رفتہ رفتہ ہم ایسے گزرے کہ جسم و جاں سے گئے ایک دن میں نے یار سے یہ کہا اب تو ہم طاقت و تواں سے گئے ہنس کے بولا کہ سن لے اے آصفؔ یہی کہہ کہہ کے لاکھوں جاں سے ...

مزید پڑھیے

جو شمشیر تیری علم دیکھتے ہیں

جو شمشیر تیری علم دیکھتے ہیں تو ووہیں سر اپنا قلم دیکھتے ہیں تجھے غیر سے جب بہم دیکھتے ہیں نہ دیکھے کوئی جو کہ ہم دیکھتے ہیں جو چاہیں کہ لکھیں کچھ احوال دل کا تو ہاتھوں کو اپنے قلم دیکھتے ہیں تو جلدی سے آور نہ میرے مسیحا کوئی دم کو راہ عدم دیکھتے ہیں گلی میں بتوں کی شب و روز ...

مزید پڑھیے

غیر پر لطف کرے ہم پہ ستم یا قسمت

غیر پر لطف کرے ہم پہ ستم یا قسمت تھا نصیبوں میں ہمارے یہ صنم یا قسمت یار تو یار نہیں بخت ہیں سو الٹے ہیں کب تلک ہم یہ سہیں درد و الم یا قسمت کوچہ گردی سے اسے شوق ہے لیکن گاہے اس طرف کو نہیں رکھتا وہ قدم یا قسمت کوچۂ یار میں تھوڑی سی جگہ دے اے بخت مانگتا تجھ سے نہیں ملک عجم یا ...

مزید پڑھیے

سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا

سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا اب کیا کروں علاج دل داغدار کا اس سے مجھے ملاؤ کہ مرتا ہوں ہجر میں باعث ہے زندگی کا مری وصل یار کا صیاد اب تو چھوڑ دے آتی ہے فصل گل دیکھوں گا ہائے کیوں کہ تماشا بہار کا شاید تمہارے دیں میں ہے اے دلبرو روا دل چھین لینا عاشق سینہ فگار کا شبنم نہیں ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4912 سے 6203