وحشت میں سوئے دشت جو یہ آہ لے گئی
وحشت میں سوئے دشت جو یہ آہ لے گئی کیا کیا کنوئیں جھکانے تری چاہ لے گئی آئے کبھی نہ راہ پہ کیا جانیے ہمیں کیدھر کو یہ طبیعت گمراہ لے گئی کعبے میں بھی گئے تو ہمیں تیری یاد آہ پھر سوئے دیر اے بت دل خواہ لے گئی اس نے کہاں بلایا تھا یہ اس کے گھر ہمیں ناحق زبان خلق کی افواہ لے ...