قومی زبان

گلشن کے گل ہیں چاک گریباں ترے بغیر

گلشن کے گل ہیں چاک گریباں ترے بغیر اجڑی ہوئی ہے بزم گلستاں ترے بغیر آ جا کہ میرا دل ہے پریشاں ترے بغیر پھر چشم انتظار ہے گریاں ترے بغیر بے کیف زندگی ہے تو ہر ہر نفس ہے بار ہوگا نہ دل مرا کبھی خنداں ترے بغیر ممنون التفات ہوں اے جذب دل ترا پاتا ہے کون منزل عرفاں ترے بغیر اے دور ...

مزید پڑھیے

آپ آئے تو دل کشی آئی

آپ آئے تو دل کشی آئی لب پہ گلشن کے بھی ہنسی آئی تم سے پہلے یہاں اندھیرا تھا تم جو آئے تو روشنی آئی ڈوب جاتیں حیات کی نبضیں ان کے آنے سے زندگی آئی سارے عالم کا بخت روشن ہے میری قسمت میں تیرگی آئی دیکھ کر مجھ کو آج کیوں اسلمؔ زندگی روٹھ کر چلی آئی

مزید پڑھیے

درد غم فراق کا درماں نہ ہو سکا

درد غم فراق کا درماں نہ ہو سکا ظلمت کدہ میں دل کے چراغاں نہ ہو سکا ہوش و خرد سے دور جنوں کی حدود میں کچھ اہتمام جشن بہاراں نہ ہو سکا ان کی خوشی کے واسطے میں مسکرا دیا لیکن شگفتہ دل کا گلستاں نہ ہو سکا شمع حیات بجھنے کو ہر چند ہے مگر افسانۂ حیات کا عنواں نہ ہو سکا آئی بہار آ کے ...

مزید پڑھیے

کس کو دکھلائیں گے وہ ناز و ادا میرے بعد

کس کو دکھلائیں گے وہ ناز و ادا میرے بعد ہوگی کس پر یہ بھلا مشق جفا میرے بعد دیکھیے آپؐ بھی افسردہ رہیں گے اکثر یار آ جائے گی جب میری وفا میرے بعد زینت حسن بڑھی خون جگر سے میرے پھیکا پڑ جائے گا یہ رنگ حنا میرے بعد بارہا عرش بریں نالۂ شب سے کانپا عرش تک جائے گی کب آہ رسا میرے ...

مزید پڑھیے

درد جتنے ہیں وہی باعث درماں ہوں گے

درد جتنے ہیں وہی باعث درماں ہوں گے چارہ گر تیرے نہ شرمندۂ احساں ہوں گے دیکھنا گیسوئے جاناں بھی پریشاں ہوں گے موسم گل میں جو ہم چاک گریباں ہوں گے یوں ترے عشق میں ہم بے سر و ساماں ہوں گے اپنی ہستی کے تصور سے گریزاں ہوں گے داستاں غیر کی رنگین بنانے والے دیکھنا میرے فسانے کے بھی ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ قرباں میں ہوں اس تکرار پر

کیوں نہ قرباں میں ہوں اس تکرار پر پیار آتا ہے ترے انکار پر ناز بے جا ہے ابھی گفتار پر فیصلہ باقی ہے جب کردار پر بام پر شاید وہ آئیں بے نقاب چشم حسرت ہے در و دیوار پر ہر کلی ہوتی ہے صدقے صبح و شام تیرے گیسو اور ترے رخسار پر خون سے میں نے بھی سینچا ہے چمن حق ہے میرا بھی گل و گلزار ...

مزید پڑھیے

طوائف

کبھی دل سوچتا ہے ان طوائف زادیوں کی زندگی لکھوں کہ جن کے روز و شب کوٹھے کی چھوٹی کوٹھری میں ملگجی سی روشنی میں زندگی کی تلخیاں چن کر گزرتی ہیں کہ جن کے پھول سے کومل بدن نے تھوک سے لتھڑے بدن کا فاصلہ سا طے کیا ہو چند لمحوں میں کہ جن کے تن سے لاکھوں وحشیوں نے رات و دن کے ہر پہر میں ...

مزید پڑھیے

مشینیں

متحرک مشینیں سانس لیتے ہوئے گوشت پوست کی مشینیں چمک دمک سے مزین اور جذبات سے خالی دل نیک و بد کے احساس سے ماورا پیچیدہ تجارتی اذہان کے ساتھ زندہ رہنے کی دوڑ میں سرگرداں موت کی جانب بھاگتے چلے جا رہے ہیں

مزید پڑھیے

نظم

یہ پہلی نظم ان آنکھوں کی خاطر ہے کہ جن میں چاند تاروں سی چمکتی شاہراہوں پر ہزاروں ان کہے جذبے حیا کی سرخ حدت سے پگھلتے ہیں کہ جن میں خواب راتوں میں افق سے ایک شہزادہ محبت کی نئی نظمیں لیے نیچے اترتا ہے کہ جن میں عشق ہر اجلی سحر امید کی روشن زمیں پر خواہشوں کے جسم میں تجسیم ہوتا ...

مزید پڑھیے

بٹلہ ہاؤس

گھڑی کی ٹک ٹک بول رہی ہے رات کے شاید ایک بجے ہیں بٹلہ ہاؤس کی ایک گلی میں موٹے کتے بھونک رہے ہیں ایک کھنڈر میں تیز روشنی چاروں جانب پھیل رہی ہے بغل میں لیٹا ساتھی میرا اب تک پب جی کھیل رہا ہے میں بھی اب تک جاگ رہا ہوں آنکھیں موندے سوچ رہا ہوں نیچے جانا کیسا ہوگا باہر کتنی سردی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4900 سے 6203