قومی زبان

پردیسی کا خط

ہماری دوری کے موسموں کو اے جان جاناں نصاب رکھنا میں تم سے ملنے کو آؤں گا جب ورق ورق تم کتاب رکھنا سبھی شکایات یاد کر کے سزاؤں کا بھی حساب رکھنا خلش ہے جو بھی تمہارے دل میں مرے لیے انتساب رکھنا سوال جتنے ہوں دل میں چبھتے انہیں فراغت سے پوچھ لینا مری محبت کا پاس کرنا مجھے مکمل جواب ...

مزید پڑھیے

وہی ہوا نا کہ جس کا ڈر تھا

بچھڑ گئے تم بدل گئے تم یہ رت جو بدلی بدل گیا سب وفا کی باتیں ملن کی راتیں وہی ہوا نا کہ جس کا ڈر تھا اداسی آنکھوں میں بس گئی ہے رنگ سارے پڑے ہیں پھیکے تمہارے جذبے کی اک لہر سے اجڑ گئی ہے ہماری دنیا وہی ہوا ہے کہ جس کا ڈر تھا

مزید پڑھیے

خواب اک جزیرہ ہے

جس کے چاروں‌ سمت اب تک پانیوں کا ریلا ہے ایسا سرد پانی کہ جس میں کوئی اترے تو روح سرد پڑ جائے کانپ جائے سارا تن کون یہ سمجھتا ہے خواب کتنے ضدی ہیں گول گول لہروں میں ڈوب کر ابھرنے کا حوصلہ سمیٹے یہ ایسے کود پڑتے ہیں جیسے کوئی مدت سے پیاس میں تڑپتا ہو اور سامنے اس کے صرف ایک کوزہ ...

مزید پڑھیے

وصل کی جو خواہش ہے

یہ بہت رلاتی ہے رات بھر جگاتی ہے چین لینے دیتی ہے اور نہ رونے دیتی ہے یوں تو ایک مدت سے تم سے ہم ہیں بیگانہ ساتھ چلتے رہنے کا نہ تو کوئی وعدہ ہے پھر بھی دل میں جانے کیوں اک خلش سی رہتی ہے دل میں یہ خیال اکثر آ کے ٹھہر جاتا ہے ساتھ ساتھ چلتے ہم زندگی کے رستوں پر ہر سفر ہنسی ہوتا تم جو ...

مزید پڑھیے

خزاں کا موسم

زوال پر تھی بہار کی رت خزاں کا موسم عروج پر تھا اداسیاں تھیں ہر ایک شے پر چمن سے شادابیاں خفا تھیں ان ہی دنوں میں تھی میں بھی تنہا اداسی مجھ کو بھی ڈس رہی تھی وہ گرتے پتوں کی سوکھی آہٹ یہ صحرا صحرا بکھرتی حالت ہمی کو میری کچل رہی تھی میں لمحہ لمحہ سلگ رہی تھی مجھے یہ عرفان ہو گیا ...

مزید پڑھیے

وقت کے دھماکوں نے دھوم ایسی ڈالی ہے

لوگ سہمے سہمے ہیں ہر طرف سیاست ہے بے پناہ وعدے ہیں لچھے دار باتیں ہیں لفظ کے جھمیلے ہیں یہ کسی کا دعویٰ ہے آزمودہ نسخہ اک موت سے مفر کا ہے خود کو کہہ خدا کوئی حاکم زمانہ بن جبر و قہر کرتا ہے عام لوگ سب کہ سب بول بازیوں سے اب بے پناہ عاجز ہیں

مزید پڑھیے

ڈاکٹر

اگرچہ ہیں اپنی جگہ سارے کام مگر ڈاکٹر کا ہے اپنا مقام ذرا درد میں مبتلا ہوں اگر پکارے ہیں سب ڈاکٹر ڈاکٹر کہیں پر اگر ہو برا حادثہ تو پھر کام آتا ہے یہ ناخدا کہیں آپریشن کہیں سرجری بھلا کس سے ہوگی یہ چارہ گری بدن کا ہر اک زخم بھرنے کو ہیں مسیحا ہی یہ کام کرنے کو ہیں مگر کام یہ ذمہ ...

مزید پڑھیے

جیسے ہی چشم رزاق سے گر گیا

جیسے ہی چشم رزاق سے گر گیا جگمگاتا دیا طاق سے گر گیا ایک لغزش سے دونوں ہی رسوا ہوئے وہ نظر سے میں آفاق سے گر گیا شعر کہنے کو لکھا تھا میں نے ابھی ایک مضمون اوراق سے گر گیا اس کی نظروں سے میں کیا گرا ایک بار یوں لگا جیسے آفاق سے گر گیا ایک بیٹا تکبر کے آکاش سے باپ کے لفظ اک عاق سے ...

مزید پڑھیے

نتیجہ تجسس کا بہتر بھی ہے

نتیجہ تجسس کا بہتر بھی ہے مشقت کی تہ میں مقدر بھی ہے ندی پار کرنا ہی کافی نہیں ابھی راستے میں سمندر بھی ہے اگر گھر کو چھوڑیں تو جائیں کہاں قیامت تو کھڑکی سے باہر بھی ہے گلابوں کا دھوکا نہ کھائے کوئی عزیزوں کی جھولی میں پتھر بھی ہے نہیں نیند آنکھوں میں تجھ بن مری خنک رات ہے تن ...

مزید پڑھیے

صبح بھی ہوتی رہی مہتاب بھی ڈھلتا رہا

صبح بھی ہوتی رہی مہتاب بھی ڈھلتا رہا زندگی کا کارواں چلتا رہا چلتا رہا سانحہ کیا اس پہ گزرا کون اٹھ کر دیکھتا اہل خانہ سو گئے لیکن دیا جلتا رہا میرے خوابوں کی کوئی بنیاد بھی تھی کیا کہوں برف کا پربت تھا اک گلتا رہا گلتا رہا آخری وقت آ گیا تو سوچتا ہوں دوستو آج کا جو مسئلہ تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4891 سے 6203