پردیسی کا خط
ہماری دوری کے موسموں کو اے جان جاناں نصاب رکھنا میں تم سے ملنے کو آؤں گا جب ورق ورق تم کتاب رکھنا سبھی شکایات یاد کر کے سزاؤں کا بھی حساب رکھنا خلش ہے جو بھی تمہارے دل میں مرے لیے انتساب رکھنا سوال جتنے ہوں دل میں چبھتے انہیں فراغت سے پوچھ لینا مری محبت کا پاس کرنا مجھے مکمل جواب ...