قومی زبان

فرصت ہجر میں کچھ کار تماشہ ہی سہی

فرصت ہجر میں کچھ کار تماشہ ہی سہی تو نہیں مجھ کو میسر تو یہ دنیا ہی سہی میں کسی رحم و کرم پر تو نہیں تیری طرح زیست کی راہ پہ اب چاہے میں تنہا ہی سہی قریۂ غیر میں الفاظ کا دم گھٹتا ہے فرط اظہار کے پل اپنا علاقہ ہی سہی پہلے بڑھ چڑھ کے محبت میں کیا وقت بسر اب زبوں حالیٔ جذبات میں ...

مزید پڑھیے

شوق نظر گلاب سے بھی مطمئن نہیں

شوق نظر گلاب سے بھی مطمئن نہیں چشم اداس خواب سے بھی مطمئن نہیں کس عمر میں نہ جانے قناعت پسند ہو یہ دل کہ دستیاب سے بھی مطمئن نہیں اب تیرے خد و خال پہ کیا اکتفا کرے یہ آنکھ ماہتاب سے بھی مطمئن نہیں بس یوں ہی بے قراری کی لت میں ہوں مبتلا ویسے میں اضطراب سے بھی مطمئن نہیں میرے ...

مزید پڑھیے

تمہارے ہجر کا صدقہ اتار پھینکتا ہے

تمہارے ہجر کا صدقہ اتار پھینکتا ہے دلیر شخص ہے خواہش کو مار پھینکتا ہے بڑے بڑوں کو ٹھکانے لگا دیا اس نے یہ عشق لاش بھی صحرا کے پار پھینکتا ہے یہ کیسے شخص کے ہاتھوں میں دے دیا خود کو فلک کی سمت مجھے بار بار پھینکتا ہے میں جانتا ہوں محبت کی فصل بوئے گا زمیں پہ اشک جو زار و قطار ...

مزید پڑھیے

فاختہ شاخ سے اڑتے ہوئے گھبرائی تھی

فاختہ شاخ سے اڑتے ہوئے گھبرائی تھی جب پرندوں کے بلکنے کی صدا آئی تھی آبلے میری زباں پر ہیں تو حیرت کیسی میں نے اک بار تری جھوٹی قسم کھائی تھی کب یہ سوچا تھا برابر سے گزر جائے گا میری جس شخص سے برسوں کی شناسائی تھی اب وہ کہتا ہے کہ زنجیر بنی میرے لیے اس کے پیروں میں جو پائل کبھی ...

مزید پڑھیے

بھنور سے ناؤ کے پلڑے بچانے پڑتے ہیں

بھنور سے ناؤ کے پلڑے بچانے پڑتے ہیں مجھے یہ لوگ کنارے لگانے پڑتے ہیں سو اتنا سہل محبت کو لے نہ شہزادی گداز پوروں سے کانٹے اٹھانے پڑتے ہیں کبھی جو حال کو چہرے سے بھانپ لیتا تھا اب اس کو رنج بھی رو کر بتانے پڑتے ہیں ہماری شاخوں تک آتی ہے جب خزاں کی شنید ہم ایسے پیڑوں کو پتے گرانے ...

مزید پڑھیے

دلوں کو رہتا ہے کچھ دن بھرم محبت کا

دلوں کو رہتا ہے کچھ دن بھرم محبت کا بگاڑ دیتے ہیں پھر حلیہ ہم محبت کا یہ وہ ہوا ہے جو برسوں غبار اڑاتی ہے دنوں میں جاتا نہیں دوست غم محبت کا ہوس دلاتی ہے مجھ کو بھی اشتہا لیکن لحاظ کرتا ہوں تیری قسم محبت کا ہمارے پاس نہیں غم کا اور کوئی تریاق نمیدہ آنکھوں پہ کرتے ہیں دم محبت ...

مزید پڑھیے

روگ میں نے بھی کئی جاں کو لگائے برسوں

روگ میں نے بھی کئی جاں کو لگائے برسوں جانے والے بھی نہیں لوٹ کے آئے برسوں آخرش تاب مشقت کی نہ آنکھوں میں رہی میں نے روزی کی طرح خواب کمائے برسوں دھول جذبوں کی ہٹائی تو یہ احساس ہوا اس محبت میں شب و روز گنوائے برسوں تو نہیں تھا تو مقدر بھی غنودہ ہی رہے ٹھوکریں مار کے بھی ہم نے ...

مزید پڑھیے

ویسے تو اس گھر کو اس نے چاہے کم خوشحالی دی

ویسے تو اس گھر کو اس نے چاہے کم خوشحالی دی بیٹا بر خوردار دیا اور بیٹی حوصلے والی دی غصے میں دونوں نے اک دوجے کے ہاتھ کو جھٹکا تھا اور اب سوچ رہے ہیں پہلے کس نے کس کو گالی دی کچھ میں خود بھی ہر اک شخص کی باتوں میں آ جاتا ہوں کچھ ویسے بھی اس نے مجھ کو صورت بھولی بھالی دی ورنہ کام ...

مزید پڑھیے

یہ اذن جست فقط اک بہانہ ہوتا ہے

یہ اذن جست فقط اک بہانہ ہوتا ہے کہاں ٹھہرتے ہیں وہ جن کو جانا ہوتا ہے ہمارے سر پہ محبت کا اتنا بوجھ نہ ڈال ہمیں معاش کا دکھ بھی اٹھانا ہوتا ہے جہاں پہ سوختہ جذبات رکھے جاتے ہیں ہر ایک دل میں کہیں سرد خانہ ہوتا ہے ہمارے تذکرے صدیوں لبوں پہ رہتے ہیں ہمارے دن نہیں ہوتے زمانہ ہوتا ...

مزید پڑھیے

دم بہ دم ایک ساتھ بیٹھے ہیں

دم بہ دم ایک ساتھ بیٹھے ہیں پھر بھی کم ایک ساتھ بیٹھے ہیں صرف تصویر رہ گئی باقی جس میں ہم ایک ساتھ بیٹھے ہیں کیا تعجب کہ میری تربت پر دو صنم ایک ساتھ بیٹھے ہیں تو یہاں پاؤں دھر نہیں سکتا تیرے غم ایک ساتھ بیٹھے ہیں گفتگو ہے کنائیوں میں حسن سب عجم ایک ساتھ بیٹھے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 4882 سے 6203