روگ میں نے بھی کئی جاں کو لگائے برسوں

روگ میں نے بھی کئی جاں کو لگائے برسوں
جانے والے بھی نہیں لوٹ کے آئے برسوں


آخرش تاب مشقت کی نہ آنکھوں میں رہی
میں نے روزی کی طرح خواب کمائے برسوں


دھول جذبوں کی ہٹائی تو یہ احساس ہوا
اس محبت میں شب و روز گنوائے برسوں


تو نہیں تھا تو مقدر بھی غنودہ ہی رہے
ٹھوکریں مار کے بھی ہم نے جگائے برسوں


اس کی آنکھوں سے کسی طور اندھیرا نہ گیا
دیپ جس کے لیے خوں سے بھی جلائے برسوں


روٹھ کر شہر خموشاں کو گئے آتے نہیں
ہچکیاں لے کے کوئی چاہے منائے برسوں


میں بھی سہہ پایا نہیں تیری جدائی کو حسنؔ
اور اس دل سے بھی اٹھتی رہی ہائے برسوں