بھنور سے ناؤ کے پلڑے بچانے پڑتے ہیں

بھنور سے ناؤ کے پلڑے بچانے پڑتے ہیں
مجھے یہ لوگ کنارے لگانے پڑتے ہیں


سو اتنا سہل محبت کو لے نہ شہزادی
گداز پوروں سے کانٹے اٹھانے پڑتے ہیں


کبھی جو حال کو چہرے سے بھانپ لیتا تھا
اب اس کو رنج بھی رو کر بتانے پڑتے ہیں


ہماری شاخوں تک آتی ہے جب خزاں کی شنید
ہم ایسے پیڑوں کو پتے گرانے پڑتے ہیں


تپش بھی دھوپ کی لگنے نہ دی ہو جن کو کبھی
وہ پیارے مٹی میں اک دن دبانے پڑتے ہیں


وہ شخص میری حسنؔ ایک بھی نہیں سنتا
میں کیا کروں مجھے آنسو بہانے پڑتے ہیں