قومی زبان

ہماری عمروں سے رائگانی کو کھا گئی ہے

ہماری عمروں سے رائگانی کو کھا گئی ہے فضا محبت کی بد گمانی کو کھا گئی ہے بچھڑنے والے پلٹ کے آیا تو کن دنوں میں کہ جب جدائی مری جوانی کو کھا گئی ہے یہ روز و شب اپنے زیست سے خالی کٹ رہے ہیں معاش کی فکر زندگانی کو کھا گئی ہے وہ چاہتا تھا کہ اس کے آگے میں گڑگڑاؤں مری انا اس کی خوش ...

مزید پڑھیے

کسی اور کو میں ترے سوا نہیں چاہتا

کسی اور کو میں ترے سوا نہیں چاہتا سو کسی سے تیرا موازنہ نہیں چاہتا کوئی کند ذہن قبیل سے ہے مرے خلاف کہ وہ روشنی کا ہی ارتقا نہیں چاہتا تو حسین ہے سو مغالطے میں نہ خرچ ہو مرے دوست دل سے تجھے ذرا نہیں چاہتا ترا وصل چاہے رگوں میں زہر اتار دے ترے ہجر کا کبھی اژدہا نہیں چاہتا ابھی ...

مزید پڑھیے

سرشار بھی کرتی ہے غزل لیتی ہے جاں بھی

سرشار بھی کرتی ہے غزل لیتی ہے جاں بھی خوشبو کے برابر سے نکلتا ہے دھواں بھی ہوتی تھیں کبھی شام کی نیندیں بھی میسر آنکھوں میں گزر جاتی ہے اب پہلی اذاں بھی پہچان فقط نام و نسب سے نہیں ہوتی شجرے کا پتا دیتی ہے انساں کی زباں بھی کس طرح کیا تو نے محبت کا ازالہ پورا نہ ہوا مجھ سے تو ...

مزید پڑھیے

حصار غم سے نکل اپنی زندگانی بچا (ردیف .. ہ)

حصار غم سے نکل اپنی زندگانی بچا نگاہ ہجر میں آئی ہوئی جوانی بچا یہ لوگ پیار کے حاسد ہیں میرے قصہ گو کسی کی ایک نہ سن تو فقط کہانی بچا عجیب رنج تھا جس نے یہ آنکھ بنجر کی میں اتنا رویا مری آنکھ میں نہ پانی بچا ہر ایک چیز نہ غصے سے کوڑے‌ دان میں پھینک قرار دل کو بھی اس کی کوئی نشانی ...

مزید پڑھیے

جنگ نہ ہونے دیں گے

ہم جنگ نہ ہونے دیں وشو شانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی آسمانوں پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا ایٹم سے ناگا ساکی پھر نہیں جلے گا یدھ وہین وشو کا سپنا بھنگ نہ ہونے دیں گے جنگ نہ ہونے دیں گے ہتھیاروں کے ...

مزید پڑھیے

آؤ پھر سے دیا جلائیں

بھری دوپہری میں اندھیارا سورج پرچھائیں سے ہارا انترتم کا نیہ نچوڑیں بجھی ہوئی باقی سلگائیں آؤ پھر سے دیا جلائیں ہم پڑاؤ کو سمجھے منزل لکچھ ہوا آنکھوں سے اوجھل ورتمان کے موہ جال میں آنے والا کل نہ بھلائیں آؤ پھر سے دیا جلائیں آہوتی باقی یگیہ ادھورا اپنوں کے وگھنوں نے ...

مزید پڑھیے

بیٹا اور ماں

ایک اردو کے پروفیسر کا بیٹا جامعیؔ اپنی ماں کو خط لکھا کرتا تھا ہندی میں سدا ایک دن پوچھا میاں اردو میں کیوں لکھتے نہیں آئی اردو ڈونٹ نو سر فخر سے اس نے کہا جب یہ پوچھا پڑھ لیا کرتی ہیں وہ دیوناگری ہنس کے بولا مائی ممی ڈونٹ نو ہندی ذرا کس طرح معلوم ہوتا ہے انہیں مضمون خط بولا ...

مزید پڑھیے

نظریں ملیں چراغ جلے روشنی ہوئی

نظریں ملیں چراغ جلے روشنی ہوئی لو دے اٹھی پھر اپنی طبیعت بجھی ہوئی خون جگر سے نکھرے خد و خال آرزو دل کے لہو سے شاخ تمنا ہری ہوئی اب صبح نو بہار کی کیا آرزو کریں اک شاخ آشیاں ہے سو وہ بھی جلی ہوئی پھر یاد آ گئیں شب ہجراں کی تلخیاں دل کو کبھی خوشی جو گھڑی دو گھڑی ہوئی بھڑکا دیا ...

مزید پڑھیے

ڈھلا جو دن تو گیا نور آفتاب بھی ساتھ

ڈھلا جو دن تو گیا نور آفتاب بھی ساتھ شباب لے گیا رعنائی شباب بھی ساتھ وہ ساتھ تھا تو شب زندگی چراغاں تھی جلو میں رہتے تھے انجم بھی ماہتاب بھی ساتھ حیات کیا ہے فقط مستعار لمحۂ شوق یہ کہہ کے لے گئی موج ہوا حباب بھی ساتھ اسی میں خیر ہے نظریں جھکی رہیں ورنہ نظر اٹھے گی تو جل جائے ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شام جو پردیس میں اترتی ہے

وہ ایک شام جو پردیس میں اترتی ہے تمہیں خبر ہی نہیں دل پہ کیا گزرتی ہے تمہیں خبر ہی نہیں میرے دن گزرنے کی تمہیں خبر ہی نہیں رات کیسے کٹتی ہے عجب زمین پہ اترا ہوں اس کے رنگ عجیب پرے دھکیلتی ہے پاؤں بھی پکڑتی ہے یہ کیا ہوا کہ کسی اور گھر کے آنگن میں ترے جمال کی بارش برستی رہتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4883 سے 6203