فرصت ہجر میں کچھ کار تماشہ ہی سہی

فرصت ہجر میں کچھ کار تماشہ ہی سہی
تو نہیں مجھ کو میسر تو یہ دنیا ہی سہی


میں کسی رحم و کرم پر تو نہیں تیری طرح
زیست کی راہ پہ اب چاہے میں تنہا ہی سہی


قریۂ غیر میں الفاظ کا دم گھٹتا ہے
فرط اظہار کے پل اپنا علاقہ ہی سہی


پہلے بڑھ چڑھ کے محبت میں کیا وقت بسر
اب زبوں حالیٔ جذبات میں اتنا ہی سہی


جانے والے تو کوئی اک تو بھرم رہنے دے
کچھ نہ کچھ دل کے لیے حاصل رفتہ ہی سہی


سرسری رنج پہ بنتا ہے حسن ضبط مگر
اس بہانے سے چلو ورزش گریہ ہی سہی