یہ اذن جست فقط اک بہانہ ہوتا ہے
یہ اذن جست فقط اک بہانہ ہوتا ہے
کہاں ٹھہرتے ہیں وہ جن کو جانا ہوتا ہے
ہمارے سر پہ محبت کا اتنا بوجھ نہ ڈال
ہمیں معاش کا دکھ بھی اٹھانا ہوتا ہے
جہاں پہ سوختہ جذبات رکھے جاتے ہیں
ہر ایک دل میں کہیں سرد خانہ ہوتا ہے
ہمارے تذکرے صدیوں لبوں پہ رہتے ہیں
ہمارے دن نہیں ہوتے زمانہ ہوتا ہے
تو معترض نہ ہو اتنا ملال بیش بہا
کبھی کبھی تو ہمیں مسکرانا ہوتا ہے
اڑا لے جاتی ہے مجھ کو وہاں سمے کی ہوا
جہاں کہیں بھی مرا آب و دانہ ہوتا ہے
کسی کو لاتی ہے راہوں میں کچے گھر کی خلش
کوئی سفر پہ خوشی سے روانہ ہوتا ہے
کھلے کواڑ علامت ہیں آس کی لیکن
ہوا کے رخ پہ دیا بھی جلانا ہوتا ہے
ہمارے حال پہ جیسی گزر رہی ہو حسنؔ
ہمیں رویہ بھی ویسا بنانا ہوتا ہے