کوئی تصویر یہاں آئنہ خانوں میں نہیں
کوئی تصویر یہاں آئنہ خانوں میں نہیں اب ہدف کون ہو جب تیر کمانوں میں نہیں بے حسی جبر مسلسل کا نتیجہ ٹھہری حرف مصلوب ہوئے نطق زبانوں میں نہیں لوگ کچھ اتنے حقیقت کے پرستار ہوئے یعنی وہ شخص نیا ہے جو پرانوں میں نہیں ہم کہ ماضی بھی ہیں امروز بھی ہیں فردا بھی ہم سبھی کچھ ہیں مگر قید ...