قومی زبان

کوئی تصویر یہاں آئنہ خانوں میں نہیں

کوئی تصویر یہاں آئنہ خانوں میں نہیں اب ہدف کون ہو جب تیر کمانوں میں نہیں بے حسی جبر مسلسل کا نتیجہ ٹھہری حرف مصلوب ہوئے نطق زبانوں میں نہیں لوگ کچھ اتنے حقیقت کے پرستار ہوئے یعنی وہ شخص نیا ہے جو پرانوں میں نہیں ہم کہ ماضی بھی ہیں امروز بھی ہیں فردا بھی ہم سبھی کچھ ہیں مگر قید ...

مزید پڑھیے

مصروف ہم بھی انجمن آرائیوں میں تھے

مصروف ہم بھی انجمن آرائیوں میں تھے گھر جل رہا تھا لوگ تماشائیوں میں تھے کتنی جراحتیں پس احساس درد تھیں کتنے ہی زخم روح کی گہرائیوں میں تھے کچھ خواب تھے جو ایک سے منظر کا عکس تھے! کچھ شعبدے بھی اس کی مسیحائیوں میں تھے تپتی زمیں پہ اڑتے بگولوں کا رقص تھا سات آسمان قہر کی ...

مزید پڑھیے

دیکھے بھالے رستے تھے

دیکھے بھالے رستے تھے پھر بھی لوگ بھٹکتے تھے دریا صحرا اور سراب منظر سارے پھیکے تھے اک سنجوگ کا قصہ تھا کتنے بندھن ٹوٹے تھے دل تو اس کا اجلا تھا لیکن کپڑے میلے تھے نظریں دھندلی دھندلی تھیں چہرے نیلے پیلے تھے گلیاں کوچے سب جل تھل ٹوٹ کے بادل برسے تھے کتنے چاند گہن میں ...

مزید پڑھیے

ہیروشیما کی پیڑا

کسی رات کو میری نیند اچانک اچٹ جاتی ہے آنکھ کھل جاتی ہے میں سوچنے لگتا ہوں کہ جن ویگیانکوں نے انو استروں کا اوشکار کیا تھا وے ہیروشیما ناگا ساکی کے بھیشن نرسنہار کے سماچار سن کر رات کو سوئے کیسے ہوں گے دانت میں پھنسا تنکا آنکھ کی کرکری پاؤں میں چبھا کانٹا آنکھوں کی نیند من کا ...

مزید پڑھیے

شکایت ہے بہت لیکن گلا اچھا نہیں لگتا

شکایت ہے بہت لیکن گلا اچھا نہیں لگتا دلوں کی بات ہے کم حوصلہ اچھا نہیں لگتا نمی آنکھوں میں سوز دل کا عنوان تکلم ہے مگر خاموش اشکوں کا صلہ اچھا نہیں لگتا ادھر آنا نہ جانا ہی ادھر گم کردہ راہی ہے تذبذب کا مجھے یہ مرحلہ اچھا نہیں لگتا مسرت اور غم دونوں کی کوئی حد ضروری ہے کسی بھی ...

مزید پڑھیے

گھٹا زلفوں کی جب سے اور کالی ہوتی جاتی ہے

گھٹا زلفوں کی جب سے اور کالی ہوتی جاتی ہے رخ روشن کی تابانی مثالی ہوتی جاتی ہے مرے بخت سیہ کے حاشیے پر روشنی سی ہے مری تاریک شب کچھ پھر اجالی ہوتی جاتی ہے اٹھے جاتے ہیں دیدہ ور سبھی آہستہ آہستہ یہ دنیا معتبر لوگوں سے خالی ہوتی جاتی ہے وہ میری انجمن پر رنگ برساتے ہیں کچھ ایسا کہ ...

مزید پڑھیے

قریب سے نہ گزر انتظار باقی رکھ

قریب سے نہ گزر انتظار باقی رکھ قرابتوں کا مگر اعتبار باقی رکھ بکھرنا ہے تو فضا میں بکھیر دے خوشبو حیا نظر میں قدم میں وقار باقی رکھ ہمیں ہمارے ہی خوابوں سے کون روکے گا کھینچا ہوا ہے جو خط حصار باقی رکھ ترا وجود عبارت ہے خوش ادائی سے کشیدہ قامتیٔ خوش گوار باقی رکھ خزاں سے صلح ...

مزید پڑھیے

حرف لرزاں ہیں کہ ہونٹوں پہ وہ آئیں کیسے؟

حرف لرزاں ہیں کہ ہونٹوں پہ وہ آئیں کیسے؟ راہ میں آہوں کے شعلے ہیں بجھائیں کیسے؟ وضع داری کے وہ پہرے ہیں کہ اے جذبۂ دل سنگ اور آئنہ اک ساتھ اٹھائیں کیسے؟ وہ مناظر جو طبیعت کو جواں رکھتے ہیں اے خزاں اب ترے ہاتھوں سے بچائیں کیسے؟ خشک آنکھوں میں اترنے سے بھلا کیا ہوگا دل ہے صد ...

مزید پڑھیے

غم یہ نہیں کہ غم سے ملاقات ہوئی

غم یہ نہیں کہ غم سے ملاقات ہوئی غم ہے کہ راہ غم میں خرافات ہو گئی میں اہتمام مجلس آداب میں رہا کیوں لوگ اٹھ گئے ہیں یہ کیا بات ہو گئی ماحول جب تمازت خورشید میں ہوا رت جانے کیوں بدل گئی برسات ہو گئی وہ واقعہ جو روح کی گہرائیوں میں تھا وہ بات اب تو نذر حکایات ہو گئی تنہا تھی میری ...

مزید پڑھیے

شور احساس میں ایسا ہے کہ محشر کہئے

شور احساس میں ایسا ہے کہ محشر کہئے ہر نئے شہر کو چیخوں کا سمندر کہئے دن کا صحرا یہ سیہ دھوپ کے امنڈے لشکر دل کو تپتے ہوئے نیزے پہ گل تر کہئے وہ ہیں آکاش کا منظر کئی رنگوں کی طرح بند شیشوں میں مجھے کرب کا دفتر کہئے تم سہی پھر بھی تو مرجھا گئے جھیلوں میں کنول ان ہواؤں کو دبی آگ کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4880 سے 6203