قومی زبان

اپنی بیٹی کے نام

اگر تمہیں کاری کہہ کر قتل کر دیں مر جانا پیار ضرور کرنا شرافت کے شو کیس میں نقاب ڈال کر مت بیٹھنا پیار ضرور کرنا پیاسی خواہشوں کے ریگزار میں ببول بن کر مت رہنا پیار ضرور کرنا اگر کسی کی یاد ہولے ہولے تمہارے دل میں آتی ہے تو مسکرا دینا پیار ضرور کرنا وہ کیا کریں گے بس سنگسار ہی تو ...

مزید پڑھیے

محبت کی منزل

ایسے تو نہیں چھیڑو میرے جسم کے طنبورے کو جیسے کوئی بچہ شرارت کرے میرا جسم کوئی راز نہیں ہے جسے دریافت کرنے کے لئے کسی نقشے کی ضرورت ہو یہ الجبرا کا سوال نہیں ہے جس کا پہلے سے فارمولا تیار ہو اس ساز کو بجانے کے لئے کوئی بھی ترکیب دنیا کی کسی بھی کتاب میں درج نہیں یہ ساز از خود بجنے ...

مزید پڑھیے

تم اور میں

مجھے گوشت کی تھالی سمجھ کر چیل کی طرح جھپٹا مارتے ہو اسے میں پیار سمجھوں اتنی بھولی میں نہیں ہوں مجھ سے تمہارا موہ ایسا ہے جیسا بلی کا چھیچھڑے سے اس کو میں پیار سمجھوں اتنی بھولی میں نہیں ہوں میرے بدن کو کھلونا جان کر مرضی ہو تو کھیلو مرضی ہو تو توڑ ڈالو اسے میں پیار سمجھوں اتنی ...

مزید پڑھیے

اڑان سے پہلے

ماں رسموں رواجوں کے دھاگوں سے بنی تارتار اوڑھنی مجھ سے واپس لے لے تم ہی ان میں پیوند لگاتے لگاتے ہار چکی ہو تو مجھ کو کیوں کر پیش کرو گی ماں دروازے کی یہ کنڈی اندر سے بند کرنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے کھول دے ورنہ میرا قد اتنا اونچا ہو گیا ہے میں اب اس تک خود پہنچ سکتی ہوں ماں مجھے ...

مزید پڑھیے

تنہائیوں کے دشت میں بھاگے جو رات بھر

تنہائیوں کے دشت میں بھاگے جو رات بھر وہ دن کو خاک جاگے گا جاگے جو رات بھر فکر معاش نے انہیں قصہ بنا دیا سجتی تھیں اپنی محفلیں آگے جو رات بھر وہ دن کی روشنی میں پریشان ہو گیا سلجھا رہا تھا بخت کے دھاگے جو رات بھر کیا کیا نہ پیاس جاگے مرے دل کے دشت میں حسرت بھی ایک آگ ہے لاگے جو ...

مزید پڑھیے

کہیں جمال پذیری کی حد نہیں رکھتا

کہیں جمال پذیری کی حد نہیں رکھتا میں بڑھ رہا ہوں تسلسل سے قد نہیں رکھتا یہ قبل و بعد کے اس پار کی حکایت ہے مرا دوام ازل اور ابد نہیں رکھتا وہ ایک ہو کے بھی ہم سے گنا نہیں جاتا وہ ایک ہو کے بھی آگے عدد نہیں رکھتا یہ عمر بھر کی ریاضت مرا مقدر ہے تراشتا ہوں جسے خال و خد نہیں ...

مزید پڑھیے

کب کہاں کیا مرے دل دار اٹھا لائیں گے

کب کہاں کیا مرے دل دار اٹھا لائیں گے وصل میں بھی دل بے زار اٹھا لائیں گے چاہئے کیا تمہیں تحفے میں بتا دو ورنہ ہم تو بازار کے بازار اٹھا لائیں گے یوں محبت سے نہ ہم خانہ بدوشوں کو بلا اتنے سادہ ہیں کہ گھر بار اٹھا لائیں گے ایک مصرعے سے زیادہ تو نہیں بار وجود تم پکارو گے تو ہر بار ...

مزید پڑھیے

رات وحشت سے گریزاں تھا میں آہو کی طرح

رات وحشت سے گریزاں تھا میں آہو کی طرح پاؤں پڑتی رہی زنجیر بھی گھنگرو کی طرح اب ترے لوٹ کے آنے کی کوئی آس نہیں تو جدا مجھ سے ہوا آنکھ سے آنسو کی طرح اب ہمیں اپنی جہالت پہ ہنسی آتی ہے ہم کبھی خود کو سمجھتے تھے ارسطو کی طرح ہاں تجھے بھی تو میسر نہیں تجھ سا کوئی ہے ترا عرش بھی ویراں ...

مزید پڑھیے

نمو پزیر ہوں ہر دم کہ مجھ میں دم ہے ابھی

نمو پزیر ہوں ہر دم کہ مجھ میں دم ہے ابھی مرا مقام ہے جو بھی وہ مجھ سے کم ہے ابھی تراش اور بھی اپنے تصور رب کو ترے خدا سے تو بہتر مرا صنم ہے ابھی نہیں ہے غیر کی تسبیح کا کوئی امکاں مرے لبوں پہ تو ذکر منم منم ہے ابھی ترابؔ پر کہاں ہوتا ہے یہ خدا کا خلا مرے وجود کے اندر کہیں عدم ہے ...

مزید پڑھیے

آسمانوں میں بھی دروازہ لگا کر دیکھیں

آسمانوں میں بھی دروازہ لگا کر دیکھیں قامت حسن کا اندازہ لگا کر دیکھیں عشق تو اپنے لہو میں ہی سنورتا ہے سو ہم کس لیے رخ پہ کوئی غازہ لگا کر دیکھیں عین ممکن ہے کہ جوڑے سے زیادہ مہکے اپنے کالر میں گل تازہ لگا کر دیکھیں بازگشت اپنی ہی آواز کی الہام نہ ہو وادئ ذات میں آوازہ لگا کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4879 سے 6203