قومی زبان

برہنگی کا مداوا کوئی لباس نہ تھا

برہنگی کا مداوا کوئی لباس نہ تھا خود اپنے زہر کا تریاق میرے پاس نہ تھا سلگ رہا ہوں خود اپنی ہی آگ میں کب سے یہ مشغلہ تو مرے درد کی اساس نہ تھا تری نوازش پیہم کے نقش دل میں رہے میں بے خبر سہی پر ایسا نا سپاس نہ تھا ہر ایک شعر تھا میرا مرے خیال کا عکس کوئی کتاب نہ تھی کوئی اقتباس نہ ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بڑھ کر نگہ لطف و عطا کس کی تھی

تجھ سے بڑھ کر نگہ لطف و عطا کس کی تھی اس کی تعبیر مگر میرے خدا کس کی تھی شہر کے شور میں صحراؤں کے سناٹے میں میں کھڑا سوچ رہا ہوں کہ صدا کس کی تھی میں نے خود اپنے لہو سے یہ چمن سینچا تھا مجھ سے اب پوچھ رہے ہو کہ خطا کس کی تھی میں کہ آئینہ تھا پھر سنگ ملامت کیسا دل خوں گشتہ میں تصویر ...

مزید پڑھیے

یوں پابند سلاسل ہو کر کون پھرے بازاروں میں

یوں پابند سلاسل ہو کر کون پھرے بازاروں میں خود ہی قید نہ ہو جائیں کیوں اپنی ہی دیواروں میں رات کے لمحوں کی سنگینی دل کو ڈستی رہتی ہے جسم سلگتا رہتا ہے تنہائی کے انگاروں میں روشنیوں کے شہر اندھیروں کے جادو میں ڈوب گئے بجھنے لگی ہو نور کی مشعل جیسے چاند ستاروں میں درد کے تپتے ...

مزید پڑھیے

دل شکستہ بھی تھا کوئی راز داں بھی نہ تھا

دل شکستہ بھی تھا کوئی راز داں بھی نہ تھا وہ مہرباں سہی پر اتنا مہرباں بھی نہ تھا روایتوں کے طلسمات توڑ کر یہ کھلا غم زمانہ کوئی جور آسماں بھی نہ تھا معاملات غم دوستی سلامت باش وہ اعتبار کہ اندیشۂ گماں بھی نہ تھا زمانہ ساز کبھی طبع مہ رخاں بھی نہ تھی کہ اس مزاج کا انداز دلبراں ...

مزید پڑھیے

جب بھی سامان سکون دل و جاں ہونے لگا

جب بھی سامان سکون دل و جاں ہونے لگا چوٹ کھائی تھی کبھی اس کا گماں ہونے لگا اب تری انجمن ناز کوئی راز نہیں اب مرا درد بھی لفظوں میں بیاں ہونے لگا زیست کیا چیز ہے کوئی بھی نہ پہچان سکا سرخ رو کون ہوا کس کا زیاں ہونے لگا شعلۂ گل نے لیا دامن گلچیں سے خراج خود بہاروں کو بھی احساس ...

مزید پڑھیے

رابطہ ٹوٹ نہ جائے کہیں خود بینی سے

رابطہ ٹوٹ نہ جائے کہیں خود بینی سے دل لرز اٹھا ہے ماحول کی سنگینی سے حوصلہ ہے تو سرابوں میں اتر کر دیکھو زندہ رہنا تو عبارت ہے خوش آئینی سے اب سر آخر شب لائے ہو سورج کی خبر یوں تماشا نہ کرو صبح کی رنگینی سے نہ برودت تھی نہ حدت تھی عجب موسم تھا چوٹ کھایا کیے ہم اپنی ہی کج بینی ...

مزید پڑھیے

وہ شخص جو نظر آتا تھا ہر کسی کی طرح

وہ شخص جو نظر آتا تھا ہر کسی کی طرح حصار توڑ کے نکلا ہے روشنی کی طرح صدا میں ڈھل کے لبوں تک جو حرف آیا تھا اب اس کا زہر بھی ڈستا ہے خامشی کی طرح یہ سال طول مسافت سے چور چور گیا یہ ایک سال تو گزرا ہے اک صدی کی طرح تمہی کوئی شجر سایہ دار ڈھونڈ رکھو کہ وہ تو اپنے لیے بھی ہے اجنبی کی ...

مزید پڑھیے

دھڑکن میں نہاں عشق کے آزار سے پہلے

دھڑکن میں نہاں عشق کے آزار سے پہلے اک اور حسیں غم ہے غم یار سے پہلے فطرت کی تمنا کا جو درپن ہیں وہ نغمے گاتی ہیں ہوائیں دل فنکار سے پہلے موسم نے تو بادل کے ابھی باندھے ہیں گھنگھرو دل جھوم اٹھا ہے مرا جھنکار سے پہلے ہم اپنے خیالوں میں تھے کچھ بھی نہیں سمجھے موجوں میں تو ہلچل سی ...

مزید پڑھیے

بھروسے کا قتل

مذہب کی تلوار بنا کر خواہشوں کے اندھے گھوڑے پر سوار میرے من آنگن کو روند ڈالا میرے بھروسے کو سولی پر ٹانگ کر تم نے دوسرا بیاہ رچا لیا تمہارے سنگ گزارے پل پل کو میں نے اپنے ماس پر کھال کی طرح منڈھ لیا تھا تمہارے ساتھ آنچل باندھ کر بابا کا آنگن پار کر کے تمہارے لائے سانچے میں میں نے ...

مزید پڑھیے

کاش سمجھ دار نہ بنوں

تجربہ کار ذہن تو سب سمجھ جاتا ہے ذہن میں سوچوں کو بند کر کے تالا ڈال دوں چالاک آنکھیں تو سب کچھ تاڑ لیتی ہیں ان پر لا علمی کے شیشے چڑھا دوں اپنے حساس دل کو ذرا خاطر میں نہ لاؤں ماضی کا تمام مشاہدہ اور تجربہ جو درج ہے ذہن پر اسے مٹا ڈالوں میری عقل میرے لیے عذاب بن گئی ہے کاش سمجھ دار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4878 سے 6203