قومی زبان

پرتو ساغر صہبا کیا تھا

پرتو ساغر صہبا کیا تھا رات اک حشر سا برپا کیا تھا کیوں جوانی کی مجھے یاد آئی میں نے اک خواب سا دیکھا کیا تھا حسن کی آنکھ بھی نمناک ہوئی عشق کو آپ نے سمجھا کیا تھا عشق نے آنکھ جھکا لی ورنہ حسن اور حسن کا پردا کیا تھا کیوں مجازؔ آپ نے ساغر توڑا آج یہ شہر میں چرچا کیا تھا

مزید پڑھیے

نہ ہم آہنگ مسیحا نہ حریف جبریل

نہ ہم آہنگ مسیحا نہ حریف جبریل تیرا شاعر کہ ہے زندانی گیسوئے جمیل کس کی آنکھوں میں یہ غلطاں ہے جوانی کی شراب کھول دی آہ یہ کس نے مے گلگوں کی سبیل کس طرف جائے کہاں جائے بتا دو کوئی زلف پر خم کا گرفتار نگاہوں کا قتیل عالم یاس میں کیا چیز ہے اک ساغر مے دشت ظلمات میں جس طرح خضر کی ...

مزید پڑھیے

ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا

ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا نغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیا اپنی نظروں میں نشاط جلوۂ خوباں لیے خلوتی خاص سوئے بزم عام آ ہی گیا میری دنیا جگمگا اٹھی کسی کے نور سے میرے گردوں پر مرا ماہ تمام آ ہی گیا جھوم جھوم اٹھے شجر کلیوں نے آنکھیں کھول دیں جانب گلشن کوئی مست خرام ...

مزید پڑھیے

بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جانا

بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جانا تبسم کو تبسم کیوں نظر کو کیوں نظر جانا خرد والوں سے حسن و عشق کی تنقید کیا ہوگی نہ افسون نگہ سمجھا نہ انداز نظر جانا مئے گلفام بھی ہے ساز عشرت بھی ہے ساقی بھی بہت مشکل ہے آشوب حقیقت سے گزر جانا غم دوراں میں گزری جس قدر گزری جہاں گزری اور ...

مزید پڑھیے

یہ جہاں بارگہ رطل گراں ہے ساقی

یہ جہاں بارگہ رطل گراں ہے ساقی اک جہنم مرے سینے میں تپاں ہے ساقی جس نے برباد کیا مائل فریاد کیا وہ محبت ابھی اس دل میں جواں ہے ساقی ایک دن آدم و حوا بھی کیے تھے پیدا وہ اخوت تری محفل میں کہاں ہے ساقی ہر چمن دامن گل رنگ ہے خون دل سے ہر طرف شیون و فریاد و فغاں ہے ساقی ماہ و انجم ...

مزید پڑھیے

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے اور صبر آزما بھی ہوتی ہے روح ہوتی ہے کیف پرور بھی اور درد آشنا بھی ہوتی ہے حسن کو کر نہ دے یہ شرمندہ عشق سے یہ خطا بھی ہوتی ہے بن گئی رسم بادہ خواری بھی یہ نماز اب قضا بھی ہوتی ہے جس کو کہتے ہیں نالۂ برہم ساز میں وہ صدا بھی ہوتی ہے کیا بتا دو مجازؔ کی ...

مزید پڑھیے

رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں

رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں کشش حسن کی دیکھنا چاہتا ہوں کوئی دل سا درد آشنا چاہتا ہوں رہ عشق میں رہنما چاہتا ہوں تجھی سے تجھے چھیننا چاہتا ہوں یہ کیا چاہتا ہوں یہ کیا چاہتا ہوں خطاؤں پہ جو مجھ کو مائل کرے پھر سزا اور ایسی سزا چاہتا ہوں وہ مخمور نظریں وہ مدہوش آنکھیں خراب محبت ...

مزید پڑھیے

یہ تیرگیٔ شب ہی کچھ صبح طراز آتی

یہ تیرگیٔ شب ہی کچھ صبح طراز آتی خود وعدۂ فردا کی چھاتی بھی دھڑک جاتی ہونٹوں پہ ہنسی پیہم آتے ہوئے شرماتی اب رات نہیں کٹتی اب نیند نہیں آتی جو اول و آخر تھا وہ اول و آخر ہے میں نالہ بجاں اٹھتا وہ نغمہ بساز آتی سوز شب ہجراں پھر سوز شب ہجراں ہے شبنم بہ مژہ اٹھتی یا زلف دراز ...

مزید پڑھیے

مسافر

مسافر یوں ہی گیت گائے چلا جا سر رہ گزر کچھ سنائے چلا جا تری زندگی سوز و ساز محبت ہنسائے چلا جا رلائے چلا جا ترے زمزمے ہیں خنک بھی تپاں بھی لگائے چلا جا بجھائے چلا جا کوئی لاکھ روکے کوئی لاکھ ٹوکے قدم اپنے آگے بڑھائے چلا جا حسیں بھی تجھے راستے میں ملیں گے نظر مت ملا مسکرائے چلا ...

مزید پڑھیے

مجھے جانا ہے اک دن

مجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر ابھی پھر درد ٹپکے گا مری آواز سے آخر ابھی پھر آگ اٹھے گی شکستہ ساز سے آخر مجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر ابھی تو حسن کے پیروں پہ ہے جبر حنا بندی ابھی ہے عشق پر آئین فرسودہ کی پابندی ابھی حاوی ہے عقل و روح پر جھوٹی خداوندی مجھے جانا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4871 سے 6203