قومی زبان

وطن آشوب

سبزہ و برگ و لالہ و سرو و سمن کو کیا ہوا سارا چمن اداس ہے ہائے چمن کو کیا ہوا اک سکوت ہر طرف ہوش ربا و ہولناک خلد وطن کے پاسباں خلد وطن کو کیا ہوا رقص طرب کدھر گیا نغمہ طراز کیا ہوئے غمزہ و ناز کیا ہوئے عشوہ و فن کو کیا ہوا جس کی نوائے دلستاں زخمۂ ساز شوق تھی کوئی بتاؤ اس بت غنچہ دہن ...

مزید پڑھیے

حسن و عشق

مجھ سے مت پوچھ ''مرے حسن میں کیا رکھا ہے'' آنکھ سے پردۂ ظلمات اٹھا رکھا ہے میری دنیا کہ مرے غم سے جہنم بر دوش تو نے دنیا کو بھی فردوس بنا رکھا ہے مجھ سے مت پوچھ ''ترے عشق میں کیا رکھا ہے'' سوز کو ساز کے پردے میں چھپا رکھا ہے جگمگا اٹھتی ہے دنیائے تخیل جس سے دل میں وہ شعلۂ جاں سوز دبا ...

مزید پڑھیے

آوارہ

شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارا پھروں غیر کی بستی ہے کب تک در بہ در مارا پھروں اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی میرے سینے پر مگر رکھی ہوئی شمشیر سی اے غم دل کیا ...

مزید پڑھیے

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے وہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئے اے شوق نظارہ کیا کہئے نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں اے ذوق تصور کیا کیجے ہم صورت جاناں بھول گئے اب گل سے نظر ملتی ہی نہیں اب دل کی کلی کھلتی ہی نہیں اے فصل بہاراں رخصت ہو ہم لطف بہاراں ...

مزید پڑھیے

حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے

حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے دل کی جانب نظر ہے کیا کہئے پھر وہی رہ گزر ہے کیا کہئے زندگی راہ پر ہے کیا کہئے حسن خود پردہ ور ہے کیا کہئے یہ ہماری نظر ہے کیا کہئے آہ تو بے اثر تھی برسوں سے نغمہ بھی بے اثر ہے کیا کہئے حسن ہے اب نہ حسن کے جلوے اب نظر ہی نظر ہے کیا کہئے آج بھی ہے مجازؔ ...

مزید پڑھیے

اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم

اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم ہٹ کر چلے ہیں رہ گزر کارواں سے ہم کیا پوچھتے ہو جھومتے آئے کہاں سے ہم پی کر اٹھے ہیں خمکدۂ آسماں سے ہم کیوں کر ہوا ہے فاش زمانہ پہ کیا کہیں وہ راز دل جو کہہ نہ سکے راز داں سے ہم ہمدم یہی ہے رہ گزر یار خوش خرام گزرے ہیں لاکھ بار اسی کہکشاں سے ہم کیا ...

مزید پڑھیے

کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں

کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں یہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میں تمہیں تو ہو جسے کہتی ہے ناخدا دنیا بچا سکو تو بچا لو کہ ڈوبتا ہوں میں یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ تمہارا راز تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں اس اک حجاب پہ سو بے حجابیاں صدقے جہاں سے چاہتا ہوں تم کو دیکھتا ...

مزید پڑھیے

مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیں

مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیں مرے شباب کی قیمت ترا شباب نہیں یہ ماہتاب نہیں ہے کہ آفتاب نہیں سبھی ہے حسن مگر عشق کا جواب نہیں مری نگاہ میں جلوے ہیں جلوے ہی جلوے یہاں حجاب نہیں ہے یہاں نقاب نہیں جنوں بھی حد سے سوا شوق بھی ہے حد سے سوا یہ بات کیا ہے کہ میں مورد عتاب نہیں یہاں ...

مزید پڑھیے

شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگا

شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگا عشق تو رسوا ہو ہی چکا ہے حسن بھی کیا رسوا ہوگا حسن کی بزم خاص میں جا کر اس سے زیادہ کیا ہوگا کوئی نیا پیماں باندھیں گے کوئی نیا وعدہ ہوگا چارہ گری سر آنکھوں پر اس چارہ گری سے کیا ہوگا درد کہ اپنی آپ دوا ہے تم سے کیا اچھا ہوگا واعظ ...

مزید پڑھیے

خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی

خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی ہاں لطف جب ہے پا کے بھی ڈھونڈا کرے کوئی تم نے تو حکم ترک تمنا سنا دیا کس دل سے آہ ترک تمنا کرے کوئی دنیا لرز گئی دل حرماں نصیب کی اس طرح ساز عیش نہ چھیڑا کرے کوئی مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی رنگینی نقاب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4872 سے 6203