قومی زبان

لکھنؤ

فردوس حسن و عشق ہے دامان لکھنؤ آنکھوں میں بس رہے ہیں غزالان لکھنؤ صبر آزما ہے غمزۂ ترکان لکھنؤ رشک زنان مصر کنیزان لکھنؤ ہر سمت اک ہجوم نگاران لکھنؤ اور میں کہ ایک شوخ غزل خوان لکھنؤ مطرب بھی ہے شراب بھی ابر بہار بھی شیراز بن گیا ہے شبستان لکھنؤ تولے ہوئے ہے تیغ و سناں حس بے ...

مزید پڑھیے

مزدوروں کا گیت

محنت سے یہ مانا چور ہیں ہم آرام سے کوسوں دور ہیں ہم پر لڑنے پر مجبور ہیں ہم مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم گو آفت و غم کے مارے ہیں ہم خاک نہیں ہیں تارے ہیں اس جگ کے راج دلارے ہیں مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم بننے کی تمنا رکھتے ہیں مٹنے کا کلیجہ رکھتے ہیں سرکش ہیں سر اونچا رکھتے ہیں مزدور ...

مزید پڑھیے

کس سے محبت ہے

بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہے میں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہے سراپا رنگ و بو ہے پیکر حسن و لطافت ہے بہشت گوش ہوتی ہیں گہر افشانیاں اس کی وہ میرے آسماں پر اختر صبح قیامت ہے ثریا بخت ہے زہرہ جبیں ہے ماہ طلعت ہے مرا ایماں ہے میری زندگی ہے میری جنت ہے میری ...

مزید پڑھیے

خواب سحر

مہر صدیوں سے چمکتا ہی رہا افلاک پر رات ہی طاری رہی انسان کے ادراک پر عقل کے میدان میں ظلمت کا ڈیرا ہی رہا دل میں تاریکی دماغوں میں اندھیرا ہی رہا اک نہ اک مذہب کی سعیٔ خام بھی ہوتی رہی اہل دل پر بارش الہام بھی ہوتی رہی آسمانوں سے فرشتے بھی اترتے ہی رہے نیک بندے بھی خدا کا کام کرتے ...

مزید پڑھیے

اندھیری رات کا مسافر

جوانی کی اندھیری رات ہے ظلمت کا طوفاں ہے مری راہوں سے نور ماہ و انجم تک گریزاں ہے خدا سویا ہوا ہے اہرمن محشر بداماں ہے مگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں غم و حرماں کی یورش ہے مصائب کی گھٹائیں ہیں جنوں کی فتنہ خیزی حسن کی خونیں ادائیں ہیں بڑی پر زور آندھی ہے بڑی کافر ...

مزید پڑھیے

رات اور ریل

پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئی نیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئی ڈگمگاتی جھومتی سیٹی بجاتی کھیلتی وادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئی تیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیں آندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئی جیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیت ایک اک لے میں ...

مزید پڑھیے

کرشمہ سازئ دل دیکھتا ہوں

کرشمہ سازئ دل دیکھتا ہوں تمہیں اپنے مقابل دیکھتا ہوں جہاں منزل کا امکاں ہی نہیں ہے وہاں آثار منزل دیکھتا ہوں صدا دی تو نے کیا جانے کہاں سے مگر میں جانب دل دیکھتا ہوں کہاں کا رہنما اور کیسی راہیں جدھر بڑھتا ہوں منزل دیکھتا ہوں اشارا ہے ترا طوفاں کی جانب مگر میں ہوں کہ ساحل ...

مزید پڑھیے

یوں ہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر

یوں ہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر بنو کیوں چارہ گر تم کیا کرو گے چارہ گر ہو کر دکھا دے ایک دن اے حسن رنگیں جلوہ گر ہو کر وہ نظارہ جو ان آنکھوں میں رہ جائے نظر ہو کر دل سوز آشنا کے جلوے تھے جو منتشر ہو کر فضائے دہر میں چمکا کئے برق و شرر ہو کر وہی جلوے جو اک دن دامن دل سے ...

مزید پڑھیے

نگاہ لطف مت اٹھ خوگر آلام رہنے دے

نگاہ لطف مت اٹھ خوگر آلام رہنے دے ہمیں ناکام رہنا ہے ہمیں ناکام رہنے دے کسی معصوم پر بیداد کا الزام کیا معنی یہ وحشت خیز باتیں عشق بد انجام رہنے دے ابھی رہنے دے دل میں شوق شوریدہ کے ہنگامے ابھی سر میں محبت کا جنون خام رہنے دے ابھی رہنے دے کچھ دن لطف نغمہ مستیٔ صہبا ابھی یہ ساز ...

مزید پڑھیے

دل خوں گشتۂ جفا پہ کہیں (ردیف .. ے)

دل خوں گشتۂ جفا پہ کہیں اب کرم بھی گراں نہ ہو جائے تیرے بیمار کا خدا حافظ نذر چارہ گراں نہ ہو جائے عشق کیا کیا نہ آفتیں ڈھائے حسن گر مہرباں نہ ہو جائے مے کے آگے غموں کا کوہ گراں ایک پل میں دھواں نہ ہو جائے پھر مجازؔ ان دنوں یہ خطرہ ہے دل ہلاک بتاں نہ ہو جائے

مزید پڑھیے
صفحہ 4870 سے 6203