قومی زبان

وہ غزل کی کتاب ہے پیارے

وہ غزل کی کتاب ہے پیارے اس کو پڑھنا ثواب ہے پیارے وہ کبھی نرم چاندنی سی لگے اور کبھی آفتاب ہے پیارے عمر کچی ہے عشق کیا جانے خامشی بھی جواب ہے پیارے اپنے ہاتھوں پلائے خوشبو تو سادہ پانی شراب ہے پیارے اس کو پڑھنا تو چوم کر پڑھنا وہ خدا کی کتاب ہے پیارے اس کو دیکھو لباس مت ...

مزید پڑھیے

جسم کے گھروندے میں آگ شور کرتی ہے

جسم کے گھروندے میں آگ شور کرتی ہے دل میں جب محبت کی چاندنی اترتی ہے شام کے دھندلکوں میں ڈوبتا ہے یوں سورج جیسے آرزو کوئی میرے دل میں مرتی ہے دن میں ایک ملتی ہے اور دوسری شب میں دھوپ جب بچھڑتی ہے چاندنی سنورتی ہے باغباں نے روکا یا لے گیا اسے بادل بات کیا ہوئی خوشبو اتنی دیر کرتی ...

مزید پڑھیے

پھول پر اوس ہے عارض پہ نمی ہو جیسے

پھول پر اوس ہے عارض پہ نمی ہو جیسے اس کے چہرے پہ مری آنکھ دھری ہو جیسے اس کی پلکوں پہ رکھوں ہونٹ تو یوں جلتے ہیں اس کے سینے میں کہیں آگ لگی ہو جیسے جھیل کے ہونٹ پہ سورج کی کرن لہرائی میرے محبوب کے ہونٹوں پہ ہنسی ہو جیسے اب بھی رہ رہ کے مرے دل میں سسکتا ہے کوئی اس میں مورت کوئی ...

مزید پڑھیے

دل کے آنگن میں تری یاد کا تارا چمکا

دل کے آنگن میں تری یاد کا تارا چمکا میری بے نور سی آنکھوں میں اجالا چمکا شام کے ساتھ یہ دل ڈوب رہا تھا لیکن یک بیک جھیل کے اس پار کنارا چمکا ہر گلی شہر کی پھولوں سے سجی میرے لیے ہر دریچے میں کوئی چاند سا چہرہ چمکا غم کے پردے میں خوشی بھی تو چھپی ہوتی ہے خوش ہوا میں جو مرے پاؤں ...

مزید پڑھیے

میں تجھے بھولنا چاہوں بھی تو نا ممکن ہے

میں تجھے بھولنا چاہوں بھی تو نا ممکن ہے تو مری پہلی محبت ہے مرا محسن ہے میں اسے صبح نہ جانوں جو ترے سنگ نہیں میں اسے شام نہ مانوں کہ جو تیرے بن ہے کیسا منظر ہے ترے ہجر کے پس منظر کا ریگ صحرا ہے رواں اور ہوا ساکن ہے تیری آنکھوں سے ترے ہاتھوں سے لگتا تو نہیں میرے احباب یہ کہتے ہیں ...

مزید پڑھیے

پہنچا دیا امید کو طوفان یاس تک

پہنچا دیا امید کو طوفان یاس تک بجھنے نہ دی فرات نے بچوں کی پیاس تک پہلے تو دسترس تھی شجر کے لباس تک لیکن خزاں نے نوچ لیا سب کا ماس تک چھڑکا گیا ہے زہر درختوں پہ اس قدر تلخی میں ڈھل گئی ہے پھلوں کی مٹھاس تک اس بار بھی لباس کو ترسیں گی چنّیاں یہ رونقیں ہیں چہروں پہ کھلتی کپاس ...

مزید پڑھیے

آج بھی جس کی خوشبو سے ہے متوالی متوالی رات

آج بھی جس کی خوشبو سے ہے متوالی متوالی رات وہ ترے جلتے پہلو میں تھی جان نکالنے والی رات صبح سے تنہا تنہا پھرنا پھر آئے گی سوالی رات اور ترے پاس دھرا ہی کیا ہے اے مری خالی خالی رات دل پر برف کی سل رکھ دینا ناگن بن کر ڈس لینا اپنے لیے دونوں ہی برابر کالی ہو کہ اجالی رات پیلے پتے ...

مزید پڑھیے

مانا کہ ستارہ سر افلاک بہت ہیں

مانا کہ ستارہ سر افلاک بہت ہیں ہم کو بھی ہمارے خس و خاشاک بہت ہیں کھلتے ہیں کدھر گل دل صد چاک بہت ہیں دامن ہیں کہاں دیدۂ نمناک بہت ہیں اتنا نہ ہنسو صاحب ادراک بہت ہیں آہستہ چلو لوگ تہ خاک بہت ہیں مٹنے کو تو مٹ جاتے ہیں ارباب محبت اکسیر ہیں اس راہ میں کم خاک بہت ہیں جس رنگ میں ...

مزید پڑھیے

کہاں گئے شب مہتاب کے جمال زدہ

کہاں گئے شب مہتاب کے جمال زدہ اکیلا شہر میں پھرتا ہوں میں خیال زدہ تمہاری بزم سے جب بھی اٹھے تو حال زدہ کبھی جواب کے مارے کبھی سوال زدہ ترے فراق کے مارے نظر تو آتے ہیں نگار شعر کہاں ہیں ترے وصال زدہ نہ دیکھو یوں مری جانب اداس آنکھوں سے کہ مجھ سے پہلے بھی گزرے بہت کمال ...

مزید پڑھیے

شہرت فن بہت ہوئی داد کمال دے گئے

شہرت فن بہت ہوئی داد کمال دے گئے شعر تو دوستو مگر صاحب حال دے گئے نورد گداز جو بھی تھا دل کی لگی کا کھیل تھا شیشۂ زندگی کو ہم شمع خیال دے گئے پرسش غم کے ساتھ تھی شرکت غم نگاہ میں کتنا ملال لے گئے کتنا ملال دے گئے صبح چمن چمن نئی شام کرن کرن نئی ہم تری کائنات کو تیرا جمال دے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4859 سے 6203