قومی زبان

بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا

بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا مگر سایا ہمارے سر پہ گزری ساعتوں کا تھا سروں پہ ہاتھ اپنے گھر کی بوسیدہ چھتوں کا تھا مگر محفوظ سا منظر ہمارے آنگنوں کا تھا کسی بھی سیدھے رستے کا سفر ملتا اسے کیوں کر کہ وہ مسدود خود اپنے بنائے دائروں کا تھا کبھی ہنستے ہوئے آنسو کبھی روتی ...

مزید پڑھیے

ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا

ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا ایک دن میں بھی زمیں پر آسماں ہو جاؤں گا ریزہ ریزہ ڈھلتا جاتا ہوں میں حرف و صوت میں رفتہ رفتہ اک نہ اک دن میں بیاں ہو جاؤں گا تم بلاؤ گے تو آئے گی صدائے بازگشت وہ بھی دن آئے گا جب سونا مکاں ہو جاؤں گا تم ہٹا لو اپنے احسانات کی ...

مزید پڑھیے

جو غم میں جلتے رہے عمر بھر دیا بن کر

جو غم میں جلتے رہے عمر بھر دیا بن کر بجھا گئی ہے انہیں موت اب ہوا بن کر وہ خامشی جو تری بزم نے ہمیں بخشی خلائے ذہن میں گونجی ہے اک صدا بن کر جو تو نے مجھ کو غم لا زوال بخشا تھا وہ زندگی میں رہا میرا رہنما بن کر وہ جن کے لمس سے تو کھل کے پھول بنتا تھا وہ اب بھٹکتے ہیں در پر ترے صبا ...

مزید پڑھیے

تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہے

تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہے مگر جو دور کٹے تم سے زندگی کیا ہے جب اٹھ کے چل دیئے تم تیرگی امڈ آئی جو تم نہ ہو تو چراغوں کی روشنی کیا ہے کچھ ایسے پھول بھی گزرے ہیں میری نظروں سے جو کھل کے بھی نہ سمجھ پائے زندگی کیا ہے بس ان کی یاد کے ہم پاؤں چوم لیتے ہیں ہمیں خبر نہیں معراج ...

مزید پڑھیے

گھٹی گھٹی سی فضا میں شگفتگی تو ملی

گھٹی گھٹی سی فضا میں شگفتگی تو ملی چمن میں شکر ہے ہنستی کوئی کلی تو ملی بلا سے برق گری میرے آشیانے پر اندھیری رات کے رہرو کو روشنی تو ملی رہا نہ شکوۂ بے چارگی کہ غربت میں قدم قدم پہ سہارے کو بے کسی تو ملی ہمارے دل سے کوئی پوچھے قدر اس مے کی جو ایک بوند سہی وقت تشنگی تو ملی سنبھل ...

مزید پڑھیے

ناؤ طوفان میں جب زیر و زبر ہوتی ہے

ناؤ طوفان میں جب زیر و زبر ہوتی ہے ناخدا پر کبھی موجوں پہ نظر ہوتی ہے دور ہے منزل مقصود سفر ہے درپیش سونے والوں کو جگا دو کہ سحر ہوتی ہے اور بڑھ جاتی ہے کچھ قوت احساس عمل جتنی دشوار مری راہگزر ہوتی ہے گھر کے چھٹنے کا اثر عالم غربت کا خیال کیفیت دل کی عجب وقت سفر ہوتی ہے کیا ...

مزید پڑھیے

خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا

خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا زندگی کا زہر ورنہ اس قدر کڑوا نہ تھا اس نے تنہائی سے گھبرا کر پکارا تو نہیں اس سے پہلے تو مرا دل اس طرح دھڑکا نہ تھا ہائے وہ عالم کہ ان کی بزم میں بھی بیٹھ کر میں یہی سوچا کیا میں تو کبھی تنہا نہ تھا اس کے اپنے ہاتھ رخساروں کو سہلانے لگے گو ...

مزید پڑھیے

گو مرا ساتھ مری اپنی نظر نے نہ دیا

گو مرا ساتھ مری اپنی نظر نے نہ دیا دشت تنہائی میں اے دل تجھے ڈرنے نہ دیا زندگی کتنا تری بات کا ہے پاس ہمیں تو نے جو زخم دیا ہم نے وہ بھرنے نہ دیا ایک وہ ہیں کہ جنہیں اپنی خوشی لے ڈوبی ایک ہم ہیں کہ جنہیں غم نے ابھرنے نہ دیا آپ جس رہگزر دل سے کبھی گزرے تھے اس پہ تا عمر کسی کو بھی ...

مزید پڑھیے

کس نے صدا دی کون آیا ہے

کس نے صدا دی کون آیا ہے اے دل تو کیوں یوں چونکا ہے آپ سے مل کر یوں لگتا ہے ایک حسیں سپنا دیکھا ہے آنکھیں نیند سے کیوں ہیں بوجھل غم کا نشہ کچھ ٹوٹ رہا ہے دور نگر کے رہنے والو کون کسی کے پاس رہا ہے سب کو ہے اپنا اپنا غم کس نے کس کا غم سمجھا ہے یادوں کی محفل میں کھو کر دل اپنا تنہا ...

مزید پڑھیے

سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا

سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا روح پر اپنی خلاؤں کا سفر لکھا تھا ہم بھٹکتے رہے صدیوں جسے پڑھنے کے لئے اپنے اندر وہ کہیں حرف ہنر لکھا تھا آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا ہم نے جن آنکھوں میں اک خواب نگر لکھا تھا اپنے گھر میں اسی احساس نے جینے نہ دیا اپنے ہاتھوں پہ کسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4821 سے 6203