بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا
بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا مگر سایا ہمارے سر پہ گزری ساعتوں کا تھا سروں پہ ہاتھ اپنے گھر کی بوسیدہ چھتوں کا تھا مگر محفوظ سا منظر ہمارے آنگنوں کا تھا کسی بھی سیدھے رستے کا سفر ملتا اسے کیوں کر کہ وہ مسدود خود اپنے بنائے دائروں کا تھا کبھی ہنستے ہوئے آنسو کبھی روتی ...