قومی زبان

آ کر عروج کیسے گرا ہے زوال پر

آ کر عروج کیسے گرا ہے زوال پر حیران ہو رہا ہوں ستاروں کی چال پر اک اشک بھی ڈھلک کے دکھائے اب آنکھ سے میں صبر کر چکا ہوں تمہارے خیال پر آ آ کے اس میں مچھلیاں ہوتی رہیں فرار ہنستی ہے جل پری بھی مچھیروں کے جال پر مایوس ہو کے دیکھنا کیا آسمان کو اڑنے کا شوق ہے تو مری جاں نکال ...

مزید پڑھیے

کیا خبر اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ آئے

کیا خبر اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ آئے خود بہ خود تیر نشانے کی طرف لوٹ آئے سنگ لوٹ آئے پہاڑوں کی طرف آخر کار آئنے آئنہ خانے کی طرف لوٹ آئے جب کھلا ان پہ کہ نقشہ مرے صندوق میں ہے اور کچھ سانپ خزانے کی طرف لوٹ آئے رات بدمست رہے ثابت و سیار کے ساتھ صبح ہوتے ہی زمانے کی طرف لوٹ آئے گارا ...

مزید پڑھیے

کون اتھا میں اترے میری کس پہ کھلے ہنگام مرا

کون اتھا میں اترے میری کس پہ کھلے ہنگام مرا اشک سے کیسے بھانپ سکو گے خون میں ہے کہرام مرا کوئی تو ساعت گزرے جس میں دو تہذیبیں وصل کریں کھینچ لوں میں زنار بدن پر باندھ لے تو احرام مرا بچ کے کہاں جاؤ گے آخر تم اتنے چالاک نہیں دشت کے چپے چپے پر تو بچھا ہوا ہے دام مرا ہرے بھرے انسان ...

مزید پڑھیے

میں نے وہ نظم لکھی ہے کہ خدا جانتا ہے

میں نے وہ نظم لکھی ہے کہ خدا جانتا ہے اس کا ہر لفظ خدائی کا پتا جانتا ہے میری آنکھوں میں یہ تصویر ذرا غور سے دیکھ مجھ کو اس شخص سے ملنا ہے بتا جانتا ہے میں بھی زنجیر نہیں ہوتا کسی وحشت سے وہ بھی تنہائی سے بچنے کی دعا جانتا ہے دن تو میں پھر بھی کسی ڈھب سے بتا لیتا ہوں رات جو مجھ پہ ...

مزید پڑھیے

عشق کیا ہے بے بسی ہے بے بسی کی بات کر

عشق کیا ہے بے بسی ہے بے بسی کی بات کر یہ بھی کوئی زندگی ہے زندگی کی بات کر کرب سے ٹوٹا نہیں میں درد سے مرتا نہیں مجھ پہ طاری بے حسی ہے بے حسی کی بات کر وقت سے لڑتا ہوا تقدیر سے الجھا ہوا میں نہیں ہوں سرکشی ہے سرکشی کی بات کر تو خدا جس کو بنانے پر بضد ہے نا سمجھ وہ فقط اک آدمی ہے ...

مزید پڑھیے

آج شب معراج ہوگی اس لیے تزئین ہے

آج شب معراج ہوگی اس لیے تزئین ہے وہ قدم اٹھے ہیں جن کو آسماں قالین ہے ماں نے پڑھ کر پھونک دی تھی مجھ پہ بچپن میں کبھی میرے دل پر نقش اب تک سورۂ یٰسین ہے اشک کے بوسے کی لذت کیا بتاؤں میں تمہیں کیا بتاؤں میں تمہیں یہ کس قدر نمکین ہے اس کو درویشی سمجھنے والوں پر حیران ہوں ہاتھ میں ...

مزید پڑھیے

جو کہا تھا تمہیں سنا بھی تھا

جو کہا تھا تمہیں سنا بھی تھا آزمانا نہیں کہا بھی تھا میرا ملنا نہیں ہوا لیکن میں تو اپنی طرف گیا بھی تھا عشق ہوتا ہے مانتا ہوں میں مجھ کو اک بار یہ ہوا بھی تھا یہ سزا جو بھگت رہے ہو تم کیا حقیقت میں کچھ کیا بھی تھا میرے مرنے کا کیا ہوا مطلب اس کا مطلب کہ میں جیا بھی تھا تم تو ...

مزید پڑھیے

اس نگاہ ناز نے یوں رات بھر تجسیم کی

اس نگاہ ناز نے یوں رات بھر تجسیم کی سب چراغوں میں برابر روشنی تقسیم کی رات پیچھے پڑ گئی تھی خوف کے سائے لیے خواب سے آگے نکل کر وقت میں ترمیم کی آئنہ ہو جائے گا یہ دشت مجھ پر ایک دن گرہیں کھلتی جا رہی ہیں احسن تقویم کی دونوں ہی آ کر الف کی روشنی میں ضم ہوئیں اک تجلی لام کی اور اک ...

مزید پڑھیے

گھر دروازے سے دوری پر سات سمندر بیچ

گھر دروازے سے دوری پر سات سمندر بیچ ایک انجانے دشمن کی ہے گھات سمندر بیچ پھر یہ ہارنے والی آنکھیں جاگیں اس دھوکے میں کوئی خواب بھنور میں آیا رات سمندر بیچ اب کیا اونچے بادبان پر خواب ستارہ چمکے آنکھیں رہ گئیں ساحل پر اور ہات سمندر بیچ اس موسم میں کون کہاں تک دیا جلائے ...

مزید پڑھیے

اترن پہنو گے

اترن پہنو‌ گے گھاٹ گھاٹ سے دھل کر آئی اترن پہنو گے جانے کس کس ذات کے لمس ہیں اس اترن کے بخیوں میں کس کس نسل کی دیمک اس کے دامن سے ہے لگی ہوئی کتنے رنگ ریزوں نے اس پر اپنے رنگ چڑھائے ہیں کتنی بار کی دھلی ہوئی جگہ جگہ سے چھدی ہوئی انجانے ہونٹوں کے نم سے دھاگا دھاگا لدی ہوئی سو سو طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4808 سے 6203