قومی زبان

عام رستے سے ہٹ کے آیا ہوں

عام رستے سے ہٹ کے آیا ہوں ساری دنیا سے کٹ کے آیا ہوں میری وسعت تجھے ڈرا دیتی اپنے اندر سمٹ کے آیا ہوں کوئی تازہ ستم کہ میں پچھلے حادثوں سے نمٹ کے آیا ہوں ہاں محبت تو مار دیتی ہے یہ کہانی میں رٹ کے آیا ہوں میری حالت سے ماپ رستے کو میں کہاں سے پلٹ کے آیا ہوں راہ غم اب ڈرا نہیں ...

مزید پڑھیے

خوش بہت آتے ہیں مجھ کو راستے دشوار سے

خوش بہت آتے ہیں مجھ کو راستے دشوار سے سر پھرا ہوں میں نہیں ڈرتا کسی دیوار سے منزلوں کو پل میں پیچھے چھوڑتا جاتا ہوں میں راستے بھی خوف کھاتے ہیں مری رفتار سے خامشی سے صورتیں مٹ جائیں گی منظر سے کیا کچھ نہیں کہنا کسی کو آئنہ بردار سے خشک آنکھوں سے میں تکتا ہوں کنارے کی طرف مجھ کو ...

مزید پڑھیے

روح زخمی ہے جسم گھائل ہے

روح زخمی ہے جسم گھائل ہے آپ کے انتظار کا پل ہے غم ہے دونوں کا ضبط سے باہر چھت پہ میں ہوں اور ایک بادل ہے میرے ماضی کی سرخ آنکھوں میں میری محرومیوں کا کاجل ہے رنج ہے درد ہے اداسی ہے زندگی ہر طرح مکمل ہے دل کہاں ہے چراغؔ سینہ میں ایک طوفان جیسی ہلچل ہے

مزید پڑھیے

تصور پیار کا جو ہے پرانا کرنے والا ہوں

تصور پیار کا جو ہے پرانا کرنے والا ہوں میں اپنی آپ بیتی کو فسانہ کرنے والا ہوں جہاں پہ صرف وہ تھی اور میں تھا اور خوشبو تھی اسی جھرمٹ کو اپنا آشیانہ کرنے والا ہوں جسے میں چاہتا ہوں وہ کہیں کی شاہزادی ہے سو اس کے واسطے خود کو شہانہ کرنے والا ہوں اداسی دیکھ آئی ہے مکاں شہر محبت ...

مزید پڑھیے

عبارتیں چمک رہی ہیں دل میں تیرے پیار کی

عبارتیں چمک رہی ہیں دل میں تیرے پیار کی دیئے کی لو میں جل رہی ہے رات انتظار کی بھٹک رہی ہے آسماں میں آرزو کی فاختہ زمیں پہ زندگی پڑی ہے آگ میں بخار کی مری وہ منزلیں نہ تھیں جو منزلیں مجھے ملیں مری نہیں تھی راہ وہ جو میں نے اختیار کی جھلس گئے نگاہ کے تمام خواب آنچ سے یے داستان ہے ...

مزید پڑھیے

بھیک لینے عیش کی سب در بدر جاتے رہے

بھیک لینے عیش کی سب در بدر جاتے رہے میرے جیسے منچلے خوشیوں کو ٹھکراتے رہے کتنی عبرت ناک تھی احباب کی وہ گفتگو دشمنوں کے طنز جب حسرت سے یاد آتے رہے زندگی کا جائزہ لیتے رہے ہم دور سے زندگی کا سامنا کرنے سے کتراتے رہے عمر بھر سائل بنے پھرتے رہے ہم در بہ در عمر بھر دامن سوالی بن کے ...

مزید پڑھیے

یہ باتوں ہی باتوں میں باتیں بدلنا

یہ باتوں ہی باتوں میں باتیں بدلنا کوئی تم سے سیکھے یہ آنکھیں بدلنا ہم آسیب کے ڈر سے گھر کیوں بدل لیں پرندوں پہ جچتا ہے شاخیں بدلنا کچھ اپنا بھی کہہ لو یوں کب تک چلے گا ردیفیں اچکنا زمینیں بدلنا وہی غم سے عاری ہیں کار جہاں میں جنہیں خوب آتا ہے راہیں بدلنا یہ جینا بھی شطرنج ہی ...

مزید پڑھیے

اب کوئی اور مصیبت تو نہ پالی جائے

اب کوئی اور مصیبت تو نہ پالی جائے اس کی یادوں سے بھی اب جان چھڑا لی جائے وہ بھی میرے لیے کچھ سوچتا ہے سوچتا ہوں کیسے دل سے مرے یہ خام خیالی جائے زیست بے ربط ہے پر ہے تو خدا کی نعمت جس طرح سے بھی یہ نبھتی ہے نبھا لی جائے ایسے بھی دوست ہیں کچھ جن کا یہی مقصد ہے وار کیا ان کی کوئی بات ...

مزید پڑھیے

کیا آسماں سے ربط یقیں محو خواب ہے

کیا آسماں سے ربط یقیں محو خواب ہے سوئی ہوئی ہے خاک زمیں محو خواب ہے ہے نیند میں اطاعت و عرفاں کا سلسلہ سجدوں کے ساتھ ساتھ جبیں محو خواب ہے سوئے ہوئے تو سوئے ہیں دیکھو مگر یہاں جو جاگتا ہے وہ بھی کہیں محو خواب ہے یہ شہر گہری نیند میں جاتا نہیں کبھی ہر شخص اپنے اپنے تئیں محو خواب ...

مزید پڑھیے

عشق سے میں ڈر چکا تھا ڈر چکا تو تم ملے

عشق سے میں ڈر چکا تھا ڈر چکا تو تم ملے دل تو کب کا مر چکا تھا مر چکا تو تم ملے جب میں تنہا گھٹ رہا تھا تب کہاں تھی زندگی دل بھی غم سے بھر چکا تھا بھر چکا تو تم ملے بے قراری پھر محبت پھر سے دھوکہ اب نہیں فیصلہ میں کر چکا تھا کر چکا تو تم ملے میں تو سمجھا سب سے بڑھ کر مطلبی تھا میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4807 سے 6203