قومی زبان

محبت کا ایک سال

اس اک سال میں کتنے سال گزاریں گے ہم ہر اک دن، اک سال مثال ہر اک دن کی صبح کا سورج حرف سوال ہر اک دن کی جھلسی ہوئی اور بھیگی ہوئی دوپہر زوال ہر اک دن کی، ہر اک شام شام جمال ہر اک شام کی رات کمال وصل کے ہر اک لمحے میں ہیں جیسے صدیاں گھلی ہوئی ہجر کے ہر لمحے میں جیسے ہلکی آنچ پہ ریت کی ...

مزید پڑھیے

سینۂ خواب کھلے

سینۂ خواب کھلے جس طرح پیار میں ڈوبی ہوئی آنکھوں پہ لرزتی ہوئی پلکوں کا نشہ کھلتا ہے جس طرح بند کتابوں پہ کسی پھول کے کھلنے کا گماں کھلتا ہے جس طرح ہاتھ کی پوروں پہ کبھی پہلے پہلے سے کسی تجربۂ لمس محبت کا اثر کھلتا ہے سینۂ خواب کھلے سینۂ خواب کھلے اور میں دیکھوں وہ کم آثار ...

مزید پڑھیے

مداوا ہو نہیں سکتا

مداوا ہو نہیں سکتا دل سادہ اب اس آتش نما کے سامنے عجز محبت کا اعادہ ہو نہیں سکتا یہ کیا کم ہے کہ اپنے آپ تک کو بھول کر اس حسن خود آگاہ کی خاطر نہ جانے کتنے روز و شب تھے جو ہم نے گنوائے تھے بہت سارے دنوں کی گٹھڑیاں تھیں جن کو کھولا تک نہ تھا ہم نے بس اک تہہ خانۂ عمر گذشتہ میں ہم ان سب ...

مزید پڑھیے

ابھی موسم نہیں آیا

ابھی تک موسم گل لوٹ کر آیا نہیں کچھ دیر باقی ہے ابھی اس درد کی چھاؤں میں سانسوں کو رواں رکھنے کا حیلہ ڈھونڈھنا ہے پاؤں میں مٹی کے جوتے ہاتھ میں کشکول جاں سر پر کلاہ غم قبائے گرد میں لپٹے بدن دیوار گریہ سے لگا کر بیٹھنا ہے اور اس موسم کا رستہ دیکھنا ہے جس کی خاطر ہم نے اپنی خاک کے ...

مزید پڑھیے

کچھ اور ہو بھی تو رائیگاں ہے

ہوائیں بھی بادباں بھی میرے سمندروں کے سکوت میں بے لباس نسلوں کے ریزہ ریزہ جمال کے سب نشاں بھی میرے مرے شکستہ وجود کی لہلہاتی فصلوں پہ گرنے والی شفیق شبنم میں ریت کے آسماں بھی میرے قدیم لفظوں کے غم میں بے جان منظروں کے جہاں بھی میرے ستارۂ دل کی وسعتوں میں کھلے ہوئے جنگلوں کے ...

مزید پڑھیے

روبرو جاناں

ہمیں اب تک تری کچھ بھی نہ کہنے والی آنکھوں سے یہ شکوہ ہے جو کمسن خواب ان آنکھوں میں منظر کاڑھتے تھے وہ کبھی تیرے لبوں کے پھول بنتے اور ہمارے دامن اظہار میں کھلتے ہمیں ان مسکراتے چپ لبوں سے بھی شکایت ہے ہمارے شعر سن کر کھلکھلاتے تھے مگر کچھ بھی نہ کہتے تھے نہ جانے ایسے لمحوں میں ...

مزید پڑھیے

جہاں جہاں پر قدم رکھو گے تمہیں ملے گی وہیں اداسی

جہاں جہاں پر قدم رکھو گے تمہیں ملے گی وہیں اداسی یہ راز کچھ اس طرح سمجھ لو مکاں مرا ہے مکیں اداسی سمے کی آنکھوں سے دیکھیے تو ہر اک کھنڈر میں چھپے ملیں گے کہیں پہ بچپن کہیں جوانی کہیں بڑھاپا کہیں اداسی مرے شبستاں کے پاس کوئی بری طرح کل سسک رہا تھا میں اس کے سینے سے لگ کے بولا نہیں ...

مزید پڑھیے

دل نے کھلنے کی راہ لے لی ہے

دل نے کھلنے کی راہ لے لی ہے بادلوں میں پناہ لے لی ہے مسکرا کر تمہاری چاہت نے مجھ سے جینے کی چاہ لے لی ہے میرے خوابوں نے دل کے صحرا میں آج اک قبر گاہ لے لی ہے اتنی شدت کا غم نہیں تم کو تم نے جتنی صلاح لے لی ہے

مزید پڑھیے

ڈرانے والا سن کر ڈر رہا ہے

ڈرانے والا سن کر ڈر رہا ہے ہتھیلی پر ہمارا سر رہا ہے جلا دے گا اگر روکا گیا تو ابھی لاوا سفر طے کر رہا ہے دعا دی تھی جسے جینے کی تم نے دعا مر مر کے پوری کر رہا ہے وو جس بستی میں دکھتا ہے دھواں سا اسی بستی میں میرا گھر رہا ہے ترا محبوب وو ہونے سے پہلے ہمارے ساتھ بھی اکثر رہا ہے

مزید پڑھیے

وہ آئیں اوب گئے ہیں جو دہر میں اپنے

وہ آئیں اوب گئے ہیں جو دہر میں اپنے میں ایک دشت بناتا ہوں شہر میں اپنے کسی کی یاد بھنور بن کے اس طرح لپٹی کہ پاؤں چھوڑ ہی آیا میں نہر میں اپنے سبھی کو بانٹ کے شکلیں خودی رہے بے شکل ہمیں اکیلے مصور تھے شہر میں اپنے گنوں جو پھر سے انہیں اب تو بڑھ گئے ہوں گے گنے ہیں زخم ابھی پچھلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4809 سے 6203