کیسے کیسے سوانگ رچائے ہم نے دنیا داری میں
کیسے کیسے سوانگ رچائے ہم نے دنیا داری میں یوں ہی ساری عمر گنوا دی اوروں غم خواری میں ہم بھی کتنے سادہ دل تھے سیدھی سچی بات کریں لوگوں نے کیا کیا کہہ ڈالا لہجوں کی تہ داری میں جب دنیا پر بس نہ چلے تو اندر اندر کڑھنا کیا کچھ بیلے کے پھول کھلائیں آنگن کی پھلواری میں کئی دنوں سے ...