قومی زبان

مجھ کو وحشت ہوئی مرے گھر سے

مجھ کو وحشت ہوئی مرے گھر سے رات تیری جدائی کے ڈر سے تیری فرقت کا حبس تھا اندر اور دم گھٹ رہا تھا باہر سے جسم کی آگ بجھ گئی لیکن پھر ندامت کے اشک بھی برسے ایک مدت سے ہیں سفر میں ہم گھر میں رہ کر بھی جیسے بے گھر سے بارہا تیری جستجو میں ہم تجھ سے ملنے کے بعد بھی ترسے

مزید پڑھیے

تری سمت جانے کا راستہ نہیں ہو رہا

تری سمت جانے کا راستہ نہیں ہو رہا رہ عشق میں کوئی معجزہ نہیں ہو رہا کوئی آئنہ ہو جو خود سے مجھ کو ملا سکے مرا اپنے آپ سے سامنا نہیں ہو رہا تو خدائے حسن و جمال ہے تو ہوا کرے تیری بندگی سے مرا بھلا نہیں ہو رہا کوئی رات آ کے ٹھہر گئی مری ذات میں مرا روشنی سے بھی رابطہ نہیں ہو ...

مزید پڑھیے

ہوئی نہ ختم تیری رہ گزار کیا کرتے

ہوئی نہ ختم تیری رہ گزار کیا کرتے تیرے حصار سے خود کو فرار کیا کرتے سفینہ غرق ہی کرنا پڑا ہمیں آخر ترے بغیر سمندر کو پار کیا کرتے بس ایک سکوت ہی جس کا جواب ہونا تھا وہی سوال میاں بار بار کیا کرتے پھر اس کے بعد منایا نہ جشن خوشبو کا لہو میں ڈوبی تھی فصل بہار کیا کرتے نظر کی زد ...

مزید پڑھیے

گلاب چاندنی راتوں پہ وار آئے ہم

گلاب چاندنی راتوں پہ وار آئے ہم تمہارے ہونٹوں کا صدقہ اتار آئے ہم وہ ایک جھیل تھی شفاف نیل پانی کی اور اس میں ڈوب کو خود کو نکھار آئے ہم ترے ہی لمس سے ان کا خراج ممکن ہے ترے بغیر جو عمریں گزار آئے ہم پھر اس گلی سے گزرنا پڑا تری خاطر پھر اس گلی سے بہت بے قرار آئے ہم یہ کیا ستم ہے ...

مزید پڑھیے

زمین دل اک عرصے بعد جل تھل ہو رہی ہے

زمین دل اک عرصے بعد جل تھل ہو رہی ہے کوئی بارش میرے اندر مسلسل ہو رہی ہے لہو کا رنگ پھیلا ہے ہمارے کینوس پر تیری تصویر اب جا کر مکمل ہو رہی ہے ہوائے تازہ کا جھونکا چلا آیا کہاں سے کہ مدت بعد سی پانی میں ہلچل ہو رہی ہے تجھے دیکھے سے ممکن مغفرت ہو جائے اس کی تیرے بیمار کی بس آج اور ...

مزید پڑھیے

وہ ماہتاب ابھی بام پر نہیں آیا

وہ ماہتاب ابھی بام پر نہیں آیا مری دعاؤں میں شاید اثر نہیں آیا بہت عجیب ہے یاروں بلندیوں کا طلسم جو ایک بار گیا لوٹ کر نہیں آیا یہ کائنات کی وسعت کھلی نہیں مجھ پر میں اپنی ذات سے جب تک گزر نہیں آیا بہت دنوں سے ہے بے شکل سی میری مٹی بہت دنوں سے کوئی کوزہ گر نہیں آیا بس ایک لمحہ ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد کے دیپک بھی اب جلانا کیا

تمہاری یاد کے دیپک بھی اب جلانا کیا جدا ہوئے ہیں تو عہد وفا نبھانا کیا بسیط ہونے لگی شہر جاں پہ تاریکی کھلا ہوا ہے کہیں پر شراب خانہ کیا کھڑے ہوئے ہو میاں گنبدوں کے سائے میں صدائیں دے کے یہاں پر فریب کھانا کیا ہر ایک سمت یہاں وحشتوں کا مسکن ہے جنوں کے واسطے صحرا و آشیانہ ...

مزید پڑھیے

دل کی گلی میں چاند نکلتا رہتا ہے

دل کی گلی میں چاند نکلتا رہتا ہے ایک دیا امید کا جلتا رہتا ہے جیسے جیسے یادوں کہ لو بڑھتی ہے ویسے ویسے جسم پگھلتا رہتا ہے سرگوشی کو کان ترستے رہتے ہیں سناٹا آواز میں ڈھلتا رہتا ہے منظر منظر جی لو جتنا جی پاؤ موسم پل پل رنگ بدلتا رہتا ہے راکھ ہوئی جاتی ہے ساری ہریالی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

حیرت سے دیکھتا ہے مرا نقش پا مجھے

حیرت سے دیکھتا ہے مرا نقش پا مجھے یاران تیز گام یہ کیا ہو گیا مجھے خود میرے دل میں شوق سفر ہی نہیں رہا اب لاکھ بھیجیں منزلیں اپنا پتا مجھے سمجھا تھا بس حیات کو خوابوں کی جلوہ گاہ اک دل کا داغ کر گیا خود آشنا مجھے پالا ہے اپنی گود میں طوفان نے تجھے اے موج اس کی کوئی جھلک تو دکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4767 سے 6203