اس کی سوچیں اور اس کی گفتگو میری طرح
اس کی سوچیں اور اس کی گفتگو میری طرح وہ سنہرا آدمی تھا ہو بہ ہو میری طرح ایک برگ بے شجر اور اک صدائے بازگشت دونوں آوارہ پھرے ہیں کو بہ کو میری طرح چاند تارے اک دیا اور رات کا کومل بدن صبح دم بکھرے پڑے تھے چار سو میری طرح لطف آوے گا بہت اے ساکنان قصر ناز بے در و دیوار بھی رہیو ...