جو دشمن ہے اسے ہمدم نہ سمجھو
جو دشمن ہے اسے ہمدم نہ سمجھو نمک کو زخم کا مرہم نہ سمجھو سکوں ملتا ہے دل سے دل کو لیکن ہر اک ساغر کو جام جم نہ سمجھو جو پی لو گے تو مٹ جانا پڑے گا یہ ہے زہراب غم زمزم نہ سمجھو تم اپنے دامن حرص و ہوس کو مثال دامن مریم نہ سمجھو نہ ہو اپنی خطاؤں پر جو نادم اسے ہم مشرب آدم نہ ...