قومی زبان

جو دشمن ہے اسے ہمدم نہ سمجھو

جو دشمن ہے اسے ہمدم نہ سمجھو نمک کو زخم کا مرہم نہ سمجھو سکوں ملتا ہے دل سے دل کو لیکن ہر اک ساغر کو جام جم نہ سمجھو جو پی لو گے تو مٹ جانا پڑے گا یہ ہے زہراب غم زمزم نہ سمجھو تم اپنے دامن حرص و ہوس کو مثال دامن مریم نہ سمجھو نہ ہو اپنی خطاؤں پر جو نادم اسے ہم مشرب آدم نہ ...

مزید پڑھیے

تو اگر شمع محبت کو فروزاں کر دے

تو اگر شمع محبت کو فروزاں کر دے تیرگی ظلم کی چاک اپنا گریباں کر دے درد کیا شے ہے زمانے پہ نمایاں کر دے غم کی ہر موج سے ہنگامۂ طوفاں کر دے روشن اس طرح سے کر علم و عمل کی مشعل کم نگاہی کے اندھیرے میں چراغاں کر دے دیکھی جاتی نہیں بے کیف فضائے گلشن اٹھ نئے سر سے اسے خلد بداماں کر ...

مزید پڑھیے

اشکوں سے تپش سینے کی ہوتی ہے عیاں اور

اشکوں سے تپش سینے کی ہوتی ہے عیاں اور جب آگ بجھاتا ہوں تو ہوتا ہے دھواں اور ہیں ایک ہی گلشن میں مگر فرق تو دیکھو پھولوں کا جہاں اور ہے کانٹوں کا جہاں اور شاید یہ کرشمہ ہے مرے نقش وفا کا وہ جتنا مٹاتے ہیں ابھرتا ہے نشاں اور سر اپنا اٹھا لوں جو در یار سے ناصح سجدہ یہ محبت کا ادا ...

مزید پڑھیے

جیسے کوئی روتا ہے گلے پیار سے لگ کر

جیسے کوئی روتا ہے گلے پیار سے لگ کر کل رات میں رویا تری دیوار سے لگ کر ہر ایک کے چہرے پہ ہے تشویش نمایاں بیٹھے ہیں مسیحا ترے بیمار سے لگ کر پھولوں کی محبت نے سبق مجھ کو سکھایا زخمی جو ہوئے ہاتھ مرے خار سے لگ کر غمازئ خوشبو پہ کھلا راز چمن میں گزری ہے صبا گیسوئے دلدار سے لگ کر جب ...

مزید پڑھیے

تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی

تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی پائے جنوں سے حلقۂ گردش حال لے گئی جرأت شوق کے سوا خلوتیان خاص کو اک ترے غم کی آگہی تا بہ سوال لے گئی شعلۂ دل بجھا بجھا خاک زباں اڑی اڑی دشت ہزار دام سے موج خیال لے گئی رات کی رات بوئے گل کوزۂ گل میں بس گئی رنگ ہزار مے کدہ روح سفال لے گئی تیز ہوا ...

مزید پڑھیے

وہ ایک رو جو لب نکتہ چیں میں ہوتی ہے

وہ ایک رو جو لب نکتہ چیں میں ہوتی ہے سخن وہی دل اندوہ گیں میں ہوتی ہے کوئی وہ شک کا اندھیرا کہ جس کی جست کے بعد چمک سی سلسلہ ہائے یقیں میں ہوتی ہے بہار چاک گریباں میں ٹھہر جاتی ہے جنوں کی موج کوئی آستیں میں ہوتی ہے وہ خاک انجم و مہتاب کو نصیب نہیں جو موج مرگ و نمو کی زمیں میں ہوتی ...

مزید پڑھیے

ایک آدھ حریف غم دنیا بھی نہیں تھا

ایک آدھ حریف غم دنیا بھی نہیں تھا ارباب وفا میں کوئی اتنا بھی نہیں تھا لب جلتے ہیں مے خواروں کے سینے نہیں جلتے اس درجہ خنک شعلۂ مینا بھی نہیں تھا اک اس کا تغافل ہے وہ یاد آ ہی گیا ہے اک وعدۂ فردا ہے وہ بھولا بھی نہیں تھا کہہ سکتے تو احوال جہاں تم سے ہی کہتے تم سے تو کسی بات کا ...

مزید پڑھیے

بیٹھو جی کا بوجھ اتاریں دونوں وقت یہیں ملتے ہیں

بیٹھو جی کا بوجھ اتاریں دونوں وقت یہیں ملتے ہیں دور دور سے آنے والے رستے کہیں کہیں ملتے ہیں وہم بھی ہو جاتا ہے دل کو لیکن اس میں تعجب کیا ہے ایسے دشت کہ جن میں شمعیں آپ ہی آپ جلیں، ملتے ہیں گہرے سرخ گلاب کا اندھا بلبل سانپ کو کیا دیکھے گا پاس ہی اگتی ناگ پھنی تھی سارے پھول وہیں ...

مزید پڑھیے

وہی داغ لالہ کی بات ہے کہ بہ نام حسن ادھر گئی

وہی داغ لالہ کی بات ہے کہ بہ نام حسن ادھر گئی کوئی کیا کہے کہ کہاں کہاں ترے خال رخ کی خبر گئی کوئی ہاتھ دشنۂ جاں ستاں کوئی ہاتھ مرہم پرنیاں یہ تو ہاتھ ہاتھ کی بات ہے کوئی وقت پا کے سنور گئی وہی ایک سود و زیاں کا غم جو مزاج عشق سے دور تھا وہ تری زباں پہ بھی آ گیا تو لگن ہی جی کی بکھر ...

مزید پڑھیے

اے شہر خرد کی تازہ ہوا وحشت کا کوئی انعام چلے

اے شہر خرد کی تازہ ہوا وحشت کا کوئی انعام چلے کچھ حرف ملامت اور چلیں کچھ ورد زباں دشنام چلے اک گرمیٔ جست فراست ہے اک وحشت پائے محبت ہے جس پاؤں کی طاقت جی میں ہو وہ ساتھ مرے دو گام چلے ایسے غم طوفاں میں اکثر اک ضد کو اک ضد کاٹ گئی شاید کہ نہنگ آثار ہوا کچھ اب کے حریف دام چلے جو بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4756 سے 6203