قومی زبان

صلیب و دار کے قصے رقم ہوتے ہی رہتے ہیں

صلیب و دار کے قصے رقم ہوتے ہی رہتے ہیں قلم کی جنبشوں پر سر قلم ہوتے ہی رہتے ہیں یہ شاخ گل ہے آئین نمو سے آپ واقف ہیں سمجھتی ہے کہ موسم کے ستم ہوتے ہی رہتے ہیں کبھی تیری کبھی دست جنوں کی بات چلتی ہے یہ افسانے تو زلف خم بہ خم ہوتے ہی رہتے ہیں توجہ ان کی اب اے ساکنان شہر تم پر ہے ہم ...

مزید پڑھیے

دلوں کی عقدہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں

دلوں کی عقدہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں یہ آدمی کی خدائی کا وقت ہے کہ نہیں کہو ستارہ شناسو فلک کا حال کہو رخوں سے پردہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں ہوا کی نرم روی سے جواں ہوا ہے کوئی فریب تنگ قبائی کا وقت ہے کہ نہیں خلل پذیر ہوا ربط مہر و ماہ میں وقت بتا یہ تجھ سے جدائی کا وقت ہے کہ ...

مزید پڑھیے

نرمی ہوا کی موج طرب خیز ابھی سے ہے

نرمی ہوا کی موج طرب خیز ابھی سے ہے اے ہم صفیر آتش گل تیز ابھی سے ہے اک تازہ تر سواد محبت میں لے چلی وہ بوئے پیرہن کہ جنوں خیز ابھی سے ہے اک خواب طائران بہاراں ہے اس کی آنکھ تعبیر ابر و باد سے لبریز ابھی سے ہے شب تاب ابھی سے اس کی قباؤں کے رنگ ہیں اک داستاں جبین گہر ریز ابھی سے ...

مزید پڑھیے

لکھی ہوئی جو تباہی ہے اس سے کیا جاتا

لکھی ہوئی جو تباہی ہے اس سے کیا جاتا ہوا کے رخ پہ مگر کچھ تو ناخدا جاتا جو بات دل میں تھی اس سے نہیں کہی ہم نے وفا کے نام سے وہ بھی فریب کھا جاتا کشید مے پہ ہے کیسا فساد حاکم شہر تری گرہ سے ہے کیا بندۂ خدا جاتا خدا کا شکر ہے تو نے بھی مان لی مری بات رفو پرانے دکھوں پر نہیں کیا ...

مزید پڑھیے

یہ فضائے ساز و مضرب یے ہجوم تاج داراں

یہ فضائے ساز و مضرب یے ہجوم تاج داراں چلو آؤ ہم بھی نکلیں بہ لباس سوگواراں یہ فسون روئے لیلیٰ بہ عذاب جان مجنوں وہی حسن دشت و در ہے بہ طواف جاں نثاراں غم کارواں کا آخر کوئی رخ نہ اس سے چھوٹا وہ حدیث کہہ گئی ہے یہ ہوائے رہ گزاراں وہ تعصب برہمن جو صنم کو ڈھالتا ہے رخ نقش پر بھی آیا ...

مزید پڑھیے

اس گفتگو سے یوں تو کوئی مدعا نہیں

اس گفتگو سے یوں تو کوئی مدعا نہیں دل کے سوا حریف کوئی دوسرا نہیں آنکھیں ترس گئیں تمہیں دیکھے ہوئے مگر گھر قابل ضیافت مہماں رہا نہیں ناقوس کوئی بحر کی تہہ میں ہے نعرہ زن ساحل کی یہ صدا تو کوئی ناخدا نہیں مانا کہ زندگی میں ہے ضد کا بھی ایک مقام تم آدمی ہو بات تو سن لو خدا ...

مزید پڑھیے

ہوا آشفتہ تر رکھتی ہے ہم آشفتہ حالوں کو

ہوا آشفتہ تر رکھتی ہے ہم آشفتہ حالوں کو برتنا چاہتی ہے دشت مجنوں کے حوالوں کو نہ آیا کچھ مگر ہم کشتگان شوق کو آیا ہوا کی زد میں آخر بے سپر رکھنا خیالوں کو خدا رکھے تجھے اے نقش دیوار صنم خانہ کہیں گے لوگ دیوار ابد تیری مثالوں کو اندھیری رات میں اک دشت وحشت زندگی نکلی چلا جاتا ...

مزید پڑھیے

آج مقابلہ ہے سخت میر سپاہ کے لئے

آج مقابلہ ہے سخت میر سپاہ کے لئے ہو گئے سر کئی قلم ایک کلاہ کے لئے تازہ رخیٔ کائنات ڈھونڈ رہی ہے آئنہ جستجو ہے ہزار میں ایک گواہ کے لئے کھل ہی گیا طلسم دوست عین وصال میں کہ تھی اک شب ہجر زندگی لذت آہ کے لئے اک شب خود نمائی میں عصمت بے مقام نے کتنے سوال کر لئے رمز گناہ کے ...

مزید پڑھیے

سب پیچ و تاب شوق کے طوفان تھم گئے

سب پیچ و تاب شوق کے طوفان تھم گئے وہ زلف کھل گئی تو ہواؤں کے خم گئے ساری فضا تھی وادئ مجنوں کی خواب ناک جو روشناس مرگ محبت تھے کم گئے وحشت سی ایک لالۂ خونیں کفن سے تھی اب کے بہار آئی تو سمجھو کہ ہم گئے اب جن کے غم کا تیرا تبسم ہے پردہ دار آخر وہ کون تھے کہ بہ مژگان نم گئے اے جادہ ...

مزید پڑھیے

نقشے اسی کے دل میں ہیں اب تک کھنچے ہوئے

نقشے اسی کے دل میں ہیں اب تک کھنچے ہوئے وہ دور عشق تھا کہ بڑے معرکے ہوئے اتنا تو تھا کہ وہ بھی مسافر نواز تھے مجنوں کے ساتھ تھے جو بگولے لگے ہوئے آئی ہے اس سے پچھلے پہر گفتگو کی یاد وہ خلوت وصال وہ پردے چھٹے ہوئے کیوں ہم نفس چلا ہے تو ان کے سراغ میں جس عشق بے غرض کے نشاں ہیں مٹے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4755 سے 6203