صلیب و دار کے قصے رقم ہوتے ہی رہتے ہیں
صلیب و دار کے قصے رقم ہوتے ہی رہتے ہیں قلم کی جنبشوں پر سر قلم ہوتے ہی رہتے ہیں یہ شاخ گل ہے آئین نمو سے آپ واقف ہیں سمجھتی ہے کہ موسم کے ستم ہوتے ہی رہتے ہیں کبھی تیری کبھی دست جنوں کی بات چلتی ہے یہ افسانے تو زلف خم بہ خم ہوتے ہی رہتے ہیں توجہ ان کی اب اے ساکنان شہر تم پر ہے ہم ...