قومی زبان

کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بند

کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بند مرا ہو کس طرح سے درد سر بند نہیں ہیں تیرے دام زلف میں دل لٹکتے ہیں ہزاروں مرغ پر بند نہیں بت خانہ و کعبہ پہ موقوف ہوا ہر ایک پتھر میں شرر بند رقیبوں سے ہوئی ہے بزم خالی کرو دروازہ بے خوف و خطر بند تماشا بند آنکھوں میں ہے مجھ کو ہوئی میری بظاہر چشم ...

مزید پڑھیے

دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں

دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں پر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیں افسوس عبادت نہ تری ہو سکی ہم سے گردن نہیں اٹھتی ہے کہ شرمائے ہوئے ہیں الزام نہیں طور جو سرمہ ہوا جل کر موسیٰ بھی تجلی سے تو شرمائے ہوئے ہیں میں برہمن و شیخ کی تکرار سے سمجھا پایا نہیں اس یار کو جھنجھلائے ...

مزید پڑھیے

بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کی

بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کی سب ہے قدرت داور دوار کی ہم صف ''قالوا بلیٰ'' میں کیا نہ تھے کچھ نئی خواہش نہیں دیدار کی ڈھونڈھ کر دل میں نکالا تجھ کو یار تو نے اب محنت مری بیکار کی شکل گل میں جلوہ کرتے ہو کبھی گاہ صورت بلبل گل زار کی آپ آتے ہو کبھی سبحہ بکف کرتے ہو خواہش کبھی زنار ...

مزید پڑھیے

غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیں

غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیں آباد اگر نہیں ہوں تو برباد بھی نہیں ملتی تری وفا کی مجھے داد بھی نہیں مجنوں نہیں ہے دہر میں فرہاد بھی نہیں کہتا ہے یار جرم کی پاتے ہو تم سزا انصاف اگر نہیں ہے تو بیداد بھی نہیں انساں کی قدر کیا ہے جو ہو تیرے روبرو تیرے مقابلے میں پری زاد ...

مزید پڑھیے

دل کا جب افسانہ لکھ

دل کا جب افسانہ لکھ غم کو صاحب خانہ لکھ بیگانے کو اپنا کہہ اپنے کو بیگانہ لکھ راز گداز شمع بتا سوز دل پروانہ لکھ جس میں نہیں ہے غم ان کا اس دل کو ویرانہ لکھ کٹ جائے گی ہجر کی شب حال دل دیوانہ لکھ گالوں کو لکھ جلوۂ گل آنکھوں کو مے خانہ لکھ بدر جمالیؔ سودائی ہے تو اس کو دیوانہ ...

مزید پڑھیے

وہی سواد حرم ہے وہی ہیں بت خانے

وہی سواد حرم ہے وہی ہیں بت خانے سنائے جاتے ہیں عنواں بدل کے افسانے ہنسی خود اپنی اڑا لے رہے ہیں دیوانے جنوں کی کون سی منزل ہے یہ خدا جانے مآل شوق سے اہل وفا کو کیا مطلب بہ جبر عشق کھنچے آ رہے ہیں پروانے وہ جاں سپاریٔ پروانہ دل گدازیٔ شمع ہیں شب کو تلخ حقائق سحر کو افسانے غرور ...

مزید پڑھیے

ہم غم زمانہ سے یوں نظر ملائیں گے

ہم غم زمانہ سے یوں نظر ملائیں گے مشکلیں پڑیں گی جب اور مسکرائیں گے پھر بہار آئے گی پھول مسکرائیں گے پھر جنوں کے افسانے ہم کو یاد آئیں گے ظاہری تپاک ان کا دے گیا ہمیں دھوکا یہ سمجھ رہے تھے ہم دل سے دل ملائیں گے آسماں کے سہ پارو تیز گام سیارو عن قریب تم سے بھی ہم قدم ملائیں ...

مزید پڑھیے

ہم نے دیکھے زندگی میں چند ایسے سرپھرے

ہم نے دیکھے زندگی میں چند ایسے سرپھرے دشمنوں میں جو پیام دوستی لے کر پھرے وائے یہ تحت شعور اپنا بلا سا بن گیا اپنی آنکھوں میں بڑے نادیدنی منظر پھرے جب بھی وہ آئے کھلی عیش و طرب کی چاندنی دن مرے ظلمت کدہ کے اس طرح اکثر پھرے کیا کوئی شہر تمنا پھر اجڑ کر بس گیا جابران وقت کیوں ...

مزید پڑھیے

اپنے چہرے پر کئی چہرے لیے

اپنے چہرے پر کئی چہرے لیے ہم بڑے ہی پارسا بن کر جیے راز الفت کا چھپانے کے لیے ضبط گریہ بھی کیا لب بھی سیے جن میں چلتی ہیں ہوائیں تیز تیز ایسی راہوں میں جلائے ہیں دیے جو بھی ہیں اس بزم میں مدہوش ہیں اور یہ مدہوشیاں ہیں بن پیے آپ نے چھوڑے ہیں جو نقش قدم وہ ہمارے حق میں ہیں روشن ...

مزید پڑھیے

وہی جو منزل‌ شمس و قمر میں رہتا ہے

وہی جو منزل‌ شمس و قمر میں رہتا ہے وہ حسن بن کے ہماری نظر میں رہتا ہے نظر کو اپنی چھپائے ہوئے ہوں میں سب سے کہ ایک پردہ نشیں اس نظر میں رہتا ہے تمہاری دید کا ارماں جو گھٹ گیا دل میں وہ بن کے نالہ تلاش اثر میں رہتا ہے اسیر زلف پریشاں ہوں اس لئے اے دوست مرا خیال ہمیشہ سفر میں رہتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4700 سے 6203