کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بند
کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بند مرا ہو کس طرح سے درد سر بند نہیں ہیں تیرے دام زلف میں دل لٹکتے ہیں ہزاروں مرغ پر بند نہیں بت خانہ و کعبہ پہ موقوف ہوا ہر ایک پتھر میں شرر بند رقیبوں سے ہوئی ہے بزم خالی کرو دروازہ بے خوف و خطر بند تماشا بند آنکھوں میں ہے مجھ کو ہوئی میری بظاہر چشم ...