قومی زبان

قطرے میں دریا ذرے میں صحرا دکھائی دے

قطرے میں دریا ذرے میں صحرا دکھائی دے وا دل کی آنکھ ہو تو تماشا دکھائی دے تیری نظیر حسن و ادا میں کوئی نہیں مجھ کو بتا دے کوئی جو تجھ سا دکھائی دے اپنی برائیوں پہ اگر جائے گی نظر دنیا میں ہر کوئی ہمیں اچھا دکھائی دے چھانی ہے اس لئے رہ دیر و حرم کی خاک شاید تمہارا نقش کف پا دکھائی ...

مزید پڑھیے

دل پہ کیسی یہ بپتا پڑی

دل پہ کیسی یہ بپتا پڑی ہے رواں آنسوؤں کی جھڑی پھر نظر اس نظر سے لڑی آگے آگے ہے منزل کڑی ذکر ان عارضوں کا حسیں بات ان گیسوؤں کی بڑی چھاؤں زلفوں کی پھر ڈھونڈ لو دھوپ ہے سخت منزل کڑی ان کو زیبا ہے ان کا محل مجھ کو پیاری مری جھونپڑی سوچ لے غم کا سودا نہ کر غم جمالیؔ ہے نعمت بڑی

مزید پڑھیے

کب زلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے

کب زلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے کب وحشت دل کا مری سامان نہیں ہے یادوں کو لگائے ہوئے سینے سے گزر جا یہ راہ محبت ہے کچھ آسان نہیں ہے دنیا میں مجھے دولت جاوید ہے حاصل کیا دل میں مرے آپ کا ارمان نہیں ہے اے بادہ کشو ظرف کی کچھ بات کرو آج ساقی کا یہاں عام اب احسان نہیں ہے کیا پوچھتے ...

مزید پڑھیے

ہر غم پہ آج کل ہے خوشی کا گماں مجھے

ہر غم پہ آج کل ہے خوشی کا گماں مجھے لے آئی یاد یار کہاں سے کہاں مجھے منظور ذوق دید کا ہو امتحاں مجھے یہ تاب یہ مجال یہ طاقت کہاں مجھے یا رب قفس کی خیر کہ دیکھا جو خواب بھی آیا ہے بجلیوں میں نظر آشیاں مجھے آزادئ خیال کے وہ رنگ اب کہاں تھا ابتدا میں کنج قفس آشیاں مجھے ذوق طلب کا ...

مزید پڑھیے

وجہ شہرت تیری آشفتہ سری میری ہے

وجہ شہرت تیری آشفتہ سری میری ہے شہر تیرا ہی سہی در بدری میری ہے چن لیا لاکھ خداؤں میں پرستش کے لئے حسن تیرا ہی سہی دیدہ وری میری ہے ہے خبر موسم سفاک کی ہم کو لیکن بارش سنگ میں بھی شیشہ گری میری ہے ہو کے آزاد بھی میں قید قفس ہی میں رہا ہائے کیا چیز یہ بے بال و پری میری ہے اب تو ...

مزید پڑھیے

یہ بیداد بہار فتنہ ساماں کون دیکھے گا

یہ بیداد بہار فتنہ ساماں کون دیکھے گا بھری برسات میں جلتا گلستاں کون دیکھے گا بچا لینا تو ممکن ہے بھنور سے اپنی کشتی کو جو پوشیدہ ہو ساحل میں وہ طوفاں کون دیکھے گا سر محفل تو پروانوں کو جلتا سب نے دیکھا ہے ترا سوز دروں اے شمع گریاں کون دیکھے گا لہو سے لکھ تو دی تاریخ آزادی ...

مزید پڑھیے

فکر اہل ہنر پہ بیٹھی ہے

فکر اہل ہنر پہ بیٹھی ہے شاعری سیم و زر پہ بیٹھی ہے پہلے ہاتھوں میں ہاتھ رہتا تھا زندگی اب کمر پہ بیٹھی ہے سہمی سہمی ہوئی سی ہر خواہش دل وحشت اثر پہ بیٹھی ہے پھول کانٹوں کے بیچ رہتے ہیں خوشبو تتلی کے پر پہ بیٹھی ہے آستینیں ٹٹول کر دیکھو دوستی کس ڈگر پہ بیٹھی ہے

مزید پڑھیے

برا ہو کر بھی وہ اچھا بہت ہے

برا ہو کر بھی وہ اچھا بہت ہے وہ جیسا ہے نہیں بنتا بہت ہے نمک تو کم نہیں ہے روز و شب میں سواد زندگی پھیکا بہت ہے فریب سادگی ہے یا شرارت میں یہ سمجھا کہ وہ میرا بہت ہے تجھے سوچا کیا شب بھر سنوارا نہیں ایسا نہیں ویسا بہت ہے اسی سے بات کرنا ہے کہ جس نے ہمیں سمجھا نہیں پوچھا بہت ...

مزید پڑھیے

اقرار کسی دن ہے تو انکار کسی دن

اقرار کسی دن ہے تو انکار کسی دن ہو جائے گی اب آپ سے تکرار کسی دن چاہا کبھی سوچا کبھی تصویر بنائی چھوڑا نہ تری یاد نے بے کار کسی دن پلکوں پہ ستارے لیے راہوں میں کھڑے ہیں فرصت ہو تو آ جائیے سرکار کسی دن دنیا میں سدا چلتی ہے چاہت کی حکومت آ جاؤ منا لیں گے ہم اتوار کسی دن آیا ہے ...

مزید پڑھیے

گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی

گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی عاشقوں کے گھر مٹھائی لب شکر بٹ جائے گی روبرو گر ہوگا یوسف اور تو آ جائے گا اس کی جانب سے زلیخا کی نظر بٹ جائے گی رہزنوں میں ناز و غمزہ کی یہ جنس دین و دل جوں متاع بردہ آخر ہم دگر بٹ جائے گی ہوگا کیا گر بول اٹھے غیر باتوں میں مری پھر طبیعت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4701 سے 6203