پھل درختوں سے گرے تھے آندھیوں میں تھال بھر
پھل درختوں سے گرے تھے آندھیوں میں تھال بھر میرے حصے میں مگر آئے نہیں رومال بھر پہلے سارے پنچھیوں کو پر ملیں پرواز کے پھر شکاری سے کہے کوئی کہ اپنا جال بھر موسموں کی سختیاں تو بادلوں سی اڑ گئیں آج بھی محفوظ کب ہے دل کا شیشہ بال بھر دھند ہی چھائی رہی آنکھوں میں تم سے کیا کہیں اب ...